عمران خان ضرور ناکام ہوگا!

اویس حفیظ  پير 8 جولائ 2019
سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ حکمرانوں یا نظام سے نہیں، عوام سے فرق سے پڑتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ حکمرانوں یا نظام سے نہیں، عوام سے فرق سے پڑتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

آج مجھے یہ اعتراف کرنا ہے کہ میں اُن خوش فہموں میں سے ہوں جنہوں نے عمران خان سے امیدوں کے پہاڑ وابستہ کیے تھے۔ ہمیں امید بلکہ یقین تھا کہ عمران خان کے آتے ہی ملک کے حالات بدل جائیں گے، ہر طرف ڈالر کی ریل پیل ہو گی، تجارتی خسارے پر فوری قابو پا لیا جائے گا، مہنگائی کو لگام دی جائے گی اور عمران خان کے برسر اقتدار آتے ہی عام آدمی کو واضح طور پر فرق محسوس ہوگا۔ مگر آج مجھے یہ تسلیم کرنا ہے کہ میں غلط تھا۔ اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ عمران خان ضرور ناکام ہوگا۔

عمران خان نے سیاست میں ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کو اپنا سلوگن بنایا اور اعلان کیا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر استوار کریں گے مگر عمران خان کا ریاستِ مدینہ کا نعرہ اب ایک طعنہ بن چکا ہے۔ اپوزیشن ہو کہ عوام، سب کی تان اسی پر ٹوٹتی ہے کہ کہاں ہے ریاستِ مدینہ؟ کیا مدینہ کی حکومت ایسی تھی؟ اگر مہنگائی ہے تو ’’ریاستِ مدینہ‘‘ قصوروار ہے، اگر معاشی و اقتصادی طور پر مندی ہے تو ریاستِ مدینہ ذمہ دار ہے، اگر ڈالر کو پَر لگے ہوئے ہیں تو بھی تمام تر ذمہ داری ریاستِ مدینہ پر عائد ہوتی ہے۔

ابھی اگلے دن ایک شخص کو ایک ٹی وی پروگرام میں دیکھا، مہنگائی پر سراپا احتجاج، روتے ہوئے پوچھ رہا تھا کہ کہاں ہے ریاستِ مدینہ؟ غریب کا کوئی پرسانِ حال نہیں، اس قدر مہنگائی ہو گئی ہے، ذخیرہ اندوزوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، یہ کیسی ریاستِ مدینہ ہے جس میں غریب ہی مر رہا ہے۔

اب اگر محض اس حوالے سے ہی شرعی رہنمائی حاصل کی جائے تو علم ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک مرتبہ مدینہ طیبہ میں قیمتیں چڑھ گئیں تو لوگوں نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ آپﷺ قیمتیں مقرر فرما دیجیے۔ آپﷺ نے جواب دیا ’’قیمتوں کا چڑھنا اور گرنا اللہ کے ہاتھ میں ہے (یعنی قدرتی قوانین کے تحت ہے) اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے خدا سے ملوں تو اس حال میں ملوں کہ کوئی شخص میرے خلاف ظلم و بے انصافی کی شکایت کرنے والا نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد)

اس کے بعد آپﷺ نے مسلسل اپنے خطبات میں، بات چیت میں اور لوگوں سے ملاقاتوں میں ذخیرہ اندوزی اور جان بوجھ کر گرانی کرنے کی حوصلہ شکنی کی اور فرمایا ’’ضروریاتِ زندگی کو بازار میں لانے والا خدا سے رزق اور رحمت پاتا ہے اور ان کو روک رکھنے والا خدا کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ، جلد سوم، ذخیرہ اندوزی کا بیان)

ایک جگہ فرمایا ’’جس نے چالیس دن تک غلہ روک کر رکھا تاکہ قیمتیں چڑھیں تو اللہ کا اس سے اور اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (مشکوٰۃ، جلد سوم، ذخیرہ اندوزی کا بیان)

’’جو شخص غلہ روک کرمہنگے نرخوں مسلمانوں کو فروخت کرتا ہے، اللہ اسے جذام و افلاس میں مبتلا کر دیتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ، جلد سوم، ذخیرہ اندوزی کا بیان)

’’کتنا برا ہے وہ شخص جو اشیائے ضرورت کو روک کر رکھتا ہے۔ ارزانی ہوتی ہے تو اس کا دل دکھتا ہے، گرانی بڑھتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ، جلد سوم، ذخیرہ اندوزی کا بیان)

’’جس نے چالیس دن تک غلہ کو روک رکھا، پھر اگر وہ اس غلہ کو خیرات بھی کردے تو اس کے گناہ کی تلافی نہ ہوگی جو ان چالیس دنوں کے دوران میں کر چکا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ، جلد سوم، ذخیرہ اندوزی کا بیان)

کیا ریاستِ مدینہ کا مذکورہ لائحہ عمل ہمارے معاشرے میں کارگر ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہمارے عوام عمران خان سے تو ریاستِ مدینہ کا مطالبہ کرتے ہیں مگر خود کو بدلنے کےلیے تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں انہی تمام خامیوں، کوتاہیوں اور برائیوں کے ساتھ بیٹھے بیٹھے ریاستِ مدینہ میسر آجائے۔ اسی لیے اب میرا پورا یقین ہے کہ عمران خان ضرور بالضرور ناکام ہوگا۔

کچھ روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک صاحب جو مہنگائی کے خلاف گلے میں روٹیاں ڈال کر احتجاج کر رہے تھے، ان کے اپنے گودام سے چینی کی 7 ہزار بوریاں برآمد کی گئیں۔ اگر اسے محض سیاسی الزام سمجھ کر اس سے صرفِ نظر کیا جائے کیا تب بھی اس حقیقت کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ ماہِ رمضان کے دوران پشاور میں صرف ایک کولڈ اسٹوریج سے قریباً 9 ہزار کلو لیموں برآمد کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لیموں مارکیٹ میں دستیاب نہ ہونے کے باعث 4 سو روپے کلو تک فروخت ہو رہا تھا۔

اسی طرح رمضان المبارک میں ایک عزیز کو ’’کلمہ کھجور‘‘ کا کہا تو لاہور کی اکبری مارکیٹ سے پتا کرنے کے بعد اس نے بتایا کہ رمضان سے قبل ہی پورے بازار سے کلمہ کھجور اٹھا لی گئی تھی۔ اب صرف مبروم اور دوسری مہنگی کھجوریں ہی دستیاب ہیں۔

کچھ دن پیشتر ایک عالمِ دین (روایتی نہیں) سے یہ نیا نکتہ بھی سمجھنے کا موقع ملا کہ ریاستِ مدینہ کا مطلب معاشی آسودگی ہرگز نہیں بلکہ اسلامی معاشرے سخت ترین آزمائش کے ذریعے ہی تطہیر کے عمل سے گزرتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ارشادِ باری تعالی ہے: ’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے، اور ان پر صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے جنہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، ان پر ان کے رب کی رحمتیں اور نوازشیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ (البقرۃ: 155 تا 157)

اسی طرح فرمایا: ’’کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں، ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ ان سے پہلوں کو بھی ہم نے خوب آزمایا تھا۔ یقیناً اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا کہ جو جھوٹے ہیں۔‘‘ (العنکبوت: 1 تا 2)

کیا ہم ریاستِ مدینہ کی تشکیل کےلیے ایسے امتحانات کےلیے تیار ہیں؟ ایسے میں اس سوال کا، کہ کیا عمران خان ریاستِ مدینہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گا، جواب تلاش کرنے کےلیے ہمیں کہیں باہر نہیں جانا پڑے گا بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا۔

ہم تو وہ قوم ہیں جو سیاسی اختلاف کے باعث ملک و قوم کا نقصان ہی سوچتے ہیں۔ کیکڑا ون میں ڈرلنگ کا کام بند ہوا تو ایک جاننے والے نے طنزاً پوچھا کہ کہاں گیا آپ کا تیل اور وہ اربوں ڈالر جو اس تیل سے ملنے تھے؟ سوال کیا کہ وزیراعظم نے پوری قوم سے دو نفل پڑھ کر دعا کی درخواست کی تھی، آپ نے دو نفل پڑھ کر دعا کی؟ غالباً 21 کروڑ کی آبادی میں 21 لاکھ لوگوں نے بھی یہ نفل نہیں پڑھے ہوں گے۔ اس کے بعد بھی ہم تیل نکلنے کی امید کیوں وابستہ کیے بیٹھے تھے؟

تاریخِ اسلام کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ریاستِ مدینہ کی بنیاد سید الانبیاءﷺ نے ہجرتِ مدینہ کے فوری بعد یعنی یکم سنِ ہجری کو رکھی تھی جبکہ وصالِ رسولﷺ (11 ہجری) کے موقع پر بھی ایک یہودی سے تیل ادھار لے کر حجرۂ رسولﷺ میں چراغ روشن ہوا تھا۔ مسلمانوں کو مالی خوشحالی تو امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں میسر آئی تھی۔ اسی طرح عمرؒ بن عبدالعزیز کے دور میں مسلمانوں کو مالی آسودگی میسر آئی کہ جب کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ سیدنا عمرؒ بن عبدالعزیز کے ڈھائی سالہ دورِ خلافت کے بعد کیا ہوا؟

سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ حکمرانوں یا نظام سے نہیں، عوام سے فرق سے پڑتا ہے۔ ہمارے اردگرد ہمہ وقت مکر و فریب کی آندھیاں چل رہی ہیں، جھوٹ اور دروغ کے ستونوں پر ہمارے بازار قائم ہیں۔ سود، جسے خدا اور اس کے رسولﷺ سے جنگ قرار دیا گیا ہے، ہمارے اقتصادی نظام کا جزو لاینفک ہے۔ تو ایسے میں ریاستِ مدینہ کیونکر تشکیل پا سکتی ہے؟ ہمارے لیے ’’اعمالکم، عمالکم‘‘ (تمہارے اعمال ہی تمہارے عمال (حاکم) ہیں) کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک ریاستِ مدینہ تو کیا ریاستِ بہاولپور بھی متشکل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے عمران خان ریاستِ مدینہ بنانے میں ضرور ناکام ہوگا۔

دوسری طرف عمران خان اور حکومت کو بھی کچھ فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ریاستِ مدینہ کی منزل کے حصول کا سفر ہوتا نظر آئے۔ سب سے پہلے ملک سے سود کی لعنت کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ اگرچہ غیرملکی معاہدوں میں یہ ایک دقت طلب کام ہے مگر اندرونی سود کا خاتمہ کرنا قطعاً کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ حالیہ بجٹ میں تقریباً آدھا بجٹ (یعنی 3 ہزار ارب روپے) قرضوں اور سود کی مد میں خرچ کیا جانا ہے۔ اگر ملک سے سود کا خاتمہ ہو جائے تو جہاں ایک طرف گردشی قرضوں میں کمی آئے گی وہیں ملک کو مالی و معاشی طور پر استحکام بھی میسر آئے گا۔

پھر اس طرح عوامی فلاح کے فوری اقدامات، جیسے اشیائے ضروریہ مثلاً غذائی اجناس و مصنوعات وغیرہ پر ٹیکسز میں کمی تاکہ حکومتی سطح پر مہنگائی کی سرپرستی نہ ہو سکے، اسی طرح غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی، نیز کلیدی عہدوں اور مناصب پر اہل و ایماندار افراد کا تعین، اختلاف و تنقید اور بحث و تمحیص کی کھلی اجازت، زندگی کے ہر شعبے میں مساوات کا قیام۔ اس کے علاوہ اور بہت سے کام ہیں جن کےلیے نہ پیسے کی ضرورت ہے اور نہ ہی قرضوں کی۔ ان کےلیے محض فہم و ذکاوت درکار ہے جس کا ابھی تک کوئی عملی مظاہرہ کسی شعبے میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ تو ایسے میں عوام کیونکر امید باندھیں کہ عمران خان ریاستِ مدینہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

اویس حفیظ

اویس حفیظ

ایک موقر ملکی روزنامے اورمقامی جریدے سے قلم کاتعلق قائم رکھنے والا اویس حفیظ، جو اپنی قلم طرازیوں کی بدولت ادب و صحافت سے تعلق جوڑنے کی ایک ناکام سعی میں مصروف ہے، خود بھی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ جامعہ پنجاب سے ترقیاتی صحافیات میں ایم ایس سی تو ہوگئی تھی مگر تعلیم کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔