احوال دو موذیوں کے جھگڑے کا

سعد اللہ جان برق  پير 9 ستمبر 2013
barq@email.com

[email protected]

بات مذاق میں شروع ہوئی تھی، پھر سنجیدگی تک پہنچی ہے اور اب رنجیدگی کے مرحلے میں داخل ہو رہی تھی، دونوں طرف سے چوٹ برابر کی تھی۔ علامہ بریانی عرف برڈ فلو نے اخبار میں بمقام سوات ڈینگی بخار کی خبریں پڑھتے ہوئے ناہنجار چشم گل چشم عرف قہر خداوندی سے پوچھا، تم بھی تو پچھلے دنوں سوات گئے تھے نا… قہر خداوندی نے کہا … ہاں گیا تھا کیوں، علامہ دھیرے سے بولے، سوات میں ڈینگی بخار کی وجہ اب سمجھ میں آئی تم وہاں گئے تھے تو نتیجہ تو یہی نکلتا تھا، قہر خداوندی بولا … مطلب کیا ہے تمہارا … کہنا کیا چاہتے ہو …؟ہم بھی سمجھ گئے کہ علامہ قہر خداوندی کی سابق عرفیت ’’ڈینگی مچھر‘‘کے حوالے سے بات کر رہے تھے … دخل درمعقولات کرتے ہوئے ہم نے علامہ کو سمجھایا کہ ڈینگی مچھر تو یہ پہلے تھا اب تو قہر خداوندی ہے۔ علامہ بولے … دونوں ایک ہی تو ہیں ،کیا قہر خداوندی اور کیا ڈینگی مچھر اور پھر نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ناہنجار قہر خداوندی کو اس پر طیش آنا ہی تھا بھڑک گیا، بولا میری چھوڑو ۔۔۔ اپنی کہو تم نے تو بجلی جیسی چیز کا خانہ خراب کیا ہوا ہے، اس معاملہ کا ہمیں پتہ نہیں تھا اس لیے تفصیل پوچھی کہ علامہ اور بجلی کا جائز یا ناجائز تعلق کیا ہے، علامہ دانت پیستے رہ گئے اور قہر خداوندی نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ بولا ، تمہیں یاد ہے کہ اسے بجلی کا شاک لگا تھا ۔۔۔ یہ بات ہمیں یاد تھی، چار پانچ سال پہلے علامہ کو بجلی کا زبردست شاک لگا تھا، شاک اتنا زبردست تھا کہ جب ہم پہنچے تو علامہ کو لوگوں نے زمین میں دفن کیا ہوا تھا ۔۔۔ صرف گردن باہر تھی، لوگوں نے بتایا کہ بال بال بچ گئے ورنہ اب تک نام کے ساتھ مرحوم کا اضافہ ہو چکا ہوتا، رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت ۔۔۔ ناہنجار قہر خداوندی اس وقت بھی زیر لب بولا تھا کہ ہاں بجلی کی قسمت تھی جو بچ گئی، اس کے بعد کم بخت جب بھی بجلی چلی جاتی تھی یہی پرچار کرتا رہتا تھا کہ علامہ نے جب سے بجلی کو شاک ماری ہے تب سے بے چاری کی یہ حالت ہو گئی ہے، آج وہ اس بات کا پھر حوالہ دے رہا تھا، ٹکر برابر کی تھی، علامہ سوات میں ڈینگی بخار کا ذمے دار قہر خداوندی کو بتا رہا تھا اور قہر خداوندی کا کہنا تھا کہ یہ لوڈ شیڈنگ وغیرہ علامہ بریانی کی لائی ہوئی مصیبت ہے۔

ہم نے علامہ کو یوں تابڑتوڑ حملے ناہنجار پر کرتے ہوئے دیکھا تو سوچا اس مصیبت کے وقت میں اس کی کچھ طرف داری کریں، بھلے ہی وہ قہر خداوندی ہو ناہنجار نابکار ہو بلکہ ڈینگی بخار ہو لیکن ہے تو ہمارا دوست ہی ۔اس لیے علامہ سے بولے، علامہ تمہاری یہ باتیں سراسر الزام تراشی ہیں، ایک تو چشم گل چشم… اب ڈینگی مچھر نہیں رہا ہے اور آپ نے خود ہی اسے نئے خطاب قہر خداوندی سے نوازا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہ ناہنجار تو یہاں اپنے گاؤں میں بھی رہتا ہے یہاں تو اس نے کسی کو نہیں کاٹا ہے، مطلب یہ کہ یہاں تو لوگ اس کے ضرر سے بچے ہوئے ہیں ،گاؤں کے کسی ایک فرد کو بھی ڈینگی بخار نہیں ہوا ہے، علامہ ترنت بولے … یہی تو اس کا طریقہ واردات ہے… بلکہ یوں کہو کہ چالاکی ہے اپنے گاؤں کے لوگوں کو کاٹے گا تو رہے گا کہاں…

اس لیے وارداتیں ہمیشہ باہر کرتا رہتا ہے، علامہ فائرنگ کر رہا تھا اور ناہنجار کو موقع ہی نہیں دے رہا تھا کہ وہ بھی دفاع میں کچھ بولے یا حملہ کرے، لیکن اس کی خوش قسمتی تھی کہ علامہ صبح ہی ایک چہلم کھا کر آئے تھے جو اچھا خاصا مرغن بتایا جاتا تھا، اس لیے پیاس لگی اور جب تک وہ بہت زیادہ جگر کی آگ بجھاتے … ناہنجار ہلہ بول چکا تھا لیکن تم نے تو اپنوں کا بھی خیال نہیں رکھا اور بجلی کو ایسا ڈسا ایسا ڈسا کہ بے چاری دو منٹ چلتی ہے تو ہانپ کر رہ جاتی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتی جب تک تم نے اسے شاک نہیں مارا تھا ٹھیک ٹھاک اپنا کام کرتی تھی، صبح سے شام تک اور پھر شام سے صبح تک دم لینے کو بھی نہیں رکتی تھی۔

ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ دونوں میں سیز فائر کیسے کرایا جائے‘ بات موجودہ الزامات کے دائرے سے نکل کر ممنوعہ حدود میں داخل ہو رہی تھی، ناہنجار نے علامنی کی کچھ صفات کا خلاصہ کیا تو علامہ نے اس گونگی کی بیوی اور سالوں کے حوالے سے کچھ ناگفتہ قسم کے انکشافات کیے، گذشتہ ہفتے کی ایک واردات کا قصہ سناتے ہوئے علامہ نے کہا کہ بیوی کی شکایت پر چھ کے چھ سالے آگئے تھے جو مختلف کام کرتے تھے ان سب نے اپنے اپنے کام اور پیشے کے حساب سے اسے سمجھایا سب سے بڑا سالا تندور میں روٹیاں پکاتا تھا چنانچہ اس نے اسے آٹے کی طرح گوندھا پیڑے کی طرح گھمایا اور روٹی کی طرح پھیلایا، دوسرا قصائی کا کام کرتا تھا، اس نے پہلے ناہنجار کو جانو رکی طرح پہلے گرایا پھر اس کی کھال اتاری، تیسرا لوہار تھا اس نے اسے گرم لوہا سمجھ کر کوٹا ہتھوڑے مار مار کر اس کے مختلف اوزار بنائے،

چوتھا سبزی بیچتا تھا ، پانچواں اسی وقت کرکٹ کا میچ ادھورا چھوڑ کر آیا تھا، بیٹ اس کے ہاتھ میں تھا چنانچہ اس نے اسے گیند سمجھ کر اپنی ادھوری سینچری پوری کر لی، آخری چھٹا سالا فٹ بال کا کھلاڑی تھا، اس نے دروازے کو گول سمجھ کر پورے چھ پنٹلٹی کک مارے، جواب میں ناہنجار نے علامنی کے بارے میں کچھ کہنا شروع کیا ، ہم سمجھ گئے کہ دونوں چپ ہونے والے نہیں ہیں، اس لیے آہستہ آہستہ اٹھنے لگے، تھوڑی دیر میں ہم آخری سننے والے تھے جو میدان چھوڑ گئے، دونوں اسی طرح ایک دوسرے پر زور و شور سے حملے کر رہے تھے، تھوڑی دیر بعد دونوں نے اردگرد دیکھا تو کوئی بھی سننے والا نہیں تھا۔

وہ دونوں بھی چپ چاپ رہے پھر بیک وقت مسکرائے پھر ہنس پڑے منظور تھا پردہ اپنا … دونوں اپنی اپنی راہ لے کر چلے گئے اور یہ فیصلہ ہی نہیں ہو پایا کہ سب سے زیادہ منحوس اس گاؤں کے لیے کون ہے مسجد والا یا حجرے والا

ہماری جان پر بھاری تھا غم کا افسانہ
سنی نہ بات تو کسی نے تو ’’گھر‘‘ گئے چپ چاپ

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔