پروڈکٹ کی تشہیر یا معاشرے کی تخریب؟

رضوانہ قائد  جمعرات 4 جولائ 2019
ہمارا ردِعمل یہ فیصلہ کرنے کےلیے کافی ہے کہ ہم اشتہار کے ذریعے پروڈکٹ کی تشہیر پسند کررہے ہیں یا معاشرے کی تخریب؟ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین گریب)

ہمارا ردِعمل یہ فیصلہ کرنے کےلیے کافی ہے کہ ہم اشتہار کے ذریعے پروڈکٹ کی تشہیر پسند کررہے ہیں یا معاشرے کی تخریب؟ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین گریب)

’’تم ایک لڑکی ہو‘‘
’’پڑھ لیا، اب گھر سنبھالو‘‘
’’گھر میں رہو‘‘
’’چار دیواری میں رہو‘‘
اور آخر میں یہ پیغام:
’’یہ جملے نہیں، داغ ہیں، یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے!‘‘

کنزیومر پروڈکٹس بنانے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے مشہور ڈٹرجنٹ کا یہ اشتہار سب کی نظروں سے گزرا، مگر کھٹکا چند ہی کی نظروں میں۔

قرآنِ پاک کے واضح حکم ’’اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو‘‘ (سورۂ احزاب، آیت 33) کا استہزاء اڑاتا یہ اشتہار محض تشہیر نہیں، سوچی سمجھی سازشی (فتنہ انگیز) تعلیم ہے۔ اس میں عورت کی حیا، پاک دامنی اور محافظت سے متعلق قرآنی حکم سے بغاوت کی ترغیب دی گئی۔ لڑکیوں کو سکھایا جا رہا ہے کہ لڑکی ہونا، گھر سنبھالنا، گھر میں رہنا جیسے اسلامی احکام اور مشرقی اقدار عورت کےلیے داغ کی صورت میں باعث شرم ہیں۔ آزادی کےلیے ان سے چھٹکارا ضروری ہے۔

کمال درجے کی بے باکی دیکھیے کہ کپڑوں کی دھلائی کا، ڈٹرجنٹ پاؤڈر کا اشتہار ہے اور کپڑوں کی گندگی (داغ دھبوں) کی دھلائی کا ذکر تک نہیں!

لگتا ہے اشتہار کا مقصد صفائی و پاکی حاصل کرنا اور کپڑوں کو اجلا بنانا نہیں بلکہ کسی طے شدہ سازش اور منصوبے کے ساتھ حیا، پاک دامنی اور چار دیواری کے خلاف کوئی مہم چلانا ہے۔ عورت ہونے اور چار دیواری کے قرار کو داغ ثابت کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ عورت کا مطلب ہی ’’پوشیدہ‘‘ ہے، اور یہ پوشیدگی چار دیواری کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیاں ٹین ایج کے عبور ہوتے ہی گھروں سے آزاد نہیں ہوجاتیں۔ والدین کے زیرِ سایہ تعلیم اور ہنر حاصل کرکے باوقار پیشے اختیار کرتی ہیں۔ حسبِ اجازت اور حسبِ ضرورت ملک و ملت کی ترقی میں اپنا شایانِ شان کردار ادا کرتی ہیں۔

لیکن یہ سادہ سا ماڈل ہوس کے پجاریوں کو کیوں کر برداشت ہو؟ انہیں تو بِلا روک ٹوک جوان جسم تک رسائی درکار ہے، جو انہیں ہماری چار دیواری اور مضبوط خاندانی نظام کے باعث آسانی سے میسر نہیں۔ اسلام ایسا روشن روشن خیال مذہب ہے جس نے دورِ جاہلیت میں ظلم و جبر کی قید میں جکڑی عورت کو قرآن کے زندہ جاوید احکام کے ذریعے آزادی دلائی۔

مردوں کے نام نہاد جبر کا رونا رونے والی آج کی عورت، دورِ جاہلیت کی زندہ درگور عورت کا تصور بھی کرسکتی ہے؟ اسلام نے عورت کو ہر حیثیت میں چار دیواری کا قانونی تحفظ دے کر صنفی دائرے اور اسلامی حدود میں اس کی آزادی کو برقرار رکھا ہے۔ چار دیواری کے فہم اور اہتمام کے ساتھ جو عورتیں (مجبوراً یا ضرورتاً) گھروں سے باہر نکل کر خاندان اور معاشرے کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچا رہی ہیں، عفت و پاک دامنی کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ ابلاغِ دین اور خدمتِ خلق کے کاموں کی الگ ہی مثالیں ہیں۔ ان خواتین کا حقیقی و پُرسکون ٹھکانہ بالآخر گھر یعنی چار دیواری ہی ہے۔ نیز جو خواتین گھروں صرف میں رہ کر خاندان کی تعمیر اور نسلوں کی تربیت کے فرائض انجام دے رہی ہیں، وہ اس حکم کی بجا آوری کی قابل تقلید فخریہ مثال ہیں۔

اشتہار کے تعلق سے تجارتی کمپنیاں اپنی سیل بڑھانے کےلیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتی ہیں، چاہے وہ اسلامی احکام کا مذاق بنانا ہی کیوں نہ ہو۔ مذکورہ کمپنی کی اس بے باکی پر سوشل میڈیا پر فوری ردِعمل نظر بھی آیا۔ احتجاج کرنے والوں نے پروڈکٹ کے بائیکاٹ کی اپیل اور عزم بھی کیا۔

بائیکاٹ، احتجاج کی یقیناً مؤثر قسم ہے؛ مگر ایسے بائیکاٹ اور ایسی غیرت کا کیا فائدہ جو چند دن کی پوسٹوں اور بیانیوں سے آگے نہ بڑھ سکے؟ بائیکاٹ کا فائدہ تو جب ہے کہ متعلقہ کمپنی نہ صرف اپنے خسارے کی وجہ سے کام بند کرنے پر مجبور ہوجائے بلکہ بائیکاٹ کی ’’وجہ‘‘ کے سدِباب کےلیے بھی کمربستہ ہو۔ مثلاً اپنی زیادتی کو غلطی مانتے ہوئے معافی مانگے اور آئندہ اس کا اعادہ نہ کرنے کا عہد بھی کرے اور قومی سطح پر اس کا اعلان بھی کرے۔ نیز عہد شکنی کی صورت میں قانونی طور پر قابلِ گرفت بھی ٹھہرے۔

سوچنے کی بات ہے، قرآنی حکم کے استہزاء کا یہ اشتہار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ٹی وی چینلز پر چلا۔ کچھ احتجاج نظر آیا بھی تو سوشل میڈیائی مجاہدوں کے محاذ پر، مگر حکومت کی عَلَم بردار یا طلب گار کسی سیاسی جماعت یا سیاسی لیڈر کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر مزاحمت نظر نہیں آئی۔ اوروں سے تو کیا گِلہ، خود اسلام کے نام پر وجود رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے نزدیک بھی یہ اشتہار ’’میجر اِیشو‘‘ یا قومی و ملی مسئلہ نہ بن سکا۔

ایک ایسی تجارتی کمپنی جس کی پروڈکٹ پر عوام کی بہت بڑی تعداد اعتماد کرتی ہے، اس کی غیر اسلامی حرکت بلکہ اسلامی حکم کا کھلم کھلا مذاق اڑانے پر قومی و سیاسی سطح پر ذمے داری سے احتجاج ہونا کیا مِلی تقاضا نہیں؟

احتجاج کا مطلب صرف یہی نہیں کہ جلوس نکالے جائیں اور مظاہرے کیے جائیں۔ لیڈر حضرات کا ایک بیان، اپنے چاہنے والوں سے بائیکاٹ کی اپیل اور متعلقہ کمپنی کے نام اہم شخصیات کے مراسلے، ان سب کی بہت اہمیت ہے لیکن اس کےلیے احساس کا زندہ ہونا ضروری ہے۔

بحیثیت قوم، اس اشتہار پر ہمارا ردِعمل فیصلہ کرنے کےلیے کافی ہے کہ ہم اشتہار کے ذریعے پروڈکٹ کی تشہیر پسند کررہے ہیں یا معاشرے کی تخریب؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔