’’ شاہ زیب 25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘

اسٹاف رپورٹر  بدھ 11 ستمبر 2013
’’انھیں خاندان کے دیگر افراد کو بھی تو بچانا ہوگا ‘‘ سوشل میڈیا پر بحث  فوٹو: فائل

’’انھیں خاندان کے دیگر افراد کو بھی تو بچانا ہوگا ‘‘ سوشل میڈیا پر بحث فوٹو: فائل

کراچی:  شاہ زیب کے والدین کی جانب سے قاتلوں کو معافی دینے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑگئی ہے۔

زیادہ ترلوگوں نے مقتول کے والدین کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ کاکہنا تھا کہ والدین نے یہ اقدام خوف اور دھمکیوں کے باعث کیا۔ سوشل میڈیا پر کسی نے لکھا کہ ’’ شاہ زیب25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘ ، یہ بھی لکھا گیا ’’باپ بڑا نہ بھیا ، سب سے بڑا روپیہ ‘‘ ، ’’ پیسے میں بڑی طاقت ہوتی ہے ‘‘۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آئندہ اب کوئی کسی کے قتل پر ہمدردی کے لیے بھی ساتھ کھڑا نہیں ہوگا ‘‘، ’’شاہ زیب کے والدین کا یہ اقدام ناانصافی پر مبنی ہے‘‘۔ کسی نے یہاں تک بھی لکھا کہ ’’ ابھی تو ایک شاہ زیب مرا ہے ، آئندہ نجانے کتنے شاہ زیب مارے جائیں گے ‘‘ ۔

سوشل میڈیا پر شہریوں کا کہنا ہے کہ ’’شاہ زیب کے قاتلوں کو اس کے والدین نے تو معاف کردیا لیکن ہم معاف نہیں کریں گے‘‘ ، ’’ہمارے جذبات سے کھیلا گیا ، والدین کے اس اقدام سے ہمارے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے‘‘۔ یہ بھی لکھا گیا کہ ’’ شاہ زیب کے اہل خانہ اس کے قتل کے وقت تنہا تھے لیکن اب تو ہزاروں افراد ان کے ساتھ تھے، پھر بھی انھوں نے یہ قدم اٹھایا ‘‘ ، سوشل میڈیا پر ایک تبصرہ یہ بھی سامنے آیا کہ ’’شاہ زیب کے والدین کو خوف ، دبائو اور دھمکیوں کا سامنا ہوگا ، انھیں اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی تو بچانا ہوگا‘‘ ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔