کوچۂ سخن

عارف عزیز  اتوار 7 جولائ 2019
کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

غزل


سفر میں رہنے کا یہ بھی تو اک قرینہ ہے
میں آپ ٹھہرا ہوا ہوں، رواں سفینہ ہے
رفو گروں کو بھی اندازہ ہو گیا ہوگا
کہ وجہِ چاکِ گریباں کشادہ سینہ ہے
بری نہیں ہے بلندی کی آرزو لیکن
ہَوا ہوا ہے مرے دوست، زینہ زینہ ہے
اگر نگاہ کلینڈر کی سینری پہ رہے
وہی سمے، وہی موسم، وہی مہینہ ہے
پڑا نہیں تھا گلابوں پہ اتنا بوجھ کبھی
پتہ نہیں کہ یہ شبنم ہے یا پسینہ ہے
(اظہر فراغ۔ بہاولپور)

۔۔۔
غزل


مُندی آنکھوں سے ہر پَل جاگتا ہے
کوئی مجھ میں مسلسل جاگتا ہے
اُدھر سگریٹ دھواں ہونے لگا ہے
اِدھر آنکھوں میں کاجل جاگتا ہے
کوئی پنکھے سے لٹکا ہے جنوں میں
کہیں سیجوں پہ صندل جاگتا ہے
ابھی دَم سادھ کے چپ چاپ بیٹھو
ابھی وحشت کا جنگل جاگتا ہے
تہجد میں دعا کے پھول کاڑھے
مری امی کا آنچل جاگتا ہے
یہ دنیا جس گھڑی سوتی ہے ایماں
مرے اندر وہ سوجھل جاگتا ہے
(ایمان قیصرانی۔ ڈیرہ غازی خان)

۔۔۔
غزل


لَوٹے ہیں اُسی چیز میں جس چیز سے نکلے
ہم لوگ کہاں خاک کی تفویض سے نکلے
اِس شرط پہ گھر چھوڑ کے نکلوں گا سوئے خواب
تعبیر کا رستہ مری دہلیز سے نکلے
میں چشمِِ زمانہ سے چھپاتا رہا جن کو
وہ زخم مری قبر کے تعویز سے نکلے
میں اپنے توسط سے ہی پہچان لوں خود کو
ادراک اگر عالمِِ تعریض سے نکلے
تعلیم کا مقصد ہو اگر عشق و محبت
استاد کا دل سینۂ تلمیذ سے نکلے
(علی شیران، شورکوٹ، جھنگ)

۔۔۔
غزل


کیسے ساتھ نبھاؤں گا میں ایسے میں
میری تو منزل ہے تیرے رستے میں
پہلے تو کی میں نے بات محبت سے
پھر سمجھایا اُس کو اُسی کے لہجے میں
اب ہم دونوں آزادی سے رہتے ہیں
قدرت نے ہم کو باندھا ہے رشتے میں
بن جاتا ہے یہ کم زوری لوگوں کی
کتنی طاقت ہوتی ہے اِس پیسے میں
تُو نے تو بس مجھ میں خوبی دیکھی ہے
ہوتے ہیں سو عیب بھی لیکن بندے میں
تم حسنِ تخلیق بھی کہہ سکتے ہو اِسے
یہ جو آدھا جھوٹ ہے پورے قِصّے میں
کیفیؔ بیٹھ محبت سے کچھ بات کریں
کیا رکھا ہے خاموشی میں، غصّے میں
(محمود کیفی۔ سیالکوٹ)

۔۔۔
غزل


چاہا ہے تجھے میں نے تری ذات سے ہٹ کر
اس بار کھڑا ہوں میں روایات سے ہٹ کر
تم عشق کے قصے مجھے آکر نہ سناؤ
دنیا میں نہیں کچھ بھی مفادات سے ہٹ کر
جس شخص کو پوجا تھا اُسے مانگ رہا ہوں
میں مانگ رہا ہوں اُسے اوقات سے ہٹ کر
غم یہ ہے کہ میں اپنے قبیلے کا بڑا ہوں
چلنا ہی پڑے گا مجھے سقراط سے ہٹ کر
واعظ نے کہا ’عقل کہاں پر ہے تمھاری‘
میں نے یہ کہا ’خلد کے باغات سے ہٹ کر‘
رہنا ہے مجھے اُس کی تمنا سے بہت دور
رہنا ہے مجھے ہجر کے حالات سے ہٹ کر
(شہزاد مہدی، اسکردو۔ گلگلت بلتستان)

۔۔۔
غزل


جدھر بھی گھومی ادھر گھمالی جنابِ عالی
ادھر بھی تو نظر اٹھالی جنابِ عالی؟
ہماری اردو ہماری بولی تمہارا کیا ہے ؟
ہمارا غالب، ہمارا حالی جنابِ عالی
اسی محبت پہ ناز تھا اب عذابِ جاں ہے
اسی محبت نے جان کھا لی جنابِ عالی
ہمارے گھر آج آپ آئے بڑی نوازش
بڑی محبت جنابِ عالی، جنابِ عالی
کوئی بھی آئے کوئی بھی جائے مری بلا سے
تمہاری اب تو قسم اٹھا لی جنابِ عالی
کہاں ہیں لطف و نظر کے قصے، علی سے سجدے
کہاں ہے اب وہ اذاں بلالی جنابِ عالی
(راؤ وحید اسد۔ ملتان)

۔۔۔
غزل


ہم کو دل، دلبروں سے ملا مختلف
ہم کو چننا پڑا راستہ مختلف
اک نظر کے بدلنے کی بس دیر تھی
شہر کا شہر لگنے لگا مختلف
اک دھماکے میں اک ہے ہلاک، اک شہید
یعنی دونوں کا ہے سانحہ مختلف
آج مسجد سے باہر ہی میں رو پڑا
آج مانگی ہے میں نے دعا مختلف
ایک جیسے ہیں انسان سارے تو پھر
کس طرح ہو گا ان کا خدا مختلف
دیکھنے کی کوئی شرط اس میں نہیں
ہے محبت کا اک سلسلہ مختلف
صائمِ نغمہ سنج آج دل خوش نہیں
کوئی نغمہ سنا، اور سنا مختلف
(عبدالباسط صائم۔ بہاولپور)

۔۔۔
غزل


اس کے وہم و گماں میں رہتا ہوں
خواہشوں کے جہاں میں رہتا ہوں
کل تلک تھا ہر اک زباں پر میں
آج کل داستاں میں رہتا ہوں
گھر کی خوشیا ں نصیب میں کب ہیں
میں تو بس اک مکاں میں رہتا ہوں
ایک خاموش سا جزیرہ میں
شور کے درمیاں میں رہتا ہوں
چار سو نفرتوں کے لاوے ہیں
جیسے آتش فشاں میں رہتا ہوں
اک دعا میرے ساتھ رہتی ہے
میں خدا کی اماں میں رہتا ہوں
(ساجد منظور اعوان ، اسلام آباد)

۔۔۔
غزل


مل جائیں لوگ مجھ کو جو میرے خیال کے
پھر ان کو میں سناؤں گا قصے زوال کے
وہ مدتوں کے بعد سرِ راہ مل گیا
پہچاننے میں کٹ گئے لمحے وصال کے
چہرے کے خدوخال میں اب ڈھونڈتے ہو کیا
یہ ہجر چھوڑتا نہیں چہرے کمال کے
عادت وہی پرانی ہے، ملتا ہے جب کبھی
لے جاتا ہے وہ ساتھ ہی دل بھی نکال کے
تم نے کہا تھا پڑھ کے جسے پھاڑ دیجیے
رکھا ہوا ہے آج بھی وہ خط سنبھال کے
ہر پھول کی زبان پہ تیرا ہی نام تھا
چرچے ہیں گُلستان میں تیرے جمال کے
تیرا رضی یہ عشق کا دعویٰ فضول ہے
کتنے سپردِ خاک ہیں تیری مثال کے
(عمران علی رضی۔ وزیر آباد)

۔۔۔
غزل


بس تصور میں ہی اک کھیل رچایا جائے
حالِ دل خوب انھیں آج سنایا جائے
زندگی کا بھروسہ نہیں کل ہو نہ ہو
بوجھ یہ دل سے سرِدست ہٹایا جائے
ہو پرستش کی تمنا کبھی غالب مجھ پر
پھر مجھے یار کی گلیوں میں لے جایا جائے
کوزہ گر مٹی ہے یہ مٹی ہی رہے گی آخر
چاہے کس طور بھی اب چاک گھمایا جائے
تیری بزم سے نکلا تھا جو ہو کر رسوا
اب یہ کہتے ہو اسے ڈھونڈ کے لایا جائے
بھٹک گیا ہے تیری راہ سے اگر آروپی
ہے گذارش کہ اسے رستہ دکھایا جائے
(فیاض آروپی، آروپ۔ گوجرانوالہ)

۔۔۔
غزل


اس بات پہ دل برسوں پریشان رہا ہے
کیا اس کا کبھی میری طرف دھیان رہا ہے
جتنا میں نظر آتا ہوں خاموش بظاہر
اندر مرے اُتناکوئی طوفان رہا ہے
جنگل کا رہا ہے یہاں قانون ہمیشہ
شہروں میں درندے تھے کہ انسان رہا ہے
میں جس کے لیے عمر گنوا آیا ہوں اپنی
وہ تو مجھے مشکل سے ہی پہچان رہا ہے
ساحل میں سمندر کا کبھی ہوتا تھا حصہ
کچھ دن تو مرا چاند بھی مہمان رہا ہے
(ارشد نذیر ساحل۔ لالہ موسٰی)

۔۔۔
غزل


ہم کو آغازِ سفر مارتا ہے
مرتا کوئی نہیں، ڈر مارتا ہے
زندگی ہے مری مشکل میں پڑی
عشق بے کار میں سَر مارتا ہے
تری مجھ سے نہیں قربت نہ سہی
مجھ کو تو حسنِِ نظر مارتا ہے
اک ہنسی گونجتی ہے گھر میں مرے
مجھ کو یادوں کا اثر مارتا ہے
خواب اتنے کہ دہائی عنبر
اِن کا پھر زیر و زبر مارتا ہے
(نادیہ عنبر لودھی۔ اسلام آباد)

۔۔۔
غزل


میں نے لکھا لفظ جدائی کاغذ پر
دیتی ہے ہر شام دہائی کاغذ پر
وہ کہتا ہے سب قسمت کا لکھا ہے
ہم نے تو بس رسم نبھائی کاغذ پر
اس نے مجھ پر مصرع لکھا آنکھوں سے
میں نے اس کو غزل سنائی کاغذ پر
اب وہ مجھ کو آئینہ لے کے ڈھونڈے ہیں
جن کو میں نے شکل دکھائی کاغذ پر
میں ہوں اس کا باپ، وہ میرا بیٹا ہے
رشتوں کی بھی مہر لگائی کاغذ پر
فیصل سب نے ظرف مطابق دیکھی ہے
میں نے جو تصویر بنائی کاغذ پر
(فیصل عزیز اعوان۔ چکوال)
غزل
کیا وفا کی تلخیوں سے سرگراں ہو جائیں گے
وہ نہیں ہیں ہم کہ مجبورِ فغاں ہو جائیں گے
یہ خیال آتے ہی گلشن میں میرا دل بجھ گیا
ہائے یہ گل جو ابھی نذرِ خزاں ہو جائیں گے
وہ نہیں سمجھیں گے دل کی بات کہہ کر دیکھنا
جس قدر الفاظ ہیں صرفِ بیاں ہو جائیں گے
یا تو سوزِ غم سے رکھ دیں گے جلا کر کائنات
یا خود اپنی آگ میں جل کر دھواں ہو جائیں گے
آشیاں آراستہ پھولوں سے ہم کرتے رہے
کیا خبر تھی ایک دن بے آشیاں ہو جائیں گے
اہلِ دل رکھیں گے صابرؔ یاد ہم کو حشر تک
کیا کہا، ہم مٹ کے بے نام و نشاں ہو جائیں گے؟
(میاں صابر۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ)

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور یہ صفحہ آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات سے سجایا جارہا ہے۔ آپ اپنی نظم، غزل مع تصویر ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کر سکتے ہیں۔ معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ’’کوچۂ سخن‘‘
روزنامہ ایکسپریس (سنڈے میگزین)،5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ، کراچی
[email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔