شام پر امریکی حملے کے مضمرات

شبیر احمد ارمان  جمعرات 12 ستمبر 2013
shabbirarman@yahoo.com

[email protected]

امریکا غیر قانونی فوجی کارروائی کا جواز ڈھونڈنے کے لیے شام کے بارے میں صریحاً جھوٹ بول رہا ہے، شام نے امریکا پر حملہ کیا نہ امریکی علاقے پر قبضہ کیا اور نہ ہی امریکی فورسز کو نشانہ بنایا۔ لیکن پھر بھی امریکا شام کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ شام میں امریکی فوجی مداخلت سے تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، شام میں امریکی فوجی مداخلت سے بحران حل نہیں ہو سکتا۔ یہ سوالات و تجزیے عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے شام پر کسی بھی وقت حملہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ شام میں اہداف پر حملہ کرنا چاہیے۔ تاہم فوجی کارروائی کے لیے ٹائم لائن نہیں دے سکتے۔ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر بھی حملے کے لیے تیار ہیں۔ حملے کے لیے اقوام متحدہ کی اجازت ضروری نہیں۔ دنیا کو بتانا ہو گا کہ امریکا جو کچھ کہتا ہے وہ کرتا ہے، شام کے ہتھیار امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

حملے کی منظوری کانگریس سے لوں گا۔ جس میں شام کے خلاف کارروائی کے لیے بحث ہو گی جو جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ کانگریس ملکی سلامتی کے حق میں ووٹ دے، میرے پاس کارروائی کا پورا اختیار ہے۔ شام میں کیمیائی حملے سے امریکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے، امریکا کو جنگ کے خطرات کا اندازہ ہے، شام میں کیمیائی انٹیلی جنس رپورٹس میں کیمیائی حملے کی تصدیق اور اس حوالے سے بھیانک تصاویر موصول ہوئی ہیں۔ 21 اگست کا حملہ،21 ویں صدی کا بد ترین واقعہ تھا، وہاں حکومتی مخالفین کی حمایت جاری رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ 31 اگست کو وائٹ ہائوس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ خیال رہے کہ کانگریس کا اجلاس 9 ستمبر کو ہونا تھا۔ سعودی عرب نے شام پر حملے کی مشروط حمایت کر دی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ یہی وقت ہے کہ شامی عوام کے خلاف حکومتی جارحیت روکنے کے لیے عالمی برادری اقدامات کرے اور اگر شامی عوام نے بشارالاسد کے خلاف امریکی حملے کی حمایت کی تو سعودی عرب بھی اس کی حمایت کرے گا۔

یاد رہے کہ شامی دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ پر شام کی فضائیہ نے زہریلی گیس سے عوام پر حملہ کیا تھا۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں1300 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ عرب ٹی وی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو تڑپتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک معالج کے مطابق سرکاری فوج نے سارین گیس سے حملہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ شام میں دو سال سے جاری خانہ جنگی میں زہریلی گیس کا یہ بد ترین حملہ ہے۔ جس نے سیکڑوں افراد کو سسک سسک کر مرنے پر مجبور کر دیا۔

شام کے صدر بشارالاسد نے خبردار کیا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ دوسری جانب شام نے امریکی حملہ ٹالنے کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کر لیا ہے۔ شامی سفیر بشار جعفری نے اقوام نے قوام متحدہ کے نام خط میں کہا ہے کہ عالمی ادارہ امریکی جارحیت رکوانے کے لیے کردار ادا کرے۔ شامی نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف امریکی فوجی مداخلت القاعدہ اور اس کے حلیفوں کی مدد کرنے کے مترادف ہو گی۔ شامی فوج نے نہیں بلکہ امریکی حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ دوسری جانب ممکنہ حملے کے خلاف شامی عوام نے ’’ہماری لاشوں پر سے‘‘ کے نام سے انسانی ڈھال بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد اہم جگہوں کی حفاظت کرنا ہے۔ شامی عوام کی بڑی تعداد دمشق کے ایک اہم یادگاری مقام مائونٹ کیسوئن میں جمع ہیں جہاں خیمے بھی لگائے گئے ہیں اور مرتے دم تک یہیں رہیں گے۔ شامی صدر بشارالاسد کے ننھے فرزند حافظ بشارالاسد نے اپنی عمر سے کچھ آگے بڑھ کر امریکا کی متوقع یلغار کو للکارا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے دوستوں کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے ننھے حافظ بشار کا کہنا تھا کہ ’’مجھے لگ رہا ہے کہ امریکا شام پر ضرور حملہ کرے گا کیوں کہ ہمارا ملک ہی امریکی فوجیوں کا قبرستان بنے گا۔‘‘

شام کی صورتحال پر امریکا اور روس آمنے سامنے ہیں۔ دونوں کے جنگی بیڑے خلیج فارس پہنچ گئے ہیں۔ علاقائی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ شام کے صدر کا کہنا ہے کہ فرانس نے امریکا کا ساتھ دیا تو نتائج بھگتے گا۔ فرانسیسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیمیائی حملے میں کم از کم 281 افراد مارے گئے ہیں۔ نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ خاموش رہے تو آمروں کو خطرناک پیغام جائے گا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیمیائی حملہ تو ایک ڈراما ہے۔ امریکا شام پر حملے کی ایک طویل عرصے سے منصوبہ بندی کر چکا ہے اور یہ سب اس کے نیو ورلڈ آرڈر کا ایک حصہ ہے۔ جہاں تک کیمیائی حملے کا تعلق ہے شام اس سے بریت کا اظہار کر چکا ہے مگر امریکا اس کے اس موقف کو تسلیم کرنے پر قطعی آمادہ نہیں اور شامی حکومت پر کیمیائی حملے کا الزام مسلسل تھوپ رہا ہے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ امریکا اس کے ثبوت سلامتی کونسل میں پیش کرنے سے قبل شام پر حملہ کرتا ہے یا کہ بعد میں لیکن یہ خدشہ ضرور ہے کہ امریکا شام پر حملہ کرنے والا ہے۔ کیوں کہ امریکا کہہ چکا ہے کہ اسے سلامتی کونسل و اقوام متحدہ سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس تناظر میں میں اقوام متحدہ کی رپورٹ بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہو گا اس سے پہلے بھی امریکا نے عراق پر ایٹمی مواد رکھنے کا الزام لگایا تھا اور اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اس کی تردید کی تھی اس کے باوجود امریکا نے عراق پر حملہ کیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بالکل اسی طرح جس طرح عالمی دہشت گردی کی تشریح ہونا باقی ہے لیکن امریکا جسے چاہے دہشت گرد قرار دے وہ دنیا کی نظر میں دہشت گرد قرار پاتا ہے۔ اوباما کہتے ہیں کہ شام کیمیائی ہتھیار اقوام متحدہ کے حوالے کر دے، حملہ نہیں کریں گے۔ کیا رعونت ہے۔ اب بہر حال شام کی باری ہے۔ اس سے صرف شام ہی نہیں بلکہ پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے آثار یہی نظر آتے ہیں۔ اﷲ خیر کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔