کیا فلاحی اسلامی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہوپائیگا؟

ظفر سجاد  اتوار 7 جولائ 2019
قوم جنرل ضیاء الحق کے ’’نفاذ اسلام‘‘ اور جنرل مشرف کے ’’نظریہ سافٹ امیج‘‘ کے بعد کسی نئے دھوکے کے متحمل نہیں ہوسکتے

قوم جنرل ضیاء الحق کے ’’نفاذ اسلام‘‘ اور جنرل مشرف کے ’’نظریہ سافٹ امیج‘‘ کے بعد کسی نئے دھوکے کے متحمل نہیں ہوسکتے

جب سے عمران خان اور تحریک انصاف نے پاکستان کو ’’ ریاست مدینہ ‘‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ضیاء الحق کے ’’دور خلافت‘‘ اور پرویز مشرف کے’’  نظریہ سوفٹ امیج‘‘ کی ڈسی ہوئی قوم خوفزدہ اور سہمی ہوئی ہے کہ اب کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے کیونکہ اس صدی میں عالم اسلام اور مسلمانوں کی سرفرازی و سربلندی کیلئے کام کرنے والے راہنما ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف الیکشن دھاندلی کی تحریک چلائی گئی جو بعد میں نفاذ نظام مصطفیٰ ؐمیں تبدیل ہوگئی۔

؎اس تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے حکومت پر قبضہ کیا ملک میں مارشل لاء لگا دیا، تحریک میںحصہ لینے والی دینی جماعتوں کو بھی وزارتوں سے نواز کر ان کی ’’خدمات‘‘ کا اعتراف کیا گیا، پھر جنرل ضیاء الحق نے عوام کو یقین دلایا کہ اب ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ہونے والا ہے، ٹی وی میں آنے والی انانسروں کو دوپٹے اوڑھا دیئے گئے۔ اچھرہ میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 8 سالہ ( پیو ) بچے کے تین قاتلوں کوگرفتار کر کے کیمپ جیل کے باہر سر عام پھانسی پر لٹکا دیا گیا، گویا یہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جانب پہلا قدم تھا۔ لوگوں کے دلوں میں مارشل لاء کی ہیبت چھا گئی۔ جمہوریت کی اہمیت مدہم پڑگئی۔

ضیاء الحق کے غیر اعلانیہ ’’دور خلافت ‘‘ کا آغاز ہوگیا۔ اس ’’دور خلافت ‘‘ میںکچھ صنعتکاروں اور پیپلزپارٹی کے مخالف جاگیرداروں، سرداورں، گدی نشینوں اور زمینداروں کی لاٹری نِکل آئی۔ اسی دور خلافت میں ’’افغان جہاد‘‘ لڑا گیا ۔ روس کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا ۔ اس جنگ میں قیام پاکستان سے قبل قائم ہونے والی کچھ دینی جماعتوں نے بھی روس سوشلزم اور کیمونزم  کے خلاف ہونے والے جہاد میں اپنا مطلوبہ کردار سرانجام دیا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی ان جماعتوں کو جو اہمیت حاصل تھی وہ ’’ جہادافغان ‘‘ کے بعد تقریباً ختم ہوگئی ۔ بھٹو کے خلاف تحریک اِن جماعتوں کا نقطہ عروج تھی۔

دینی جماعتوں کے علاوہ ضیاء الحق کی اہمیت بھی ختم ہوگئی وہ اور جہاد افغان میں حصہ لینے والے دوسرے نمایاں’’سپہ سالار‘‘ بھی جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ پھر پیپلز پارٹی اور نوازشریف کی مسلم لیگ کی حکومتوں کا تسلسل شروع ہوا، میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں اُس وقت کسی ’’ جد ید تکنیک‘ ‘ کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کا طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی، مگر اُن کا طیارہ بخیریت اُتر گیا اور ملک میں ایک نیا مارشل لاء بھی لگ گیا ۔ پھر پرویز مشرف نے ملک میں ’’ نظریہ سوفٹ امیج‘‘ کا نعرہ بلند کیا، اس نعرہ کے بلند ہوتے ہی سب سے پہلے ٹی وی چینلوں کی اناونسرز کے دوپٹے اترے پھر عام خواتین کی اکثریت کے ، دوپٹوں کی جگہ ’’علامتی پٹی‘‘ نے لے لی جو کہ جسم کو ڈھاپنے کی بجائے فیشن کے طور پر گلے میں لٹکائی جاتی تھی ۔ اُن کے دور میں طا لبان اور  مذہبی جنونینوں‘‘ کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا، مدار س اور ان  مدرسوں میں دین کی تعلیم حا صل کرنے والے طالبعلموں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جانے لگا ۔ ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ لگا کر دین کو دوسرے نمبر پر لا کر نظریہ پاکستان کے متعلق ہی شکوک و شبہات پیدا کردیئے گئے۔

بلکہ واضح طور پر عوام کو تاثر دیا گیا کہ پاکستان کو مکمل اسلامی ریاست بنانے اور دین پر عمل کرنے کو باقی دنیا میں ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھا جا رہا ہے، پا کستان کو ایک پسماندہ  ریاست قرار دیا جا رہا ہے اور عوام کو دقیانوسی سمجھا جا رہا ہے، ان کے دور میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو بھی ایک نا پسندیدہ شخصیت قرار دے دیا گیا، ان کے دور میں پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ گئی مگر اس دفعہ ان مجاہدین کے خلاف مدد کی ضرور ت پڑی جنہوںنے افغان جہاد میں حصہ لیا تھا۔ اب ان مجاہدین کو طا لبان کا نام دیا گیا اور ا نھیںکسی اور طریقے سے استعما ل کیا گیا۔

پرویز مشرف جب اپنی خصوصی ذمہ داریاں پوری کر چکے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا ’’ایک ایک دور اور چلا، نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں ’’انکشاف ‘‘ ہوا کہ وہ ملک سے مال  لوٹ کر دوسرے ممالک میں جمع کروا رہے ہیں۔ عوام اور ریاست سے مال  لوٹ کر دوسرے ممالک میں جمع کروانے پر عمران خان  پہلے طیش میں آئے پھر حکومت میں آئے اور انھوں نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے عزم کا اظہار کردیا، ماضی کے واقعات اور تجربات نے اس قوم کو بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ میڈیا نے بھی قوم کو باشعور بنانے میں اپنا کردار سرانجام دیا ہے۔ اب پوری قوم سہمی پڑی ہے کہ اس دفعہ کیا ہونے والا ہے۔

کیو نکہ ریاست مدینہ اس کائنات کے سب سے بڑے راہنما نے قائم کی تھی، جن کی اپنی ذات فخر انسانیت ہے ، فخر موجودات ہے، جو صادق اور امین تھے، جو آپﷺ کے نزدیک آیا اس کی کایا پلٹ گئی، ان کی زندگیاں تبدیل ہو گئیں،آپﷺ نے انسانوں کی کردارسازی کا جو کام شروع کیا وہ پوری دنیا میں پھیل گیا، عام انسان مسلمان بنا تو تنہائی میں بھی گناہ کرنا تو در کنار، گناہ کے متعلق سوچتا بھی نہیں۔ آپﷺکے بعد بھی خلفاء اور مسلم راہنماؤں نے سب سے پہلے عوام کی کردار سازی اور پاکیزہ سوچ پر زور دیا، پھر ریاست سے ہر اُس چیزکو ختم کیا کہ جس کے ختم کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا اور ہر اُس کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ سنتﷺ کے مطا بق زندگیاں گزارنے کیلئے مخصوص فضا اور ماحول قائم کیا گیا۔

اب بنی گالہ میں رہا ئش پذیر عمران خان نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تو قوم اس انتظار میں ہے کہ اب کیا ’’ ظہور پذیر ‘‘ہونے والا ہے۔ عمران خان ایسی پالیسیاں ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو ضیاء الحق کے ’’اسلامی دور‘‘ اور مشرف کے نظریہ سو فٹ امیج سے مختلف ہیں۔ مگر اس کاسنگین پہلو یہ ہے کہ فلاحی اسلامی ریاست قائم کرنے کے دعویداروں کی اپنی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، آج بھی طبقاتی تفریق میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ طبقات کے ما بین خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔

سّودی نظام مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ طاقتور اور مراعات یا فتہ طبقے کو مز ید نوازا جا رہا ہے ۔عمران خان ان کے وزراء، معاونین اور سینکڑوں ترجمان تقریباً ہر چینل پر ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانے کا دعویٰ تواتر سے کر رہے ہیں۔ ان کے پاس چینلز پر بحث و مباحثہ کرنے کیلئے وافر وقت ہے مگر جمعہ کی نماز سے پہلے اُردو خطبہ کیلئے قطعاً وقت نہیں ہے، قوم کی راہنمائی کیلئے بہترین ذریعہ محراب و منبر ہے۔ مگر یہ کام اوسط درجے کا دینی عِلم رکھنے والے مولوی حضرات پر چھوڑ دیا گیا ہے، ایک سروے کے مطابق ملک میں جمعے کا اُردو خطبہ دینے والے 80 فیصد ’’ علماء‘‘ دین کا صحیح عِلم نہیں رکھتے، انھیں ضعیف حدیثوں کے متعلق بھی عِلم نہیں ہوتا ۔ یہ مولوی حضرات دینی اور دنیاوی عِلم میں خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہشمند منبر پر قوم کی راہنمائی کریں۔

ریاست مدینہ بنانے کیلئے اوّلین فریضہ اپنی زندگیوں کو  دین کے مکمل سانچے میں ڈھالنا اور قوم کی دینی و اخلاقی تربیت  ہے، اخلاقی  اور دینی اقدار سے عاری قوم کے دِلوں سے گناہ اور ثواب کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے، ہر فرد دوسرے کو دھوکا دے رہا ہے۔ دولت کمانے کے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہا ہے، اسلام کے بنیادی اصولوں کے برعکس صرف اپنی ذات کو اہمیت اور ترجیح دے رہا ہے۔ نفسانفسی اور خود غرضی انتہا پر ہے۔ اجتماعی قومی زندگی کا تصور مفقود ہو چکا ہے۔

قرآن پاک اور سنت ﷺ کے ذریعے تمام انسانوں خصوصاً مسلمانوں کیلئے زندی گزارنے کیلئے اصول متعین کر کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں، اسلام قبول کرنے کے بعد اسلامی ضابطہ حیات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ محض اپنی مرضی کے احکامات پر عمل کر نا کسی بھی طور مناسب نہیں، دین میں مکمل داخل ہونا ہی اسلام ہے۔

قرآن حکیم اور سنّت ﷺ سے عوام کے حقوق ، معاشیات، اقتصادیات، خارجہ پالیسی، داخلہ پالیسی، ریاست کی ذمہ داریاں، مرد و خواتین کی حُدود، خاندانی نظام، تعلیم و تربیت، اخلاقیات، طبقاتی تفریق کی نفی، نکاح اور طلاق اور وراثت کے معاملات، غرض یہ کہ ہر پہلو کو اچھی طرح کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں بعض آیات بار بار دہرائی جاتی ہیں تاکہ مسلمانوں کو اچھی طرح ذہین نشین ہو جائیں۔ زندگی کے ایک پہلو کو بھی اس طرح نہیں چھوڑا گیا کہ کوئی بھی ابہام پیدا ہو، اسلام میں مرضی کی زندگی گزارنے یا نام نہاد مادر پدر آزادی کا تصور نہیں ہے، عورت کی اہمیت بڑھانے کیلئے اُسے مستور (پردے میں) کیا گیا ہے ۔ سونا، ہیرے جواہرات، نقدی اور قیمتی سامان ہمیشہ تجوریوں میںسنبھال کر رکھا جا تا ہے، دوسرے قیمتی سامان کو بھی گھروں میں بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھا جاتا ہے باہر صرف کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے۔ اب عو رتیں باہر ہی نظر آتی ہیں اور جس حلیئے میں نظر آتی ہیں سب کے سامنے ہے، کسی بھی پہلو سے یہ نظر نہیں آتا کہ پاکستان کو ’’ ریاست مدینہ ‘‘بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہاں توابھی تک انصاف، شہریوں کی عزت نفس، بنیادی حقوق کے تحفظ کا وہ احساس بھی نظر نہیں آتا کہ جو مغربی ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں نظر آتا ہے۔

اس ساری صورتحال میں پوری قوم سہمی ہوئی ہے کہ اب کیا کھیل کھیلا جا سکتا ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے پوری دنیا کی نگاہیں ہم پر جمی ہوئی ہیں۔ پاکستان ایک شاندار ایٹمی قوت ہے، ہمارے ایٹمی اثاثوں اور ایٹمی میزائل پروگرام نے دشمنوں کی نیندیں اُڑائی ہوئی ہیں، پاکستان میں معدنیات کے خزانے چُھپے ہوئے ہیں ۔ یورینیم کی اعلیٰ قسم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ شمالی علاقہ جات جیسے خوبصورت علاقے سوئیزر لینڈ میں بھی نہیں ہیں ۔ سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ ہماری فوج ایک طویل اعصاب شکن جنگ لڑ کر کُندن بن چکی ہے، ہماری فوج وطن کے تحفظ کیلئے جو قربانیاں دے رہی ہے اس کی دوسری مثال موجود نہیںہے، پاک فوج پاکستان کے تمام دشمنوں اور بدخواہوں کیلئے ہیبت کی علامت بنی ہوئی ہے۔

دشمنوں نے حکومت، قوم اور فوج کے مابین  خلیج پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی چیک پوسٹوں اور دستوں پر حملوں کو اُلجھانے کی کوشش کی گئی۔ دفاعی بجٹ میں کٹوتی کے معاملات میں بھارت کی زبان استعمال کی گئی مگر پاک فوج نے اچھے طریقے سے معاملات کو ہینڈل کیا ۔ وطن عزیز میںاس وقت جو صورتحال ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو خاص بصیرت کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔

ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست کا ماڈل اس وقت کئی جدید ممالک نے اپنا رکھا ہے بلکہ تمام مہذب اور ترقی یافتہ ممالک نے ریاست مدینہ کا ماڈل سامنے رکھتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے پالیسیاں ترتیب دے رکھی ہیں۔ محض عوام کی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ریاست مدینہ قائم نہیں ہو سکتی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر اپنے اُوپر لاگو کرنے، مسلمانوں اور ریاست کو اسلام کے اُصولوں  کے مطابق ڈھالنے سے یہ تصور کا میاب ہوگا ۔ فی الوقت یہ امر انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے ۔حکومت پاکستان کو سب سے پہلے ملک سے رشوت، کمیشن، سفارش اور اقربا پروری کے خاتمے پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے۔قبضہ گروپوں اور استحصالیوں کو عوامی نمائندے کہلانے سے باز رکھا جائے۔ کمزور اور سادہ لوح طبقات تک ضروریات زندگی اور انصاف کی رسائی آسان بنائی جائے۔ حکومت عوام کی کردارسازی کرے۔ ریاست کو معاشی و اقتصادی طور پر مضبوط بنائے۔ اپنی زندگی کو سادہ اور  اسلام کے مطابق بنائے۔

حکومت یہ تہیہ کرے کہ اب ہم نے کسی ’’ غیر ‘‘ کی جنگ میں نہیں اُلجھنا، آج کل امریکہ اور ایران کے مابین تعلقات میں کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے۔ سعودی عرب اور اس کے حلیف ممالک کے بھی ایران کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں، جنرل (ر) راحیل شریف اتحادی افواج کے سربراہ ہیں، اس وقت پاکستانی فوج کو دنیا کی بہترین فوج تصور کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب سمیت کئی دوست مسلم ممالک کی خواہش ہو سکتی ہے کہ پاکستانی افواج کی صلا حیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ مگر اب کسی بھی جنگ میں اُلجھنا یا کسی بھی تنازعے  میں فریق بننا، نہ ہمارے لئے بہتر ہے اور نہ ہی کسی مسلم ریاست کیلئے۔ اس وقت امریکہ اور کچھ عالمی قوتوں کی بھرپور کوشش ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان سمیت تمام مسلم ریاستوں کو آپس میں صف آراء کریں۔

مگر موجودہ وقت میں تمام مسلم سر براہوں کو حقیقی بصیرت اور صبر کا مظاہرہ کرنا پڑے گا ۔ پاکستان کو بڑے بھائی کا کردار سر انجام دیتے ہوئے مسلم ممالک کے آپس کے اختلا فات ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور اپنے ہمسایہ مسلم ممالک سے تعلقات بہتر سے بہتر بنانے چاہئیں۔ حکومت  اور قوم تہیہ کر لے کہ اب ہم  نے کسی بھی تنازعہ میں نہیں اُلجھنا، نہ ہی ملک کے اندر ایسی فضا قائم ہونے دینی ہے کہ یہاںکی دینی جماعتیں اپنے پسندیدہ ممالک کی حمایت میں آپس میں اُلجھیں، ہم پہلے مسلمان پھر پاکستانی ہیں ۔ اسلام میں اُمت کا تصور بہت مضبوط ہے، یہاں مختلف فرقوں کے مابین قربت بڑھانے کی ضرورت ہے، دہشت گردی کی طرح فرقہ بندی کو بھی جّرم سمجھا جائے ۔

یہ  بات بھی اہم ہے کہ آغاز اسلام سے لے کر آج تک ہر مسلم ریاست کا تصور ’’ریاست مدینہ‘‘ سے جڑا ہوا ہے، ریاست مدینہ ہر مسلم ریاست کیلئے ایک نمونہ ہے، آپﷺ کی حیات مبا رکہ ہر مسلمان کیلئے نمونہ ہے اپنے آپ کو اس سانچے میں ڈھالنا ہی اصل اسلام ہے اس میںکو ئی دوسری رائے نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اب ہم نے کسی گیم کا حصہ نہیں بننا، اپنے دین، اپنے وطن اور تمام اُمت مسلمہ کی سرفرازی اور سر بلندی کیلئے کام کرنا ہے۔

سابقہ فوجی ادوار کا طعنہ موجودہ عسکری قیادت کونہیں دیا جاسکتا

افغان جہاد اور نائن الیون کے بعد اب تک پاکستان میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی اعصاب شکن جنگ جاری ہے، ایسا ف، نیٹو اور بھارت کے علاوہ کئی اسلامی ملک بھی پراکسی وار میں شامل ہیں، یہ قوتیں پاکستان کو افغانستان ، عراق، شام اور لیبیا سے بھی زیادہ کمزور دیکھنا چاہتی ہیں ۔ پاک فوج ملک میں خانہ جنگی کی متعدد کوششیں ناکام بنا چکی ہے۔ غیر ملکی قوتوں نے کئی مواقع پر دین کے ’’فیکٹر ‘‘ کو استعمال کرنے  کی کوشش کی ۔ ہزارہ قبیلے کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں پر حکومت اور فوج نے نہایت تدبیر کا ثبوت دیا، اس طرح کے بہت سارے مواقع آئے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کیا جا سکتا تھا، مگر پاک فوج کی معاونت سے ہر سازش کو نا کام بنایا گیا۔ بھارت، افغا نستان اور ایران کی سرحدوں سے دخل اندازی کا مناسب جواب دیا گیا۔

عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش مرکزی حیثیت اختیار کر جانے کی وجہ سے پاکستان یا کسی بھی ایسی ریاست کی فیصلہ سازی میں مسلح افواج کا کردارزیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ لیکن مسلح افواج بھی اُس وقت تک اپنا کردار موثر طور پر ادا نہیں کرسکتی جب تک انہیں تمام سیاسی قوتوں اور عوام کی حمایت حاصل نہ ہو لیکن بدقسمتی سے یہاںایسی قوتیں بھی موجود ہیں جو عوام کو باور کروانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ عمران خان کو فوج نے ’’سلیکٹ‘‘ کیا ہے حالانکہ ان حالات میں سول ملٹری تعلقات مثالی ہونے چاہئیں۔ پاک فوج کو عوام کی ’’اخلاقی حمایت‘‘ کی بہت ضرورت ہے۔ پوری قوم کو فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔

ہوس اقتدار کے پجاری بعض اوقات وہ زبان بول دیتے ہیں کہ جو بھارت میں بھی نہیں بولی جاتی۔ ایک طویل اعصاب شکن جنگ لڑنے والی فوج کو عوام کی محبت، خلوص اور تائید کی ضرورت ہے کہ قوم کی طرف سے دیا جانے والا حوصلہ  انھیں نئی زندگی بخش سکتا ہے۔ سابقہ فوجی ادوار کا حوالہ دے کر موجودہ عسکری قوتوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اُن کی موجودہ حکمت عملی پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ؟

پاکستان کا قیام ناگزیر کیوں تھا؟

پہلے قائد اعظم ؒ اور تمام مسلم اکابر ین ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔ وہ آزادی کی جنگ مل کر لڑنے کے خواہشمند تھے، مگر پھر حالات بدلتے گئے۔ ہندوؤں کے تعصب میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اضافہ ہوا۔ ان میں ایک خاص سوچ پیدا کی گئی کہ ’’ھندِ‘‘ کی سر زمین مسلمانوں کیلئے تنگ کر دی جائے۔ انھیں اس حد تک کچل دیا جائے کہ وہ کبھی بھی سنبھلنے یا ترقی کرنے کے قابل نہ رہیں۔ برطانیہ اور عالمی قوتوں نے حالات کو اس نہج تک پہنچا دیا کہ مسلمان آزادی کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوگئے، مسلمانوں کی بقاء کا کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہ تھا، مگر پاکستان قائم ہونے کے بعد اس ریاست کو سوشلِزم اور کیمونزم کا مقابلہ کرنے اور سوشلسٹ قوتوںکو شکست سے دوچار کرنے کیلئے ’’فرنٹ لائن‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،سوشلزم اور کیمونزم کے خلاف خاص سوچ پیدا کی گئی، دینی جماعتیں قائم کرنے اور انھیں مضبوط کرنے کیلئے ایک خاص پلاننگ کی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ دینی جماعتوں کی لیڈرشپ غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار نہیں تھیں اور وہ دین کے احیاء کیلئے مکمل مخلص تھیں مگر ان کی جدوجہد کو سوشلِزم کے پھیلاؤ کو روکنے تک محدود کر دیا گیا، یہودونصاریٰ اور دوسری اُن تمام اقوام کی جانب توجہ مبذول ہی نہیں ہونے دی گئی جو مسلمانوں کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھنے اور انھیں پسماندہ رکھنے کی عملی کوششوں میں مصروف تھیں۔ اگر ان تمام معاملات کو حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ برصغیر کے مسلمان، پاکستانی قیادت اور پاکستانی قوم عالمی قوتوں اور مغرب کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا مقابلہ کرنے کی مطلوبہ اہلیت اپنے اندر پیدا نہیں کر سکی۔ غیر ملکی قوتیں تو حالات کا بہاؤ ہمیشہ اپنے حق میں کر لیتی ہیں مگر ہم اس بہاؤ کا رُخ موڑنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر سکے، اور نہ ہی خطرے کو فوری طور پر بھانپنے کی قابلیت رکھتے ہیں، پراکسی وار جیتنے کیلئے پوری قوم کو بیدار اور باشعور ہونا پڑے گا، آنکھیں بند رکھنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا مزید اُلجھے گا۔

 دوسری قومیں ہماری سادگی سے فائدہ اٹھاتی ہیں

یہ بات طے شدہ ہے کہ تقریباً تمام غیر اقوام ہماری سادگی کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اور وہ اپنے مفادات پورے کرنے کیلئے بڑی آسانی سے پاکستانی حکومتوں اور پاکستانی سیاستدانوں کو استعمال کر جاتی ہیں اور پاکستانی عوام کے جذبات سے کھیل جاتی ہیں، شائد اس کی اصل وجہ ہماری زیرک لیڈرشپ کا فقدان ہے، ذوالفقار علی بھٹو عالم اسلام کے بہت بڑے اور مخلص راہنما تھے، ان کا پروگرام بھی انقلابی اور مثبت تھا مگر وہ بھی اس درجہ زیرک نہ تھے کہ عالمی قوتوں اور غیر ممالک کی سازشوں سے بچ  کر اپنے پروگرام پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔ اُن کے بعد تو کوئی بھی حکمران یا سیاستدان ایسا نہ تھا کہ جو قوم کی راہنمائی کرتا ۔ قوم کو سادگی کے خول سے نکالتا، یا غیر ملکی قوتوں کی سازشوں سے بچ سکتا ۔ ملک کا کوئی بھی سربراہ ملک دشمن، عوام دشمن یا غدار نہیں تھا، مگر ان میں کوئی بھی حددرجہ زیرک یا غیر معمولی فہم کا مالک نہ تھا ۔

دوسری ا قوام نے ان کی شخصیت، فکرو سوچ اور قابلیت کو مد نظر رکھ کر اپنی گیم کھیلی اور مطلوبہ مقاصد حاصل کئے، ان تمام حکمرانواں کوآسانی سے ’’ٹریپ ‘‘ کیا گیا جو عوام کی سوچ اور اُمنگوں کے مطابق کچھ کرنا چاہتے تھے، ضیاء الحق کو یقین دلایا گیا کہ آپ کی عوام اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے، پرویز مشرف کو کہا گیا کہ آپ کی عوام گھٹن زدہ زندگی سے تنگ آچکی ہے اور جد ید دنیا سے پیچھے رہ  گئی ہے۔ مگر ریاست مدینہ کا نظریہ بلا وجہ نہیں ہے۔ ہماری معاشی و اقتصادی ضروریات، ہماری ترقی اور اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کرنے کی خواہش کو چالاک اقوام بڑی آسانی سے اپنا الّوسیدھا کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ موجودہ لیڈر شپ عالمی فورم پر اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ ’’دوسری اقوام ہماری سادگی سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جبکہ سنجیدہ حلقوں نے کہا ’’ ہماری بیوقوفی سے فائدہ اٹھاتی ہیں، یہاں ’’سادہ‘‘ ہونا فخر کی بات  یا ترقی کی علامت نہیں، شرمندگی کی بات ہے۔

بر صغیر کے مسلمانوں کا عقیدہ اور غیر اقوام کی سازشیں!

محسن انسانیت حضرت محمدﷺ کی آ مد اُس معاشرے میں ہوئی کہ جہاں صرف ظلمتوں کے اندھیرے تھے۔ پورا معاشرہ اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا۔ ظلم و استحصال کا دورَ تھا، بُت پرستی کے علاوہ زنا کاری، شراب نوشی، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا، سّودی کاروبار، غلاموں کے ساتھ ظالمانہ سلوک، غرض کہ کوئی معاشرتی یا اخلاقی برائی ایسی نہ تھی کہ جو اُس معاشرے میں نہ ہو۔ جانوروں کو ذبح کر کے اس کا گوشت اور خون دیواروں اور چھتوں پر لگا دیا جاتا، آپ ﷺ پیدا ہوئے تو باپ کا سایہ، پیدا ہونے سے چھ ماہ پہلے ہی سر سے اٹھ چکا تھا۔

نہ بہن نہ بھائی ۔ جب آپ کی عمر چھ سال ہوئی والدہ بھی انتقال فرما گئیں، آٹھ سال کی عمر میں دادا بھی فوت ہوگئے۔ آپﷺ اپنے معاشرے میں اخلاقی، سماجی، معاشرتی برائیاں، ناانصافی، یتیموں، خواتین اور کمزوروں کے ساتھ ظلم وستم دیکھتے ہوئے جوان ہوئے۔ غارِ حرا تشریف لے جاتے، بعثت نبوت کے بعد اسلام کی دعوت دی اس کے بعد جو ظلم و ستم ہوئے اور غزوات لڑی گئیں ہر مسلمان واقف ہے۔ ایک اسلامی معاشرے کاآغاز پہلے مسلمان سے ہی ہوگیا تھا، مدینہ کی ریاست میں بھی پاکیزگی نظر آتی اور گھروں میں بھی، مسلمانوں کی زندگیاں صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تابع تھیں، آپﷺ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کرنے کیلئے کوئی دلیل یا جواز نہیں گھڑا جاتا تھا۔ اب ہر ناجائز اور حرام کو حلال قرار دینے کیلئے جواز، تاویلیں اور دلیلیں پیش کی جاتی ہیں۔

بیرونی قوتوں نے برصغیرکے مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کو ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا ہے ماضی کے تمام واقعات سامنے ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال میں حکمرانوں، سیاسیدانوں اور عوام کو بہت زیادہ بیدار مغزی کا ثبوت دینا پڑے گا۔ اس وقت اس امر کی حد درجہ ضرورت ہے کہ امراء اور مراعات یافتہ طبقات اسلام کا معاشی، اقتصادی، سماجی اور اخلاقی نظام قائم کرنے کیلئے اپنی ذمہ داری انجام دیں، ورنہ ظلم و استحصال والے معاشرے میں آخر کار طاقتوروں اوردولتمندوں کا بھی کچھ نہیں بچتا ۔ اگر معاشرے سے ظلم و نا انصافی مِٹ جائے، نفسانفسی کی جگہ ایثار پیدا ہو جائے تو شائد امراء اور مراعات یافتہ استحصالی طبقہ اللہ کی پکڑ، مظلوموں کی بددعاؤں اور استحصال زدہ طبقے کے غیض و غضب سے بچ جائے، وگرنہ یہ بات بہت اہم ہے کہ غیر اقوام ہمیشہ اس قسم کی حالت کا بھر پور فائدہ اٹھاتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔