سوشل میڈیا پر غیر حقیقی ٹرینڈز اور سائبروار کے فاتحین

محمود زکی  جمعـء 5 جولائ 2019
افغانستان کے صرف سیاسی فیصلہ ساز ہی نہیں بلکہ وہاں کا میڈیا بھی ہندوستان سے متاثر ہے، جو پاکستان اور افغانستان میں مفاہمت نہیں چاہتا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

افغانستان کے صرف سیاسی فیصلہ ساز ہی نہیں بلکہ وہاں کا میڈیا بھی ہندوستان سے متاثر ہے، جو پاکستان اور افغانستان میں مفاہمت نہیں چاہتا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کرکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اعداد و شمار سے زیادہ اتفاقات کا کھیل ہے۔ اس میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور میچ کا پانسا پلٹ سکتا ہے۔ کل تک یہی بات پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں کہی جارہی تھی کہ ان سے کوئی بھی خلاف توقع کام بعید نہیں۔ اچھی بھلی اعلی درجہ بندی پر فائز ٹیموں کو دھول چٹا دیں گے اور نچلے درجے کی کمزور ٹیموں کے خلاف خود ان کا سانس اکھڑ جائے گا۔

جاری ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم ڈوبتی ابھرتی سیمی فائنل کی دوڑ سے بالآخر باہر ہوچکی ہے۔ ابتدائی میچوں میں ہزیمت کے بعد افریقہ برطانیہ اور نیوزی لینڈ جیسی زبردست ٹیموں کو شکست دینے پر عوام خود کو سیمی فائنل میں دیکھ رہے تھے۔ درمیان میں بس دو فتوحات اور کچھ جمع و تفریق حائل تھی۔ میچز بھی افغانستان جیسی نووارد اور بنگلہ دیش جیسی نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف تھے مگر ٹیم پاکستان بھلے ہی باقی پیش گوئیوں پر پورا نہ اترے، اس ’’ان پریڈکٹیبل‘‘ والی بات پر ضرور پورا اترتی ہے۔ توقع کے عین مطابق افغانستان جیسی ٹیم کے خلاف بھی ڈوبتے ڈوبتے سفینے کو آخری اوور میں ساحل کے پار کیا۔

میچ کی سنسنی اپنی جگہ مگر اس میچ میں گراؤنڈ میں موجود تماشائیوں کے ایک دوسرے سے تصادم نے الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر بھرپور جگہ بنائی۔ نفرت انگیز ٹرینڈ بنے جس سے یہ تاثر ابھرا کہ روایتی حریف بھارت کی طرح اب افغانستان کے ساتھ بھی ہماری مخاصمت کھیلوں کے میدان تک اتر چکی ہے۔ ابھی تک دنیا سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پاک بھارت صارفین کی کمنٹس میں لڑائیاں ہی دیکھتی آرہی تھی مگر اب اس میں افغانستان کا اضافہ بھی ہوچکا ہے۔

افغانستان پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جیسے بڑے فورم پر کھیل رہا ہے۔ اس کے مداحوں کا ایسے بڑے ایونٹس کا ایکسپوژر نہ رکھنا اور ایشیائی ٹیموں کے مزاج کے عین مطابق کرکٹ کےلیے دیوانگی کی حد تک چاہت ان کو اس قسم کے شدید رد عمل پر ابھارتی ہے جو دنیا نے گراؤنڈ میں دیکھا۔ مگر کیا یہ صرف کرکٹ کی محبت میں ایسا کیا گیا؟ نہیں! بلکہ اس میں بڑی حد تک بھارت کے افغانستان کے اندر غیر محسوس تصرف اور سافٹ پاور کے استعمال سے افغان عوام کی ذہن سازی کا بڑا کردار ہے۔ افغان عوام میں سے کچھ پاکستان کو اپنے مسائل کی جڑ سمجھتے ہیں جن کی اکثریت باہر ممالک میں بیٹھی ہوئی ہے۔ ان کی ہرزہ سرائیاں آئے روز لائیو ویڈیوز کی شکل میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستانی عوام کےلیے شاید یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے افغان عوام کا یہ رخ بھی میڈیا کی مہربانی سے دیکھ لیا۔ اگرچہ اسی گراؤنڈ میں موجود ہزاروں تماشائیوں میں انتشار پھیلانے والے یہ لوگ درجن بھر تھے مگر میڈیا کو چونکہ سنسنی چاہیے اس لیے بے دھڑک ایسی ویڈیوز کو ہی مختلف زاویوں سے دکھانے پر ساری توانائیاں صرف کی گئیں۔ جیسا بتایا گیا کہ ایک مخصوص قسم کی فضا بنائی گئی ہے اس لیے پشتو جاننے والے اس بات کا مشاہدہ خاصے وقت سے کر رہے ہیں کہ بی بی سی اور وائس آف امریکا کے پشتو پورٹلز سے کس طرح ذومعنی عنوانات کے ساتھ خبریں نشر کی جاتی ہیں اور کمنٹس میں دونوں اطراف کے عوام کس طرح گالم گلوچ، طعنوں اور الزامات سے ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار ہوتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ دونوں ممالک کےلیے ایک دوسرے کا وجود ہی ناقابل برداشت ہے۔

خیبر پختونخوا کا کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں جہاں افغان مہاجرین یہاں کے عوام میں گھل مل کر نہ رہتے ہوں۔ ان کی تیسری نسل یہاں جوان ہورہی ہے اور ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جنہوں نے افغانستان دیکھا ہی نہیں۔ ابھی کل تک کرکٹ کے میدانوں میں بھی ہمارے ہی کھلاڑی ان کے ہیروز ہوا کرتے تھے کیونکہ یہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ ان کی کارکردگی پر یہ ہم سے بھی زیادہ جذباتی ہوتے تھے۔ اب ان کی اپنی ٹیم آگئی ہے تو یہ فطرت کے عین مطابق ان کو سپورٹ کرتے ہیں۔ کرکٹ پر ہی بس نہیں ان کی دلچسپیاں سیاست میں بھی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب عمران خان کی سونامی کی لہر چلی تو کئی افغان دوستوں کے ساتھ ہماری بحثیں ہوتی تھیں کہ وہ خان صاحب کو ہی ملک کےلیے نجات دہندہ سمجھتے تھے۔

وہ لوگ کہاں گئے؟ میڈیا دیکھ کر تو لگتا ہے یہ سب بھی ہمارے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں، ناراضگیاں ہوں گی لیکن اتنی بھی نہیں جتنی ان کو مخصوص میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعے ہوا دی جاتی ہے۔ جن عوام کی آپس میں کبھی ملاقات تک نہیں ہوئی وہ ان پروپیگنڈوں کے زیر اثر ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ بھارتی اثر و رسوخ ان کے نہ صرف میڈیا پر بلکہ ان کے کئی ملکی فیصلہ کنندگان پر بھی نمایاں نظر آتا ہے جس کے سامنے وہ لوگ جو نیوٹرل ہیں، انہیں بھی چپ لگ گئی ہے۔ دونوں طرف کا میڈیا دیکھ کر لگتا ہے کہ اب بہت جلد یہ چیز مزید آگ پکڑ لے گی جس سے ان لوگوں کی آوازیں بھی دبنے لگیں گی یا خاموش کردی جائیں گی جو پاکستان کے حق میں ہیں۔

اس بات کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ افغان وکٹ کیپر بیٹسمین محمد شہزاد کو ورلڈ کپ اسکواڈ سے مکمل فٹ ہوتے ہوئے بھی ان فٹ قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ اڑتی خبروں کے مطابق ان کو پاکستان کےلیے نرم گوشہ رکھنے کی سزا دی گئی۔ یہاں تک کہ ایک آن لائن چینل کےلیے انٹرویو میں اس سے پوچھا تک گیا کہ کیا وہ پاکستان کےلیے کھیلتا ہے؟ جس کے جواب میں اسے وضاحت دینا پڑی کہ اگر میں ایسا کوئی کام کرتا ہوں تو مجھے کابل کے چوراہے پر سر عام پھانسی دی جائے۔ اس نے دبے لفظوں میں سابقہ کپتان محمد نبی، اصغر استانکزئی اور راشد خان کےلیے بھی فکر مندی ظاہر کی کہ جلد ہی انہیں بھی گھر بٹھا دیا جائے گا۔ شنید ہے کہ مذکورہ کھلاڑی بھی پاکستان میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے ان کی نظروں میں کھٹکتے ہیں۔

جب ایسے حالات پیدا کیے جائیں تو غیر جانبدار لوگوں کی آوازیں بھی اس شور میں دبنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس دن جب میں نے تصادم والی ویڈیو کے متعلق پوسٹ کیا تو بہت سارے افغان دوستوں نے گراؤنڈ میں پاکستانی جھنڈے اور تماشائیوں کے ساتھ اپنی تصاویر بھیج کر گلہ کیا کہ آپ لوگ ایک چھوٹا سا منفی رخ ہی کیوں دکھا رہے ہیں۔ میں نے غور کیا تو کہیں بھی مثبت چیز نظر نہ آئی بلکہ ہر جگہ شدید ردعمل ہی دکھائی دیا۔ میچ کے اختتام پر خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں جس طرح فائرنگ کرکے خوشی منائی گئی اس سے لگ رہا تھا کہ ہم کرکٹ کے میدان میں دوسرا بھارت پیدا کرچکے ہیں۔ ایسے رخ کو حقیقت سمجھا جائے گا اور ٹرینڈز بنیں گے تو دوریاں ہی بڑھیں گی۔

پھر ملک کی مقتدر قوتیں جتنی بھی پینگیں بڑھانے کی کوشش کریں، اس سائبر وار کو شروع کرنے والے ہی جیتتے دکھائی دیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمود زکی

محمود زکی

مصنف میڈیا اسٹڈیز اور جرنلزم کے طالب علم ہیں، ویب ٹی وی کے ساتھ بطور اینکر اور مختلف ویب سائٹس کے ساتھ بطور بلاگر وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔