جوہری آب دوز کی دنیا ؛ حیرت انگیز مناظر۔۔۔۔ انوکھے اصول

مرزا ظفر بیگ  اتوار 7 جولائ 2019
ایٹمی اب دوز کی زندگی ہر ایک کے لیے نہیں ہوتی، یہ صرف مخصوص لوگوں کے لیے ہی ہوتی ہے۔  فوٹو: فائل

ایٹمی اب دوز کی زندگی ہر ایک کے لیے نہیں ہوتی، یہ صرف مخصوص لوگوں کے لیے ہی ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

اس وقت جہاں دنیا کے ساڑھے چھ لاکھ لوگ زمین سے ہزاروں فٹ بلند جہاز میں بیٹھے اڑ رہے ہیں، وہیں پر ہزاروں لوگ سمندر کی سطح سے نیچے بحری آب دوز میں بھی موجود ہیں۔

نیوکلیئر آب دوزیں دنیا کے مہنگے ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہیں جن کی بڑی طاقت ان کی خاموشی ہے۔ یہ ایٹمی آب دوزیں اپنی پوری زندگی کا بڑا حصہ پانی کے نیچے گزار دیتی ہیں۔ اس طاقت ور ہتھیار میں سب سے نازک چیز اس کا عملہ ہے تو چلیں دھات کے اس ڈبے میں رہنے والوں کی زندگی کی ایک انوکھی جھلک دیکھتے ہیں۔

ایک بات آپ کو یہ بھی بتادیں کہ اب دوز کے عملے میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے ہر کوئی کوالیفائی نہیں کر سکتا۔ بحریہ میں یا نیوی میں اس کے لیے سخت شرائط ہوتی ہیں جن میں سے ایک نفسیاتی امتحان بھی ہیں، کیوں کہ دھات کے ایک بالکل بند ڈبے میں زندگی گزارنا نہ تو کوئی کھیل ہے اور نہ ہی یہ کوئی آسان کام ہے۔ عملے کے کسی بھی فرد کی ایک معمولی سی غلطی بھی عملے کے سبھی افراد یا سبھی لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈال سکتی ہے جس کے لیے مضبوط اور توانا اعصاب ضروری ہیں۔ ایک وقت میں اس کو ایک ماہ تک کے لیے پلان کیا جاتا ہے۔

ایک وقت میں زیرِسمندر اور بغیر سطح پر آئے سب سے زیادہ وقت گزارنے کا ریکارڈ (جو ایک ریکارڈ ہے) وہ گیارہ ماہ کا ہے جو ایک امریکی آب دوز کا ہے۔ (امریکا کی ایک وقت میں ساٹھ سے ستر آب دوزیں عالمی پانیوں میں موجود ہوتی ہیں) لمبا عرصہ بغیر سورج کے ایک چھوٹی سی جگہ میں بند رہنا کوئی معمولی کام تو نہیں ہے، اس کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط فرد کے اعصاب پر بھی اثر پڑتا ہے۔

ایک نیوکلئیر یا ایٹمی آب دوز کتنا عرصہ پانی کے نیچے رہ سکتی ہے، اس کا انحصار صرف اس حقیقت پر ہے کہ اس کے جسم میں خوراک کتنی ہے۔ اس کے ری ایکٹرز میں ایک ہی بار ایندھن ڈالا جاتا ہے جو اس ا ب دوز کی پوری زندگی کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ہوا اور پانی کو ری جنریٹ کیا جاتا ہے، اس لیے کھانا (یعنی اس پر بسنے والے عملے کے لیے ایندھن) وہ واحد چیز ہے جو اس بات کا تعین کرتی ہے کہ وہ اپنے ایک غوطے کے لیے کتنا زیادہ وقت لگاسکتی ہے۔

اب دوز کے عملے کا وقت آٹھ اٹھ گھنٹے کی تین شفٹوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی جس کے بعد آٹھ گھنٹے کا آرام یا وہ پرائیویٹ وقت جس میں وہ کھیل سکے، پڑھ سکے یا پھر ورزش وغیرہ کرسکے۔ پھر اٹھ گھنٹے کی نیند لینے کا وقت دیا جاتا ہے۔ اس میں رہنے اور آرام کرنے کے لیے جگہ بہت کم ہوتی ہے جہاں ایک چھوٹا سا تابوت نما بستر ہوتا ہے جس پر ایک پتلا سا پردہ بھی لگا ہوتا ہے جو اسے دوسروں سے الگ کرتا ہے۔ اس جگہ پر پرائیویسی کا کوئی خاص تصور نہیں ہے۔ ایک دن میں ہر وقت کسی نہ کسی کے سونے کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اونچی آواز میں بولنا یا بات کرنا، شور مچانا یا دروازے زور سے بند کرنا مکمل طور پر ممنوع ہوتا ہے۔ عام طور پر عملے کے افراد کی تعداد یہاں کے کل بستروں سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے بستر شیئر کیے جاتے ہیں۔ ایک شفٹ میں ایک کے لیے ہوتا ہے تو پھر وہی بستر اگلی شفٹ میں دوسرے کے لیے مخصوص ہوتا ہے ۔

جگہ کا مسئلہ صرف بستروں کا نہیں، شاور اور ٹوائلٹ کا بھی ہے۔ سو سے زیادہ کی تعداد پر مشتمل عملے کے لیے صرف دو شاور ہوتے ہیں اور تین منٹ سے زیادہ نہانے پر پابندی ہوتی ہے۔ نہانے کا پانی اب دوز سمندری پانی سے فلٹر کرتی ہے۔ کپڑے دھونے کی صرف ایک جگہ ہوتی ہے۔ یہ کہنا چاہیے کہ صاف کپڑے یہاں کی لگژری ہیں ۔ ٹوائلٹ کا استعمال بھی کافی احتیاط اور دھیان سے کیا جاتا ہے۔ فضلہ ایک خاص ٹینک میں جمع ہوتا ہے جسے مناسب وقت پر پر آب دوز سے خارج کرنا ہوتا ہے۔ عملے کی تفریخ کے لیے تاش، بورڈ گیمز ویڈیو گیمز وغیرہ موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے عملے کے افراد کی آپس میں ایک دوسرے سے اچھی دوستی بھی ہوجاتی ہے۔

سب سے زیادہ جگہ اب دوز کا انجن لیتا ہے۔ اب دوز کا نصف حصہ یہ ہے۔ دوسرے نمبر پر کچن، یہاں بھی اچھے اور طرح طرح کے کھانے موجود ہوتے ہیں۔ ہفتوں سمندر کے نیچے اسٹریس والی زندگی گزارنے والے عملے کو خوش اور مطمئن رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ شروع میں تازہ کھانا ملتا ہے، اس کے بعد ٹین کے ڈبوں میں محفوظ کیا ہوا کھانا دیا جاتا ہے۔

آب دوز پر انٹرنیٹ کا کوئی کنکشن نہیں اور اس جگہ کا بیرونی دنیا سے رابطہ صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آب دوز سطح آب پر ائے اور ایسا بہت کم کم ہوتا ہے۔ رابطہ کرنے والی آب دوز کا پتا لگانا آسان ہے اور خاموشی اور راز داری اس کے لیے اہم ہوتی ہے، اس لیے یہ رابطہ کم ہوتا ہے۔ اب دوز کا عملہ اپنی فیملی یا دوستوں سے ہفتوں یا مہینوں کسی قسم کا رابطہ نہیں کرتا۔ اس عملے کی آپس کی دوستیاں گہری اور تمام عمر رہنے والی بن جاتی ہیں۔ اکثر لوگ ان لکھے ہوئے اور پہلے سے طے شدہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ اس انوکھی جگہ پر کوئی بھی فرد کسی متنازعہ معاملے پر بات نہیں کرتا۔ سیاست جیسے موضوع یہاں کبھی زیرِ بحث نہیں اتے۔ اس انوکھی دنیا میں زندگی گزارنے کی اپنی روایات اور طریقے ہیں۔ ان کو فوجی ڈسپلن کی کئی چیزیں بھی معاف ہوتی ہیں، جیسا کہ حجامت یا روزانہ شیو کرانا بھی یہاں لازمی نہیں ہے۔ جب تک یہ اپنے ٹرپ سے واپس نہ آجائیں اس وقت تک یہ شرائط معاف ہوتی ہیں، لیکن مذکورہ افراد کی واپسی پر یہ سبھی شرائط دوبارہ لاگو ہوجاتی ہیں۔

ایٹمی اب دوز کی زندگی ہر ایک کے لیے نہیں ہوتی، یہ صرف مخصوص لوگوں کے لیے ہی ہوتی ہے۔ تازہ ہوا اور چمک دار دھوپ کے بغیر ہفتوں کسی بند جگہ پر بند رہنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ ایسے ہزاروں لوگ دھات کے اس کیپسول میں بند دنیا بھر کے ہر سمندر کے نیچے تیر رہے ہیں اور اپنی انوکھی زندگی سے انجوائے کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔