پولیس اور پولیسنگ (حصہ دوم)

مدثر حسیب  پير 1 جولائ 2019
پولیس کو غیر سیاسی اور ادارے میں احتساب کے عمل کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: فائل)

پولیس کو غیر سیاسی اور ادارے میں احتساب کے عمل کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: فائل)

ہم اپنی پولیس کو کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں؟ مسائل بتانا آسان، لیکن ان کا حل نکالنا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا اور اب دنیا کہاں کھڑی ہے؟ اس comparative study کے بعد ہم اپنی پولیس کےلیے نتائج اخذ کرلیں گے۔ آج کی دنیا پولیس کی تعریف بدل چکی ہے۔

بلاگ کا پہلا حصہ یہاں سے پڑھیے: پولیس اور پولیسنگ (حصہ اول)

سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ پولیس بنی ہی کیوں؟ پولیس لاطینی زبان کے لفظ Politia سے نکلا، جس کا حقیقی مطلب شہریت یا شہری ایڈمنسٹریشن ہے۔ یہ لفظ بذات خود Polis سے نکلا، جس کا مطلب ہے شہر۔ پولیس کا خیال پیش کرنے والوں کے مطابق یہ ایک ایسی طاقت یا فورس تھی، جس سے شہروں میں قانون اور نظم و ضبط کا بول بالا کیا جاسکے اور جس سے شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بناکر انہیں ایک اچھا اور تہذیب یافتہ ماحول مہیا کیا جاسکے۔ انہیں ایک سسٹم کا حصہ بنایا جائے اور ان کے باہمی مسائل اور جھگڑوں کا حل دریافت کیا جائے۔

پولیس کا تصور تقریباً رومن، یونانی یا قدیم چینی بادشاہت میں کسی نا کسی صورت میں موجود تھا۔ جس میں میئر یا مجسٹریٹ مقامی لوگوں کو ساتھ ملاکر چلاتے تھے۔ یونانی دور میں اس فعل میں زیادہ تر مقامی لوگو ں کے غلاموں کی مدد لی جاتی تھی۔ یہی غلام ہجوم کو منتشر کرنے اور لوگوں کے اجتماعات کی حفاظت پر مامور ہوتے تھے۔ رومی سلطنت تھوڑی جدید تھی، اس نے یہ کام اپنی آرمی سے لیا، بجائے اس کے کہ ایک الگ فورس بنائی جاتی۔ جبکہ قدیم ترین چین میں پولیس کےلیے مخصوص لوگ بھرتی کیے جاتے تھے، جنہیں مجسٹریٹ کے نیچے رہ کر کام کرنا ہوتا تھا۔

کریمنل جسٹس سسٹم کا جدید ترین اور اسلامی اقدار پر مبنی نظام دنیا میں سب سے پہلے خلیفہ دوم عزت مآب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بنایا گیا۔ چونکہ عوام، جرائم اور جسٹس سسٹم کا آپس میں گہرا رشتہ ہوتا ہے، اس لیے آپؓ نے خاص اس پر فوکس کیا اور ایک ایسا پرامن معاشرہ تشکیل دیا، جس کا ثانی نہیں۔ عقل آج بھی حیران ہے۔ آپؓ نے جو اصول وضع کیے، اس کےلیے نہ تو کوئی مشینری چاہیے اور نہ بڑا سا بجٹ۔ پولیس کو ’احداث‘ کہا جاتا تھا اور پولیس آفیسر ’صاحب الاحداث‘۔

اس سسٹم کا سب سے بڑا اصول شاید یہ تھا کہ یہ سسٹم کسی بھی قسم کی مداخلت سے آزاد تھا۔ دوسرا بڑا اصول جو کسی بھی ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کےلیے کافی ہے، وہ تھا ’احتساب‘۔ آپؓ کا احتساب اتنا سخت تھا کہ آپؓ نے اپنے آپ بھی کو بطور خلیفۂ وقت احتساب کےلیے پیش کردیا تھا۔ آپؓ نے اپنے بہت ہی قابل اعتماد ساتھی اور صحابی حضرت محمد بن مسلمہؓ، کو اپنے احتساب کے ڈپارٹمنٹ کا انسپکٹر جنرل بنایا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ کے نیچے پورا ایک اسٹاف کام کرتا تھا۔ آپ تمام گورنروں یا والیوں کے کام پر چیک رکھتے تھے اور باقاعدہ ایک رپورٹ حضرت عمرؓ کو پیش کرتے تھے۔ پھر خلیفہ خود پیش کردہ رپورٹ کو جانچتے تھے۔

تیسرا بڑا اصو ل قانون کی بلاروک ٹوک عملداری تھی۔ شراب کی فروخت کا عمل غیر قانونی ہونے کا مطلب صرف غیرقانونی ہونا ہی تھا۔ نہ کا مطلب نہ اور ہاں کا مطلب ہاں تھا۔ قانون سب کےلیے ایک تھا، چاہے قانون توڑنے والا کسی بھی رنگ، نسل، ذات، برادری، مذہب کا ہو یا حکومت کے ایوان میں بیٹھا ہو۔ کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔ عدل اور قانون سب کےلیے یکساں تھا۔ آفیسرز مقامی منتخب کیے جاتے تھے، تاکہ وہ مقامی لوگوں کو سمجھ سکیں۔ گورنر یا والی اپنے علاقے کا قاضی منتخب کرتا تھا۔ اوپر سے ہوئی درست سلیکشن اور احتساب نیچے تک ٹرانسفر ہوتی تھی اور آخر کار اس کا اصل فائدہ عوام کو پہنچتا تھا۔

آپؓ کا ایک اور کارنامہ، جس سے معاشرہ امن کی طرف گامزن ہوا وہ ’انویسٹی گیشن‘ کا نظام تھا۔ آپؓ راتوں کو خود بھی گشت کیا کرتے تھے اور اپنے آفیسرز کو بھی اس کی نصیحت کرتے تھے۔ جب بھی کسی کا گورنمنٹ کےلیے انتخاب کیا جاتا، سب سے پہلے اس کے اثاثہ جات کا حساب لگایا جاتا اور اگر دوران ملازمت اثاثوں میں کوئی غیر معمولی اضافہ سامنے آتا تو آفیسر کو واپس بلالیا جاتا، جبکہ اس کی پراپرٹی ریاست فوری ضبط کرلیتی تھی۔

آپؓ نے اپنے اسٹاف کو رشوت ستانی سے بچانے کےلیے ان کی تنخواہیں زیادہ لگائیں۔ آپؓ نے کوڈ آف کنڈیکٹ بنایا۔ جس میں آپؓ نے سختی سے منع فرمایا کہ کوئی افسر رعایا میں سے کسی کو منہ پر تھپڑ نہ مارے، نہ کسی کی ذاتی پراپرٹی ہتھیائے، اگر کوئی ایسا کرتا تو اس کے خلاف آپؓ خود ایکشن لیتے۔ آپؓ نے افسروں کو اسوۂ رسولؐ کا حکم دیا۔ جس کا سیدھا سادا مطلب بیک وقت گورنمنٹ آفیشلز اور رعایا میں علم کی ترویج تھا۔

ہم آج کی پولیس فورس کی بات کریں تو یہ سب سے پہلے فرانس میں، اور بعد میں انگلینڈ میں بنائی گئی۔ جب اس پولیس کا خاکہ بن رہا تھا تو یہ بات بھی زیر غور آئی کہ اسے سیاسی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اور ایسا ہوا بھی۔ لیکن انھوں نے اس پر قابو پالیا۔ ان ملکوں میں آج کی غیر سیاسی پولیس وجود میں آئی، جو وزارت داخلہ کے نیچے خودمختار رہ کر کرمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ عوام کی بھلائی اور دفاع کا کام کرتی ہے، نہ کہ سیاسی ہتھکنڈوں کےلیے استعمال ہو۔

یہ پولیس کام کیسے کرتی ہے؟ پولیس کی اب وہ تعریف نہیں ہے جو عام لوگ سمجھتے ہیں۔ پولیس کا کام اب مجرم پکڑنا نہیں ہے، بلکہ عوام کو جرم سے بچانا ہے۔ اگر ہم گورا سرکار کے اپنے ملک کی مثال لیں تو ہر شائیر یا ایریا کا پولیس چیف اس بات پر فوکس کرتا ہے کہ میرے ایریا میں فلاں جرم کتنی بار اور کیوں ہورہا ہے؟ اور اس سے عام لوگو ں کو کیسے بچایا جاسکتا ہے؟ اب اس بات پر بحث اور کانفرنسز ہورہی ہیں کہ کیا سائنس پولیس کےلیے استعمال کی جائے؟ یا پولیس کےلیے ایک الگ سائنس بنائی جائے؟ پھر یہ بحث ہے کہ ریاضی، شماریات، بایولوجی، کیمسٹری اور میڈیکل سائنسز کو پولیس سائنس کے اندر کیسے ضم کیا جائے؟ تاکہ جرائم میں کمی آسکے۔

یہ پولیس سائنس تب تک نہیں بن سکتی، جب تک پولیس خود نہ بنانا چاہے اور جب تک پولیس یہ نہ سمجھ لے کہ اس کا فرض چور کو پکڑنا نہیں بلکہ چوری ہونے سے عوام کو بچانا ہے۔ کوئی بھی پولیس فورس تب تک کام نہیں کرسکتی، جب تک وہ عوام کو اور اس کے رویوں کو نہیں سمجھے گی۔ پولیس یہ سمجھ لے کہ وہ عوام ہی ہے، بس فرق صرف اتنا ہی ہے کہ وہ باوردی عوام ہے، جو بغیر وردی عوام کے مسائل حل کرنے کےلیے آئی ہے۔ اور اس کےلیے ان کو تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔

اس بات پر ریسرچ ہوچکی ہے کہ ہر ملک کے لوگوں کا اپنا ایک وضع دار ماحول ہوتا ہے، جو وہاں کے لوگوں کی سوچ اور رویوں سے بنتا ہے۔ انگلینڈ کی پولیس پاکستان میں اور پاکستان کی انگلینڈ میں نہیں چل سکتی، حتیٰ کہ ایک ہی ملک میں مختلف علاقوں کے لوگوں کی مختلف سوچ اور کلچر ہوسکتا ہے۔ اس طرح ان کو کنٹرول کرنے کےلیے اس کلچر کو سمجھنا اور زیادہ سے زیادہ مقامی لوگوں کے ساتھ تعلقات کو پروان چڑھانا ہر تھانے اور تھانے دار کا فرض ہے۔ اور اس وضع، سوچ اور کلچر کو مقامی لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی شکل وصورت، رنگ ونسل کو سمجھنا بھی پولیس کی ذمے داری ہے۔ جب تک پولیس مقامی لوگوں میں مقامیوں کی طرح نہیں رہے گی، کبھی بھی لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ اگر پولیس چھوٹے جرائم رکوانے میں ناکام ہوجاتی ہے تو معاشرہ بڑے جرائم کی طرف لازمی جائے گا۔ اس بہت ساری بحث کے بعد ایک قسم کا طریقہ کار وضع کرتے ہیں کہ کس طرح پولیس کو Re-engineer کیا جاسکتا ہے۔

1- پولیس سیاسی مداخلت سے مکمل آزاد رہ کر کام کرے۔ ہمارے ملک میں یہ سسٹم بالکل فلاپ ہوچکا ہے۔ لیکن امریکا اور اسپین میں پولیس لوکل ممبرز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ وہاں کے ادارے ہمارے اداروں سے مختلف ہیں، اس لیے یہاں صورتحال بھی مختلف ہوگی۔ پولیس مکمل طور پر آزاد، خودمختار ہو اور اپنے مرکز کو رپورٹ کرے۔ خاص طور پر مقننہ کے کسی ممبر کا کام یہ نہیں کہ جاکر تھانیدار کی کرسی پر بیٹھ جائے۔

2- ہر تھانے میں مقامی لوگوں کی معقول تعداد موجود ہو، جو مقامی لوگوں کی رہنمائی اور مدد کرسکے۔

3- ہماری پولیس کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ نفسیاتی تربیت ہے۔ سب سے پہلے انہیں یہ باور کروایا جائے کو وہ عوام ہی ہیں اور عوام ہی کےلیے ہیں۔ وہ ایک پل ہیں ریاست اور عوام کے درمیان۔ فورس کا استعمال سب سے آخر میں ہوگا، پہلے میل ملاپ اور ہم آہنگی تو پیدا کریں۔ ذہن کے ساتھ ذہن تو ملائیں اور اس کام کے پیسے انہیں عوام کے ٹیکس سے ہی ملتے ہیں، کوئی فری آفر نہیں لگی۔ خدمت کا جذبہ تو بنائیں۔ اور ساتھ میں پولیس ملازم عجیب قسم کی غیر اضطراری حرکات بھی کرتے ہیں، جیسے گالم گلوچ، مکا تھپڑ حتیٰ کہ ان سے گولی بھی غیر اضطراری طور پر چل جاتی ہے۔ اس کےلیے بھی نفسیاتی تربیت چاہیے۔

4- پولیس ڈاکٹرائن بنایا جائے، جس میں آسان الفاظ میں پولیسنگ پالیسی وضع ہو، جس تک عوام کی بھی رسائی ہو۔

5- پولیس کو تمام سہولتیں مہیا ہوں۔ اچھی تنخواہ، سوشل سیکیورٹی، بچوں کی تعلیم میں سہولتیں، تاکہ ملازم رشوت کی طرف کم سے کم مائل ہوسکیں۔ اس کے علاوہ موسم سے لڑنے کےلیے یونیفارم، ڈیوٹی کے دوران گاڑیاں، آلات اور مطلوبہ دیگر اشیا۔

6- سی آئی ڈی کا موثر نظام اور علاقے کے جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا جرائم میں کمی کا سبب بنتا ہے، جس کی بہت ضرورت ہے۔

7- احتساب کا عمل سخت ترین ہو۔ عوامی شکایات اور مسائل ضلعی اور صوبائی لیول کے افسروں تک پہنچانے کا موثر انتظام ہو، جس کےلیے آئی ٹی اور ویب کی سہولیات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ جس محکمے یا ادارے میں احتساب جتنا موثر ہوگا اتنا ہی اس کی پرفارمنس اچھی ہوگی۔ احتساب اندرونی ہو، کسی بھی ایم این اے، ایم پی اے کے اثر سے آزاد ہو۔ اندرونی طور پر لوکل اور مرکز کے لیول پر ہوسکتا ہے۔ پولیس میں احتساب کا ایک ادارہ موجود بھی ہے، جسے مزید موثر کرنے کی ضرورت ہے۔ احتساب کو فرد کے حساب سے بجٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ ایک فرد کےلیے بجٹ اس کی تنخواہ کے ساتھ متوازی ہو۔ اگر کارکردگی بہتر نہ ہو تو وہی بجٹ ملازم کی تنخواہ سے کاٹا جائے۔ کیونکہ اسے تنخواہ کام اور کارکردگی کی ہی ملتی ہے۔ پوسٹنگز کا نظام شفاف ہو، اندرونی ہو اور کوئی بھی پوسٹنگ کسی لوکل ممبر، پارلیمانی ممبر یا پارلیمان سے پوچھ کر نہ ہو۔ چاہے آفیسر لیول کی ہو یا نچلے لیول کی۔ ہمارے ہاں آئی جی سے لے کر تھانیدار اور محرر تک سب پارلیمان اور پارلیمانیوں سے پوچھ کر ہوتا ہے۔ عوام اور ہمارا سسٹم سمجھے کہ پارلیمان کا کام کیا ہے؟ اور وہ کیا کررہے ہیں؟ جاپان میں احتساب کا نظام خودمختار ہے اور کرائم ریٹ تقریباً صفر۔

8- جسمانی ساخت، شکل وصورت پر ملٹری اصول لاگو ہوں۔ توند، سستی اور کاہلی کی علامت، جب کہ باقی وضع قطع بھی شریفانہ ہو، جو عوام کو بھلی محسوس ہو۔

9- ہماری افواج دنیا کی قابل ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں، کیونکہ انھوں نے کبھی بین الاقوامی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ اور عوام بھی ان کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ کیونکہ عوام کے ساتھ ان کا رشتہ مضبوط ہے۔ ہماری پولیس کو ٹریننگ کی خاص ضرورت ہے۔ پولیس انٹرنیشنل ٹریننگ اسکول میں اپنے دستے بھجوا کر تربیت کو اپ ڈیٹ کرے۔ پوری دنیا میں پولیس کانفرنسز ہوتی ہیں، ان میں شریک ہوکر اپنی دنیا سے عام دنیا میں واپس آئے۔ یورپ کے علاوہ ایشیا میں بھی پولیس ٹریننگ اسکو ل موجود ہیں، جیسے سنگاپور، چائنا، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات میں نہایت اچھے اسکولز موجود ہیں۔ اپنا ٹریننگ اسکول بھی سیٹ کیا جاسکتا ہے۔ جس کا بجٹ افسروں کے استعماری طرز کے دفتر اور رہائشیں فروخت کرکے پورا کیا جاسکتا ہے۔

10- سی ایس ایس کا امتحان اردو میں ہو۔ تمام سرکاری دستاویزات اردو میں ہوں۔ صاحب کو اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ انگریزی باقی زبانوں کی طرح ایک زبان ہے، جسے کوئی بھی سیکھ سکتا ہے، نہ کہ یہ کوئی سائنس ہے۔

11- ایف آئی آر کا نظام آسان ترین ہو۔ یہ ایک شکایت کی طرح ٹریٹ کی جائے، نہ کہ عدالتی کیس ہی اس کو بنیاد بناکر چلایا جائے۔ جھوٹی گواہی اور جھوٹے گواہوں کے خلاف سخت ترین ایکشن ہو، تاکہ یہ انڈسٹری بند ہو اور لوگ حلال رزق کی تلاش کریں۔ یہ ایک ثواب کا کام ہوگا۔

12- یہ بات بھی ریسرچ سے ثابت ہے کہ کسی ادارے یا کمپنی کو Re-engineer کرنا مشکل کام ہے، لیکن ایسا ہوا بھی ہے۔ مثلاً 1997 میں فرانس نے لوکل لیول پر پولیس کو مکمل طور پر Re-engineer کیا۔

اس جیسے اور کئی نکات ہیں جو بیان کیے جاسکتے ہیں، لیکن اصول تو یہ ہے کہ ان ساری شکایات کی ضرورت ہی نہ پڑے اور عوام کو ان کا جائز حق ملے۔ حکومت قانون سازی کی مدد سے پولیس کو ایک کارآمد محکمہ بنائے، جو کہ اس وقت ملک کی ضرورت بھی ہے اور عالمی معیار بھی۔ ایک پولیس کے ٹھیک ہونے سے ہمارا معاشرہ انصاف، ترقی اور امن پسندی کے راستے پر گامزن ہوسکتا ہے اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے، جو ہر کسی کو نظر آئے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مدثر حسیب

مدثر حسیب

بلاگر نے مالیات (فائنانس) کے شعبے میں ایم فل کیا ہوا ہے اور دس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ آج کل متحدہ عرب امارات میں بھی شعبہ مالیات میں کام کررہے ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔