وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکا

شکیل فاروقی  منگل 9 جولائ 2019
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

پاکستان کے دفتر خارجہ نے 5 جولائی بروز جمعرات کو ان خبروں کی باضابطہ تصدیق کردی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا کے دورے پر جا رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق یہ ملاقات 22 جولائی کو واشنگٹن میں ہوگی۔ دونوں سربراہوں کی میٹنگ کا ایجنڈا سفارتی ذرایع کے زیر اہتمام تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی امریکا یاترا کی خبریں بہت دنوں سے میڈیا میں گردش کر رہی تھیں لیکن سرکاری ذرایع نے ان خبروں پر خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ امریکا یاترا کو کسی بھی سربراہ حکومت کے لیے پذیرائی کی سند کا درجہ حاصل ہے، مگر یہ یاترا امریکی صدر کی خواہش پر خصوصی بلاوے پر ہو تو پھر سونے پر سہاگہ والی بات ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے مجوزہ دورہ امریکا کے حوالے سے بلاتکلف یہی کہا جاسکتا ہے کہ:

گزارش کرکے بلوایا گیا ہوں

میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں

وزیر اعظم عمران خان کی یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ اپنے پیش روؤں کی طرح انھیں امریکا کے دورے کے لیے کوئی تگ و دو نہیں کرنی پڑی اور یہ دورہ انھیں بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا والی کہاوت کے مصداق بیٹھے بیٹھے میسر آگیا ہے۔ اب اگر عمران خان کے حاسدوں کے پیٹ میں اس حوالے سے مروڑ اٹھنے لگیں تو اس کا کوئی علاج ممکن نہیں۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ’’بن مانگے موتی ملیں‘ مانگے ملے نہ بھیک۔‘‘ ہما عمران خان کے سر پر اس وقت ہی بیٹھ گیا تھا جب وہ 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ کے فاتح قرار پائے تھے اور جس کے صلے میں ’’کپتان‘‘ کا لقب ان کے نام کا جزو لاینفک بن گیا۔

وزیر اعظم عمران خان پر صدر ٹرمپ کی یہ نظر کرم محض حسن اتفاق نہیں بلکہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا ہے۔ یہ امریکی صدر کا دعوت نامہ نہیں بلکہ ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ ہے جس کے حوالے سے علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آرہا ہے:

بے چارہ پیادہ تو ہے اک مہرہ ناچیز

فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ

انکل سام کی یہ برسوں پرانی روش ہے کہ جب بھی انھیں کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے انھیں پاکستان کی دوستی یاد آجاتی ہے اور پاکستان کے حوالے سے صرف ان کا لب و لہجہ ہی نہیں بلکہ رویہ اور سلوک بھی یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ گرگٹ نے اپنا رنگ تبدیل کرنا انکل سام ہی سے سیکھا ہے۔ امریکا مطلب کا یار ہے جس کے بارے میں بلا خوف تردید دھڑلے کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ:

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

طوطا چشمی امریکا کی خاصیت اور دیرینہ روایت رہی ہے۔ مطلب کے وقت دوستی جتانا اور اس کے بعد آنکھیں پھیر لینا امریکا کی پالیسی کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اس حوالے سے پاک امریکا تعلقات کی تاریخ واقعات اور شواہد سے بھری پڑی ہے۔ امریکا کو جب بھی پاکستان کی ضرورت پیش آئی ہے اس نے فوراً دوستی کی پینگ بڑھائی ہے اور  پھر جب اس کا مطلب نکل گیا تو نوبت ’’رات گئی بات گئی‘‘ تک جا پہنچی۔ بقول قتیل شفائی:

لوگ اقرار وفا کرکے بھلا دیتے ہیں

یہ نہیں کوئی نئی بات چلو سو جائیں

وزیر اعظم عمران خان کا یہ دورہ امریکا اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس ملک کا ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ جولائی کا مہینہ تاریخی اعتبار سے امریکا کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسی ماہ کی 4 تاریخ کو 1776 میں امریکی ریاستوں نے جارج واشنگٹن کی ولولہ انگیز قیادت میں برطانیہ کے تسلط سے آزادی حاصل کی تھی، مجسمہ آزادی جس کی علامت ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا جو یو ایس اے کے نام سے مشہور ہے دنیا میں اپنے طرز کی پہلی جمہوری ریاست تسلیم کی جاتی ہے جہاں صدارتی نظام کے تحت Checks and Balances کا اہتمام کیا گیا ہے۔

پاک امریکا تعلقات کی تاریخ اور پس منظر برسوں پرانا ہے۔ یہ تعلقات وقتاً فوقتاً نشیب و فراز سے گزرتے رہے ہیں۔ ان تعلقات کی ابتدا اس وقت ہوئی جب 14 اگست 1947 کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے وطن عزیز کی آزادی کے تاریخی اعلان کے موقعے پر اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کے تہنیتی پیغامات دستور ساز اسمبلی میں پڑھ کر سنائے تھے۔

امریکی عوام سے ان کے سرکاری ریڈیو پر نشری خطاب امریکی جریدے کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو اور یو ایس اے کے پاکستان میں متعین پہلے سفیر کی اسناد سفارت قبول کرتے ہوئے بابائے قوم نے جن تاثرات کا اظہار کیا تھا وہ امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی جانب اہم اقدامات تصور کیے جاتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرنے والا ایک بالکل نیا ملک تھا جسے اس وقت عالمی سطح پر تعارف کی ضرورت تھی۔

اسی دوران امریکی صدر ٹرومین کی جانب سے 1950 میں پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو امریکا کے سرکاری دورے کی دعوت موصول ہوئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے نام صدر ہیری ٹرومین کے مبارک باد کے پیغام میں بھی وزیر اعظم لیاقت علی خان کا ذکر خاص طور پر موجود تھا۔ چنانچہ مئی 1950 میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے لیاقت علی خان نے امریکا کا سرکاری دورہ کیا۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اکتوبر 1949 میں امریکا کا طویل سرکاری دورہ کرچکے تھے مگر لیاقت علی خان کا دورہ امریکا اس اعتبار سے تاریخی اہمیت کا حامل تھا کہ ان کے لیے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے اپنا خصوصی طیارہ پاکستان بھیجا تھا۔

یہی نہیں بلکہ امریکی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر صدر ٹرومین اور ان کی اہلیہ کے علاوہ پوری کابینہ نے فوجی اعزاز کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم اور ان کی شریک حیات بیگم رعنا لیاقت علی کو خوش آمدید کہا تھا۔ یہ پروٹوکول اس لحاظ سے بھی غیر معمولی تھا کہ عموماً سربراہ مملکت اپنے ہم منصب کا خیرمقدم کرتا ہے جب کہ لیاقت علی خان سربراہ مملکت کے بجائے سربراہ حکومت تھے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پورے دورے میں اپنی تمام تقاریر میں ’’ٹریڈ ناٹ ایڈ‘‘ یعنی ’’امداد نہیں‘ تجارت‘‘ پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے اس دورے میں امریکی قیادت کے بعض مطالبات کو من و عن تسلیم کرنے سے بھی واضح اجتناب کیا تھا۔

لیاقت علی خان کی حکومت امریکا اور مغربی دنیا کے زبردست دباؤ کے باوجود عوامی جمہوریہ چین کی نئی ریاست کو پہلے ہی تسلیم کرچکی تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے اس دورے میں امریکی قیادت پر عالم اسلام کے مصائب خصوصاً کشمیر اور فلسطین کے معاملات میں امریکا پر موثر کردار ادا کرنے پر زور دیا تھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے PL480 کے تحت امریکا سے امداد لینے سے بھی صاف انکار کردیا تھا۔

درحقیقت پاکستان میں امریکا کے اثر و رسوخ کے غلبے کی تاریخ کا آغاز 1963 کے وسط اور 1964 کے اوائل سے ہوتا ہے جب امریکا نے اس وقت کی پاکستانی حکومت کے ساتھ فوجی معاہدے کیے۔ اس حقیقت کا بھی بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان قربت میں لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

1979 میں افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کے عمل دخل کو روکنے کے لیے امریکا کو پاکستان کی ضرورت پیش آئی تو ایک بار پھر امریکا پاکستان رپ مہربان ہوگیا اور اب جب کہ امریکا کو افغانستان کی دلدل سے باہر نکلنے کے لیے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی مدد درکار ہے تو ایک مرتبہ پھر پاکستان پر نظر عنایت کی جا رہی ہے جس کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو امریکا بلایا جا رہا ہے۔

توقع ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی پیروی کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان بھی اپنے دورہ امریکا سے پاکستان کے حق میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کے دفاع اور معاشیات کے شعبے میں امریکا کی اعانت خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کے لیے پاکستان کی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ بھی موجودہ حالات کا سب سے بڑا تقاضا ہے جس کے لیے اس دورے سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ قوی امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لائیں گے اور پاکستان کے مفادات کا بھرپور تحفظ کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔