ظلم کی ریاست؟

محمد عارف میمن  پير 8 جولائ 2019
ایک پتھارے والا کتنا کما لیتا ہوگا جس پر ٹیکس لگایا اور بلاوجہ گلی محلوں سے ہٹایا جارہا ہے؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایک پتھارے والا کتنا کما لیتا ہوگا جس پر ٹیکس لگایا اور بلاوجہ گلی محلوں سے ہٹایا جارہا ہے؟ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گزشتہ دنوں کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹھیلے اور پتھارے والوں کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا۔ جہاں جہاں ٹھیلے اور پتھارے نظر آئے انہیں اٹھا کر لے جایا گیا اور 5 ہزار روپے رشوت کے عوض چھوڑا گیا۔ ضبط ہوا مال بھی واپس نہیں کیا گیا۔ اس آپریشن کے بعد ان گلی محلوں کی مارکیٹیں تو کشادہ ہوگئیں، مگر ساتھ ہی ان مارکیٹوں میں ویرانی بھی چھاگئی۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے والے لوگ ان ہی ٹھیلے اور پتھاروں سے اپنی ضروریات زندگی پوری کررہے تھے۔ کیوں کہ انہیں دکان کا کرایہ ادا نہیں کرنا ہوتا (سوائے بھتے کے) اور سبزی و دیگر اشیائے خورونوش بھی سستے داموں مل جایا کرتی تھیں۔ جس سے دونوں طبقات اپنی زندگی کی گاڑی کو کسی نہ کسی طرح گھسیٹ رہے تھے۔

تبدیلی سرکار کا بجٹ جس طرح امیروں کو پسند نہیں آیا، وہیں غریب کی تو جان ہی لے گیا۔ عوام بے روزگاری اور مہنگائی سے پہلے ہی مرے جارہے تھے۔ رہی سہی کسر اشیائے خورونوش پر ٹیکس کی بھرمار نے پوری کردی۔ جس سے غریب آدمی زندہ لاش بن چکا ہے۔ تبدیلی کے دعوے اور ریاست مدینہ کے خواب دکھا کر ووٹ مانگنے والوں نے مملکت خداداد کو ظلم کی ریاست میں تبدیل کردیا۔ 6 ماہ میں سب کچھ بہتری کے دعوے اپنی جگہ، لیکن عوام کی حالت بد سے بدتر کرنے میں حکومت نے پوری ایمانداری سے کام لیا۔

وزیراعظم ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر قوم سے الٹا یہ مذاق بھی کرتے رہتے ہیں کہ بس تھوڑی سی مشکلات ہیں، جس کا ہمیں صبر اور ہمت سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ لیکن وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایک غریب، جس کی تنخواہ 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ ہو، وہ کس طرح اپنے اخراجات کنٹرول کرے۔ آٹا 48 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔ صرف سوکھی روٹی بھی کھائے تو بھی وہ بیس ہزاروپے میں مہینہ نہیں گزار سکتا۔

جس تیزی سے ڈالر اوپر جارہا ہے، اتنی ہی تیزی سے مکان کے کرائے بھی بڑھائے جارہے ہیں۔ جنہیں روکنے اور پوچھنے والا ملک میں کوئی نہیں۔ صاحب حیثیت لوگوں نے اپنا سرمایہ اب کسی اور کام میں انویسٹ کرنے کے بجائے پراپرٹی کے کاموں میں لگا رکھا ہے۔ دو تین بلڈنگ بناکر ان سے وہ ماہانہ لاکھوں روپے کرایہ وصول کرر ہے ہیں۔ جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔

وزیراعظم کا سارا دھیان اس طرف ہے کہ ٹیکس کہاں کہاں سے لینا ہے؟ مگر اس پر کسی کا دھیان نہیں جارہا کہ ایک غریب سے مالک مکان کتنا کرایہ وصول کررہا ہے اور وہ کس طرح امیر سے امیر تر ہوتا جارہا ہے؟

کچی آبادیوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے سرمایہ کار ماہانہ اربوں روپے وصول کررہے ہیں اور یہ سب پیسہ کیش میں وصول کیا جاتا ہے، جو بعدازاں تجوریوں کی نذر ہورہا ہے۔ ایسے میں کیسے اور کس طرح معلوم ہوگا کہ کس کے پاس کتنی دولت ہے۔ ایک شخص نے ایک بلڈنگ اپنے نام کر رکھی ہے، جس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس بلڈنگ میں اس کی فیملی رہائش پذیر ہے۔ رہائشی عمارت پر کوئی ٹیکس بھی نہیں۔ ساتھ ہی اس شخص نے چار پانچ بلڈنگیں اپنے بچوں کے نام کر رکھی ہیں، جس سے وہ ماہانہ کرایہ وصول کررہا ہے۔ ایک عیاشی والی زندگی گزاری جارہی ہے، لیکن ٹیکس کے نام پر کچھ بھی نہیں نکلتا۔ تاہم غریب ہر قسم کی مصبیتوں سے دوچار ہونے کے باوجود ہر چیز پر ٹیکس دینے کا پابند ہے۔

ہمارے وزیراعظم ہر تقریر میں یورپ کی مثالیں دینے کے عادی ہیں، لیکن اس طرح کے قوانین کب بنائے جائیں گے جو یورپ میں ہیں؟ کرایہ داری ایکٹ پر آج تک عمل نہیں ہوسکا، تو باقی معاملات پر کیا امیدیں وابستہ رکھیں۔ پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں نے غربت سے تنگ آکر جب اپنی روزی روٹی ٹھیلے اور پتھارے کے ذریعے حاصل کرنا شروع کی، تو یہ بھی مدینہ کی ریاست کے امیر کو پسند نہیں آیا کہ وہ روزانہ 3 سے 5 سو روپے منافع کیوں کما رہا ہے۔ اس لیے اس سلسلے کو بھی جرم قرار دے کر بند کردیا گیا۔

سمجھ میں نہیں آرہا کہ ایک پتھارے والا کتنا کما لیتا ہوگا جس پر ٹیکس لگانے اور بلاوجہ گلی محلوں سے ہٹایا جارہا ہے؟ 5 سو روپے روزانہ بھی اگر وہ کما رہا ہے تو یہ ماہانہ 15 ہزار بنتے ہیں۔ کیا وہ 15 ہزار روپے ماہانہ سے اپنا گھر چلا سکتا ہے؟ اگر چلا سکتا ہے تو برائے مہربانی ہمیں بھی وہ ترکیب بتادیں تاکہ ہم بھی اس پر عمل کرکے اپنا گھر چلاسکیں۔

وزیراعظم صاحب آپ فوج کی تعریف کرتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے بجٹ میں اضافہ نہ لے کر جہاں حب الوطنی کا اظہار کیا، وہیں قوم پر احسان بھی کیا۔ مگر یہ بھی دیکھ لیں کہ بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کے باوجود عوام کو کیا ملا؟ وہ تو پہلے سے زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری کے اژدھے سے ڈسے جارہے ہیں۔

آپ کو پریشانی بھی اگر دکھائی دیتی ہے تو وہ بھی صرف سرکاری ملازمین کی۔ اگر ملازمین کا موازنہ ایک عام آدمی سے کیا جائے تو سرکاری ملازمین کے پاس پکی نوکری ہے۔ وہ اگر دفتر نہ بھی جائے تو بھی اسے ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ مل جاتی ہے۔ پھر سالانہ 10 اور 20 فیصد اضافہ الگ کیا جاتا ہے۔ ہاؤس رینٹ اور فیول کی مد میں بھی الگ سے پیسے ملتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ پر گریجویٹی اور بعد میں پینشن کا سلسلہ الگ سے ہوتا ہے۔ لیکن ایک غریب محنت کش کو کیا ملتا ہے؟ وہ جب تک زندہ رہتا ہے اسے محنت کرکے دو وقت کی روٹی کھانی پڑتی ہے لیکن سرکاری ملازمین کے ساتھ ایسا نہیں۔ سرکاری ملازم 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہوکر ایک اچھی زندگی گزار رہا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک کی خدمت صرف سرکاری ملازمین کررہے ہیں؟ باقی عوام نہیں؟ آپ کے لوگ بجٹ بناتے وقت بھی اگر کسی کا خیال کرتے ہیں تو صرف اور صرف سرکاری ملازمین کا ہی کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ خود سرکاری ملازمین جو ہیں۔ لیکن کسی فیکٹری میں دیہاڑی پر کام کرنے والے کا بجٹ میں کبھی احساس نہیں کیا گیا۔ حکومت نے کبھی اس کے گھر کے چولہے کے بارے میں بجٹ میں کچھ سوچا؟ کیا کبھی کسی ٹھیلے والے یا ریڑھی والے کے بارے میں بجٹ میں کچھ رکھا گیا؟ مدینہ کی ریاست کا کہہ کر ظلم اور کفر کی ریاست میں عوام کو جھونکنے والی حکومت ان سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے۔

عمران خان صاحب! جب آپ وزیراعظم کی سیٹ پر نہیں بیٹھے تھے، تب آپ کہا کرتے تھے کہ وی آئی پی پروٹوکول نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے، اشرافیہ ملک کو کھاگئی ہے، ہم ایسا نظام لائیں گے جس سے ہر طبقے کے لوگ مستفید ہوں گے۔ کیا آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ جب ڈالر اوپر جائے اور پٹرول کی قیمتیں بڑھیں اور قرضے بڑھیں تو سمجھ لینا آپ کا حکمران چور ہے۔ تو کیا اب ہم یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا موجودہ حکمران بھی چور ہے۔ اس نے ہمارے ووٹ پر ڈاکا ڈالا۔ ہمیں سنہری خواب دکھا کر مہنگائی اور بے روزگاری کے دلدل میں مزید دھکیل دیا؟

چلیں سب باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں، صرف یہ ہی بتا دیں کہ وہ پیسہ کہاں گیا جو آپ باہر سے لارہے تھے؟ یہ بھی بتا دیں کہ وہ سستے 50 لاکھ مکان کہاں گئے؟ وہ ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں؟ وہ پانی دینے کا وعدہ کہاں گیا؟ ڈیم بنانے کی باتیں بھی یاد ہیں یا نہیں؟ چلیں ان سب کو بھی تھوڑی دیر کےلیے ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کم از کم یہ ہی بتادیں کہ ایک غریب کا چولہا پندرہ، بیس ہزار میں کیسے چل سکتا ہے؟ ان پڑھ شخص کےلیے گورنمنٹ کے پاس کیا پالیسی ہے؟ اسے کس طرح کا روزگار ملے گا؟ کیا مدینہ کی ریاست میں ایک مڈل پاس کو 50 ہزار روپے کی نوکری مل سکتی ہے؟ کیا مدینہ کی ریاست میں کسی بیوہ کی ماہانہ کفالت کا بندوبست بھی ہے یا نہیں؟ اگر آپ یہ کہیں گے کہ اس کےلیے بیت المال ہے تو پھر صرف یہ ہی کہا جاسکتا ہے افسوس آپ اپنے سرکاری ملازمین کی رشوت خوری سے واقف نہیں۔ یا پھر ان کی بے ایمانی آپ کو نظر نہیں آتی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ بھی صاحب حیثیت لوگوں کے پاس ہی دیکھے گئے ہیں۔

وزیراعظم صاحب! آخر میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ غریب سے جینے کا حق مت چھینیے۔ غریب کی آہ میں بہت اثر ہوتا ہے۔ آپ کے ساتھ اور آپ کے نیچے کام کرنے والوں کو اس کا ذرا بھی احساس نہیں۔ اگر ہوتا تو کم از کم ملک میں غریب کےلیے بھی کوئی قانون ضرور ہوتا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد عارف میمن

محمد عارف میمن

بلاگر سولہ سال سے صحافت سے وابستہ ہیں؛ اور ایک مقامی اخبار میں گزشتہ 3 سال سے اسپورٹس ڈیسک پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا ٹوئیٹر ہینڈل @marifmemon ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔