مذاکرات اور طاقت کی بات ساتھ کرنا مناسب نہیں، لیاقت بلوچ

نمائندہ ایکسپریس / آن لائن  منگل 10 ستمبر 2013
ڈرون حملے رکوانے کیلیے اقدام کیے جائیں،ماضی میں اسکاکوئی معاہدہ موجودنہیں۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

ڈرون حملے رکوانے کیلیے اقدام کیے جائیں،ماضی میں اسکاکوئی معاہدہ موجودنہیں۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

اسلام آ باد:  جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ اے پی سی میں تمام جماعتوں نے اتفاق کیاہے کہ جہاں بھی مذاکرات کی گنجائش ہووہاں بات چیت کی جائے، کراچی کی نمائندہ جماعتیں جوکہیں وہ پالیسی اپنائی جائے، ڈرون حملے رکوانے کے لیے قومی اورعالمی سطح پراقدام کیے جائیں۔

وزیراعظم ہائوس کے باہرآل پارٹیزکانفرنس کے بعدصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہاکہ ملک میں فوجی طاقت کااستعمال ہوچکا ہے۔ فاٹا، بلوچستان اورکراچی میں بیگناہ لوگ قتل ہورہے ہیں۔ تمام جماعتوں نے مذاکرات پر اتفاق کیاہے۔ جہاں بھی مذاکرات کی گنجائش ہووہاں مذاکرات کیے جائیں۔

بلوچستان کے حوالے سے کوئٹہ میں آل پارٹیزکانفرنس بلانے پراتفاق کیاگیا ہے۔ تمام جماعتوں نے اتفاق کیاہے کہ وہاں کی نمائندہ جماعتیں جوکہیں حکومت ان پرعمل کرے اوروہاں بھی مذاکرات کی پالیسی اپنائی جائے۔ ڈرون حملے رکوانے کے لیے قومی اور عالمی سطح پرجو اقدام کیے جاسکیں، کیے جائیں۔ انھوں نے کہاکہ حکومت نے شرکاکو بتایاہے کہ ماضی یا موجودہ حکومت اور امریکامیں ڈرون حملوں کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔