بلاول ہاوس لاہور میں نہ آنے کی شرمندگی

نصرت جاوید  منگل 10 ستمبر 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

مجھے خود سے بڑی شرمندگی محسوس ہو رہی ہے کہ اتوار کی رات لاہور کی اس تقریب میں شرکت نہ کر سکا جو آصف علی زرداری نے ریاستِ پاکستان کی صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے دن اس شہر میں قائم ’’بلاول ہائوس‘‘ میں منعقد کی تھی۔ پہلے سے طے شدہ کچھ ذاتی مگر ضروری مصروفیات آڑے آ گئیں اور میں وہاں نہ جاسکا۔ ایک صحافی کی حیثیت میں میرا وہاں موجود ہونا پیشہ وارانہ لحاظ سے ضروری تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر اہم بات بالکل ذاتی تھی۔ اب یہ بتا دینے میں کوئی حرج نہیں کہ پاکستان کا صدر منتخب ہو جانے کے بعد آصف علی زرداری جب اپنے دفتر میں پہلی مرتبہ داخل ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کا بیٹا یا کوئی بیٹی نہیں کوئی بہن یا پیپلز پارٹی کا کوئی جیالا بھی نہیں بلکہ صرف اور صرف یہ کالم نگار اندر داخل ہوا تھا۔ ان کے اپنی نشست پر بیٹھ جانے کے بعد میں تقریباََ ایک گھنٹہ ان کے پاس اکیلا بیٹھا رہا۔ اس کے بعد لاہور سے سید عباس اطہر جنھیں مرحوم لکھنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں دو افراد کے ساتھ وہاں آئے اور ہم سب کافی دیر تک وہاں بیٹھے رہے۔

دُنیا آصف علی زرداری کو چاہے کچھ بھی کہتی رہے مگر ایک بات طے ہے کہ ان کا اس ملک کا صدر بن جانا ایک حیران کن واقعہ تھا۔ آدمی کہیں جونیئر کلرک بھی لگ جائے تو اس کا پہلے روز اپنے دفتر جانا ایک بڑا اہم واقعہ ہوتا ہے۔ اس مرحلے کی خوشی وہ اپنے کسی بہت ہی قریبی شخص کے ساتھ بانٹ سکتا ہے اور اس تناظر میں آصف علی زرداری نے مجھے یقینا ایک بہت بڑے اعزاز سے نوازا اور میں ان کی اس کرم فرمائی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

صحافی کی مگر یہ بدقسمتی ہے کہ اس کے دل میں محبت کم لیکن ذہن میں سوالات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ہر وقت ’’ساقی نے کچھ ملانہ دیا ہو‘‘ والا شبہ ذہن میں طاری رہتا ہے۔ میں ان کے سامنے والی کرسی پر مصنوعی خوشی دکھاتا ہوا بیٹھ تو گیا مگر وہ ساقی والا سوال دماغ میں گردش کرتا ہی رہا۔ آصف زرداری اپنے مخاطب کا ذہن بڑی تیزی سے پڑھ لیتے ہیں۔ اسی لیے میں حیران نہ ہوا جب انھوں نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ایوانِ صدر کے دروازے جنرل مشرف کے دنوں میں میرے لیے بند ہوا کرتے تھے۔ 2002کے بعد سے ہمارے لال حویلی والے مجاہد اور ان کی قیادت میں ’’سینئر صحافیوں‘‘ کی فہرست بنانے والے افسران پتہ نہیں کیوں مجھے ’’سینئر‘‘ نہیں سمجھتے تھے۔ حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں۔ مگر یہ فہرست اپنی جگہ قائم رہتی ہے کیونکہ ہماری ’’نظریاتی سرحدوں‘‘ کی حفاظت کرنے والے بھی اس فہرست کو اس ملک کے ممکنہ ’’غداروں‘‘ سے پاک رکھتے ہیں۔ آج کل یہ فہرست پرویز رشید کے پاس ہے۔ میں اور وہ ایک دوسرے کو 1969 سے جانتے ہیں اور ایک دوسرے کے قریبی نہ سہی بے تکلف دوست ضرور سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے مجھے ’’سنیئر صحافیوں‘‘ کی فہرست میں شمولیت سے ابھی تک محفوظ رکھا ہوا ہے اور اپنی اس حفاظت پر میں خلوصِ دل سے اپنے رب کا احسان مند ہوں۔

بہرحال زرداری صاحب نے مجھے بتایا کہ رات گئے انھیں خیال آیا تھا کہ میں اگر ان کے ساتھ ان کے صدرِ پاکستان والے دفتر میں داخل ہوا تو مجھے بڑی خوشی ہو گی۔ ’’اسی لیے علی الصبح تمہیں فون کر کے بلوا لیا۔ Sorry مجھے پتہ ہے تم دیر سے سوتے اور بڑی دیر سے جاگتے ہو۔ ’’پھر اچانک وہ خاموش اور اداس ہو گئے۔ میں نے غور کیا تو دریافت ہوا کہ ان کی نگاہیں اپنی میز پر رکھی محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر پر ٹکی ہوئی ہیں۔ میں اس ’’تنہائی‘‘ میں مخل نہ ہوا۔ پھر وہ خود ہی بولے کہ تم کس بنیاد پر بہت دنوں سے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ میں اس ملک کا صدر بن رہا ہوں۔ میں گھبرا گیا۔

یہ سچ تھا کہ میں نے سب سے پہلے آصف زرداری کے صدرِ پاکستان بن جانے کے امکان کا کھلے الفاظ میں ذکر کر دیا تھا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتا رہا کہ کاش وہ یہ عہدہ حاصل نہ کریں۔ اقتدار سے دور رہ کر اپنی جماعت کی تنظیم سازی پر توجہ کریں۔

میرے اندر کے صحافی کا ذہن خبردار ہو گیا۔ شک ہوا کہ محبت جتلا کر مجھ سے میری خبر کا Source جاننا چاہ رہے ہیں اور پھر یہ سوال کہ میں ان کے صدر بن جانے کے امکان کی مخالفت کیوں کر رہا تھا۔ انھیں غچہ دینے کے لیے بس اس بات پر ڈٹا رہا کہ رپورٹر کے ذہن میں کچھ امکانات بہت ساری وجوہات کی بناء پر خود بخود امڈ آتے ہیں۔ ان کا تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ بس خوشی اس وقت بہت زیادہ ہوتی ہے جب آپ کی سوچی ہوئی بات سچی ثابت ہو جائے۔

انھیں تو میں نے بتایا نہیں تھا لیکن آپ کو بتا دیتا ہوں کہ اسلام آباد کی ایک دعوت میں اگست 2008 کے آخری ہفتے میں میری اس وقت اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر این پیٹرسن سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے میزبان کو کہا تھا کہ وہ اکیلے میں مجھ سے ایک بات کرنا چاہتی ہے۔ میزبان نے اپنے پاس باغ کے ایک کونے میں دو کرسیاں لگوا کر ہمیں ایک دوسرے کے سامنے بٹھوا دیا۔ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد سفیر صاحبہ نے مجھ سے پوچھا کہ میری آصف علی زرداری سے آخری ملاقات کب ہوئی تھی۔ میں نے صاف بتا دیا کہ 2008 کے انتخابات کے فوری بعد جب وہ اسلام آباد آئے تو رات گئے میرے ایک صحافی دوست ان کے پاس بیٹھے تھے۔ وہاں مجھے بھی بلوا لیا گیا۔ پھر چند روز بعد انھوں نے اسلام آباد کے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کو کھانے پر بلایا تھا۔ میں بھی وہاں تھا۔ ہر صحافی ان سے جاننا چاہ رہا تھا کہ وہ شاہ محمود قریشی، احمد مختار اور یوسف رضا گیلانی میں سے کس کو وزیر اعظم بنوا رہے ہیں۔

زرداری صاحب نے بتا کر نہ دیا۔ مگر جب کھانا لینے کے لیے میں ہاتھ میں پلیٹ لیے ایک کونے میں کھڑا تھا تو یوسف رضا گیلانی میرے پاس آئے۔ میری گیلانی صاحب سے کوئی ذاتی شناسائی نہ تھی۔ مگر انھوں نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا اور گلے لگایا۔ مجھے شک ہوا کہ ان کا انبساط ممکنہ وزیر اعظم والا ہے۔ اس کے بعد آصف علی زرداری سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ مگر جس روز جنرل مشرف نے اپنا استعفیٰ دینا تھا اس سے ایک رات پہلے زرداری صاحب نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ ’’کل تمہاری اس آمر سے جان چھوٹ جائے گی‘‘۔ میری بات سن کر سفیر نے تفتیشی پولیس والوں کی طرح اعلان کیا کہ وہ یہ بات نہیں مان سکتی کہ مجھے یہ خبر نہ تھی کہ آصف زرداری مشرف کو ہٹا کر اس کی جگہ لینا چاہ رہے ہیں۔ سچی بات ہے این پیٹرسن کا یہ کہنا میرے لیے بہت بڑا انکشاف تھا۔ مگر میں ہوشیار بیٹھا رہا۔ بس یہ پوچھتا رہا کہ امریکا ان کے اس فیصلے کو کس طرح دیکھتا ہے۔ موصوفہ نے بے اعتنائی سے جواب دیا کہ اگر نو منتخب اسمبلیاں انھیں ووٹوں کی اکثریت سے صدر بنا لیں تو امریکا رکاوٹ کیوں ڈالے گا۔ میری ’’خبر‘‘ درحقیقت امریکی سفیر کے اس جواب سے بنی تھی۔

آصف علی زرداری کے صدر بن جانے کے بعد گزشتہ پانچ برسوں میں میری ان سے اکیلے میں دس سے زیادہ ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ پانچ چھ مرتبہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ملا ہوں۔ اس پورے عرصے میں ایک بار بھی میں نے ملاقات کی درخواست نہیں کی تھی۔ پیش قدمی ہمیشہ ان کی طرف سے ہوئی اور وہ بھی اس فون نمبر سے جو وہ ذاتی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ صرف تین بار ان کے کسی معتمد کا فون آیا۔ وہ بھی یہ معلوم کرنے کہ آیندہ دو تین دن میں اسلام آباد میں ہوں گا یا نہیں۔ شاید صدر صاحب ملاقات کرنا چاہیں۔ آصف علی زرداری کی سیاست میں یقینا بہت ساری خامیاں ہیں۔ مگر ذاتی حوالے سے ان کی بہت ساری خوبیاں ہیں جو مقتدر لوگوں کے نصیب میں بہت کم لکھی جاتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔