پاکستان اسٹارٹ اپ کے لیے ڈایانا یادگاری ایوارڈ

ویب ڈیسک  ہفتہ 6 جولائ 2019
کنیکٹ ہیئر کی ٹیم جس نے پاکستان کے لیے ڈیانا ایوارڈ اپنے نام کیا ہے ۔ ٖفوٹو: بشکریہ نیسٹ آئی او

کنیکٹ ہیئر کی ٹیم جس نے پاکستان کے لیے ڈیانا ایوارڈ اپنے نام کیا ہے ۔ ٖفوٹو: بشکریہ نیسٹ آئی او

 کراچی: پاکستان کی ایک ابھرتی ہوئی سماجی نوعیت کی اسٹارٹ اپ کمپنی ConnectHear کو اس سال کا ڈیایانا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ ہر سال ایسے اداروں اور انفرادی لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنی ذات سے بالاتر ہوکر معاشرے میں کوئی مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کمپنی کے قیام کی کہانی بہت سنجیدہ اور متاثر کن ہے۔

’میں نے شروع سے دیکھا کہ سماعت سے محروم میرے والدین کو دنیا سے رابطہ کرنے میں کتنی مشکلات پیش آتی رہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ ذہانت سے بھرپور افرد کی راہ میں زبان آڑے آتی رہی۔ اسی جذبے کے تحت میں نے اپنے ساتھیوں سمیت ایک پلیٹ فارم بنایا جس کے تحت تمام رکاروٹوں کو دور کرکے سماعت سے معذور افرد کی دنیا تک رسائی ممکن بنائی،‘ یہ بات عظیمہ دھانجی نے کہی جو کنیکٹ ہیئر کی بانی ہیں۔

ویلز کی شہزادی ڈیانا کی یاد میں ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہر سال تین شعبوں میں ایوارڈ دیئے جاتے ہیں ۔ اول اس میں نوجوانوں کی رہنمائی (مینٹورنگ) پروگرام شامل ہے، دوم تعلیمی اداروں میں دیگر طالبعلموں کی ہتک اور مارپیٹ سے روکنے والے نوجوان اور سوم پوری دنیا میں تبدیلی پیدا کرنے والے نوجوانوں کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔

کنیکٹ ہیئر سے تعلق رکھنے والے افراد میں ارحم اشتیاق، عظیمہ دھانجی، عریج المدینہ ، زینب سید، سید طلال علی اور صدف امین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ کنیکٹ ہیئر کے تحت اشاروں کی زبان پر کام کیا گیا ہے اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنیکٹ ہیئر کے خیال کو کراچی میں واقع نیسٹ آئی او انکیوبیٹر میں پروان چڑھایا گیا تھا۔ نیسٹ آئی او کی سربراہ پاکستان کی ممتاز آئی ٹی ماہر جہاں آرا ہیں جو پاکستان سافٹ ویئر ہاؤس ایسوسی ایشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہے۔

اس ایوارڈ کے موقع پر کنیکٹ ہیئر کے رکن طلال علی اور زینب سید کا کہنا تھا کہ عام تاثر یہی ہے کہ لوگ سماعت سے محروم افراد کو غبی اور کم صلاحیتوں کا حامل سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کو پذیرائی کی ضرورت ہے اور انہیں معاشرے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد ایسے ہیں جو کم سننے کی کسی نہ کسی کیفیت کے شکار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اشاروں کی زبان جاننے والے لوگ کم ہیں۔ سائن لینگویج جاننے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ اس ضمن میں کنیکٹ ہیئر ویڈیو اور دیگر طریقوں سے پورے پاکستان میں اشاروں کی زبان کی ترویج کررہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔