قطب شمالی کے زیرآب معدنی وسائل پر قبضے کی دوڑ

ندیم سبحان میو  اتوار 7 جولائ 2019
روس، ڈنمارک اور کینیڈا کے درمیان محاذ آرائی کا فائدہ سائنس کو پہنچ رہا ہے

روس، ڈنمارک اور کینیڈا کے درمیان محاذ آرائی کا فائدہ سائنس کو پہنچ رہا ہے

 زیرزمین موجود معدنی وسائل سے حضرت انسان سطح ارض پر اپنی آمد کے بعد ہی سے مستفید ہوتا چلا آرہا ہے، مگر زیرآب پوشیدہ معدنیات تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں۔

بعض ممالک میں سمندروں کی تہہ سے تیل حاصل کیا جارہا ہے مگر دیگر معدنیات کے حصول میں کوئی خاص کام یابی حاصل نہیں ہوپائی، تاہم انسان کو یقین ہے کہ کرۂ ارض کے دو تہائی حصے پر پھیلے ہوئے سمندر اپنے دامن میں آبی حیات اور تیل و گیس کے ذخائر کے علاوہ قیمتی دھاتیں بھی چھپائے ہوئے ہیں۔

قطب شمالی کے منجمد سمندر کے بارے میں بھی اس کی یہی رائے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کے شمالی قطب پر قبضے کی جنگ بتدریج شدت اختیار کررہی ہے۔ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے ’کمیشن آن دی لمٹس آف کونٹینینٹل شیلف‘‘(CLCS ) میں قطب شمالی اور بحرمنجمد شمالی کے ایک وسیع حصے کی ملکیت کا دعویٰ دائر کرنے کے بعد کینیڈا بھی اس جنگ میں شامل ہوگیا ہے۔ روس اور ڈنمارک کی طرح اس کا مطمعٔ نظر بھی بحرمنجمدشمالی کی تہہ میں موجود تیل کے مبینہ ذخائر ہیں جن تک رسائی قطبی برف کے پگھلنے کے ساتھ ساتھ آسان تر ہوجائے گی۔

قطب شمالی کے علاوہ دیگر سمندروں پر بھی متعدد ممالک نے اسی نوع کے دعوے کررکھے ہیں۔ ان تمام دعووں کی بنیاد سمندر کی تہہ کی نقشہ سازی (سی فلور میپنگ) پر ہے۔ سی فلور میپنگ کے بعد ہی ایک ملک قطب شمالی یا دیگر سمندروں کے کسی ٹکڑے پر ملکیت کا دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔ جن ممالک کی سرحدوں کے ساتھ سمندر لگتا ہے، ان کے ساحل سے 200 ناٹیکل میل ( 370 کلومیٹر ) تک کا سمندری علاقہ ان کی حدود میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ اسے ایکسکلوسیو اکنامک زون ( EEZ ) کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی ممالک اپنی سمندری حدود میں وسعت کا خواہاں ہے تو اقوام متحدہ کے 1982ء میں وضع کیے گئے ’کنونشن آن دی لا آف سی‘ کے تحت اسے ’کمیشن آن دی لمٹس آف کونٹینینٹل شیلف‘ کو قائل کرنا ہوگا کہ اس کا براعظمی کنارہ ( continental shelf ) ایکسکلوسیو اکنامک زون کی حدود سے بھی آگے تک پہنچا ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے دعوے دار ملک کو سی میپپنگ کرنی ہوگی اور اس کے لیے وہ سائنس دانوں اور جدید آلات پر مشن اس علاقے میں روانہ کرے گا۔

یہ شرط علم سائنس اور سائنس کے طالب علموں کے لیے بے انتہا مفید ثابت ہورہی ہے۔ دعوے دار ملک کا دعویٰ درست ثابت ہو یا نہ ہو مگر ان سائنسی مہمات کے دوران زیرسمندر دنیا کے بارے میں نت نئے انکشافات سامنے آتے ہیں۔ نیوہمپشائر یونیورسٹی کے ماہر ارضی طبیعیات لیری میئر کہتے ہیں کہ مختلف ممالک کی معدنی وسائل پر قبضے یا کسی بھی وجہ سے سمندری حدود میں اضافے کی خواہش نے سمندروں کے بارے میں ہماری تفہیم کو ڈرامائی طور پر بدل دیا ہے۔

CLCS میں اب تک سمندری حدود میں اضافے کے لیے 84 دعوے دائر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا محرک تیل و گیس کے مبینہ ذخائر تھے، تاہم اب گہرے سمندر میں کان کنی کی ٹیکنالوجی نے ان دعووں کو اور بھی جواز فراہم کردیے ہیں۔ مثال کے طور پر برازیل کے دسمبر 2018ء میں دائر کردہ دعوے کی بنیاد دارالحکومت ریو ڈی جنیرو کے جنوب مشرق میں زیرسمندر 1500 کلومیٹر پر محیط سلسلۂ کوہ تھا جس میں کوبالٹ کے وسیع ذخائر ہیں۔

CLCS میں دعویٰ دائر کرنے کے لیے ایک ملک کو سمندری فرش یا تہہ (sea floor) سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کرانی ہوتی ہیں۔ یہ معلومات سونار ( sonar ) کی مدد سے حاصل کی جاتی ہیں۔ سونار کے ذریعے سمندری فرش کا درست جغرافیہ، سیسمک پروفائلنگ اور دیگر تمام ڈیٹا حاصل ہوتا ہے۔ کینیڈا نے دعویٰ دائر کرنے سے قبل متعلقہ علاقے میں تحقیقی بحری جہاز بھیجے تھے جن پر سمندری فرش کی ساخت کا تعین کرنے کے لیے ہائی ریزولوشن گریویمیٹری کے آلات بھی موجود تھے۔

دعوے کی تیاری کے لیے متعلقہ معلومات کا حصول بے حد دشوار ہوتا ہے۔ بیشتر اوقات کئی بار مہمات بھیجی جاتی ہیں، تب کہیں جاکر ڈیٹا حاصل ہوپاتا ہے۔ ان تحقیقی مہمات پر کثیر اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ کینیڈا نے بحرمنجدشمالی میں 17 تحقیقی مشن روانہ کیے جن پر 12کروڑ کینیڈین ڈالر خرچ ہوئے۔

کینیڈا، روس، ڈنمارک اور دیگر ممالک کے دعووں کو تسلیم یا مسترد کیے جانے سے قطع نظر معدنی وسائل پر قبضے کی یہ دوڑ اوشینوگرافی کے لیے انتہائی مفید ثابت ہورہی ہے۔ سی میپنگ کی بدولت بحرمنجمد شمالی اور دیگر سمندروں میںمتعدد زیرآب پہاڑی سلسلے دریافت ہوئے جو قبل ازیں تحقیقی مہمات کی ’نظر‘ میں آنے سے محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح الاسکا میں زیرآب سطح مرتفع Chukchi Cap میں ہزاروں دہانے دریافت ہوئے جن سے پتا چلا کہ منجمد میتھین گیس سمندری فرش سے خارج ہوئی تھی جس سے ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح متعدد مزید نئی باتیں بھی سائنس دانوں کے علم میں آئیں۔

قطب شمالی کس کی ملکیت ہے؟

کوئی بھی ملک 200 ناٹیکل میل کے ایکسکلوسیو اکنامک زون سے پرے اپنی سمندری حدود میں اضافے کے لیے دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔ اس کے لیے سائنسی ڈیٹا کے ذریعے CLCS کو قائل کرنا ہوگا کہ جس علاقے کی ملکیت کے لیے دعویٰ دائر کیا گیا ہے وہ اسی ملک کی براعظمی شیلف کا حصہ ہے۔ روس، ڈنمارک اور کینیڈا بحر منجمد شمالی کی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔

سمندری علاقے پر کسی ملک کا حق ملکیت تسلیم یا مسترد کرنے کا بااختیار کمیشن، CLCS ، 21 سائنس دانوں پر مشتمل ہے جو ارضیات، ہائیڈروگرافی اور دیگر شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ سائنس دانوں کا انتخاب اقوام متحدہ کے رکن ممالک کرتے ہیں۔ سی ایل سی ایس اب تک 28 دعووں کی جانچ مکمل اور 24 دعوے تسلیم کرچکا ہے۔2008ء میں آسٹریلیا پہلا ملک تھا جس کا دعویٰ درست تسلیم کیا گیا جس کے بعد اس کی سمندری حدود میں 25 لاکھ مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوگیا۔ سی ایل سی ایس کی مہربانی سے نیوزی لینڈ کی سمندری حدود اس کے خشکی کے رقبے سے چھے گنا زیادہ ہے۔ کمیشن غیرمتنازع دعویٰ ہی درست تسلیم کرتا ہے، یعنی جس رقبے پر حق ملکیت کا دعویٰ کیا گیا ہے اس کا کوئی اور دعوے دار سامنے نہ آیا ہو۔

بحرمنجمد شمالی کے سلسلے میں روس، ڈنمارک اور کینیڈا نے جن علاقوں پر حق ملکیت کا دعویٰ کیا ہے وہ جزوری طور پر ایک دوسرے سے ٹکرا رہے (ovarlap) ہیں۔ چناں چہ سی ایل سی ایس ان دعووں کا تصفیہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا بلکہ سائنسی طور پر دعوے درست تسلیم ہوجانے کے بعد یہ معاملہ تینوں ممالک کو سفارتی طور پر حل کرنا ہوگا۔

قطب شمالی پر کیے گئے حق ملکیت کے تینوں دعوے لومونوسوف کے زیرآب پہاڑی کے سلسلے کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلہ کینیڈا کے Qikiqtaaluk  علاقے سے شروع ہوکر روس کے نیو سائبیریائی جزائر سے ہوتا ہوا قطب شمالی پہنچتا ہے۔ دونوں ممالک کا دعویٰ ہے کہ سلسلۂ کوہ ارضیاتی طور پر ان کے براعظم سے جڑا ہوا ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک کا کہنا ہے کہ لومونوسوف کا پہاڑی سلسلہ گرین لینڈ سے بھی منسلک ہے۔

سی ایل سی ایس نے لومونوسوف کے تناظر میں قطب شمالی کے اس حصے پر روس کا ابتدائی مزید ڈیٹا کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ مسترد کردیا تھا۔ بعدازاں 2007ء میں بحرمنجمدشمالی کی تہہ میں روس کا دھاتی پرچم گاڑنے کے اقدام کے بعد روس اور دیگر مدعی ممالک کے درمیان تناؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ اس وقت کینیڈ ا کے وزیرخارجہ نے روس کے اس اقدام کو ابتدائی یورپی قبضہ گیروں سے تشبیہہ دی تھی۔ میساچوسیٹس کے وُڈز ہول اوشینوگرافک انسٹیٹیوشن کے ماہرارضیات ہنری ڈک کہتے ہیں کہ سارا چکر  Amerasian Basin کے لیے ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ تاہم ان ذخائر تک پُرامن رسائی برسوں تک ہونے کا امکان نظر نہیں آتا کیوں کہ سی ایل سی ایس اس معاملے میں بے بس ہے اور اس کی جانب سے اگر دعوے درست تسلیم بھی کرلیے جائیں تو تینوں ممالک کو سفارتی محاذ آرائی کرنی پڑے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔