کامیابی کی دوڑ میں ناپید ہوتے رشتے

محمد ساجدالرحمٰن  جمعرات 11 جولائ 2019
کامیابی کی دوڑ میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان نہ کیجئے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کامیابی کی دوڑ میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان نہ کیجئے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

طلوع آفتاب کے وقت سمندر کنارے کافی دیر بیٹھنے کے بعد جنید نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا اور سمندر کی لہروں کو تعجب بھری نظروں سے گھورے جارہا تھا۔ اس کے چہرے سے اداسی واضح طور پر جھلک رہی تھی۔ ساحل سمندر پر موجود ریت کو بار بار مٹھی میں بند کرتا، مگر ہر بار قابو کرنے میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا۔

وہ ایک بہت بڑا بزنس مین تھا، لیکن اس کو یہ رتبہ پیدائشی طور پر نہیں ملا تھا۔ وہ ایک مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوا اور والدین کا اکلوتا وارث تھا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے معاشرے میں منفرد مقام حاصل کرنے کا عزم کرلیا تھا۔ شروعات میں چھوٹی چھوٹی کمپنیوں میں انٹرن شپ کی لیکن وہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ اکثر تنہائی میں سوچتا کہ ان چھوٹے چھوٹے اداروں میں کام کرنے سے وہ مقام کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکتا، جس کا وہ خواہاں ہے۔ والدین نے لاکھ سمجھایا کہ انہیں دولت اور رتبے سے کوئی غرض نہیں، بس تھوڑی آمدن میں بھی گزارا کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو دور نہیں بھیجنا چاہتے تھے، کیونکہ لاکھوں دعاؤں کے بعد اللہ نے اُنہیں اولاد سے نوازا تھا۔

جنید کی آنکھوں میں تو بس خواب ہی خواب تھے، جن کی تعبیر اس کے آبائی شہر میں ہرگزممکن نہ تھی۔ آخر ایک دن اس نے رخت سفر باندھا اور اپنے خوابوں کے شہر کا رخ کیا۔ وہاں اس کا کوئی اپنا نہیں تھا۔ ہر شخص اجنبی تھا۔ چند دن کی مسلسل تگ ودو کے بعد اسے ایک اچھی کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ تنخواہ تو اتنی اچھی نہ تھی لیکن اب وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ وہ دن رات محنت سے کام کرتا اور اپنے باس سے داد سمیٹنے کی ہر ممکن کوشش کرتا۔

مصروفیات کے باعث زیادہ تر اس کا موبائل فون بند ہوتا۔ اسی وجہ سے کبھی کبھار ہی اپنے والدین سے بات کرپاتا۔ جب بھی اُس کی والدہ سے بات ہوتی تو اپنی کامیابیوں کے قصے سناتا۔ ماں بھی اپنے بیٹے کی خوشیوں میں شریک ہوتی اور پھولے نہ سماتی۔ اپنے رشتے داروں اور پڑوسیوں کو دوڑ دوڑ کر اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتی۔ جنید جیسے جیسے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتا جارہا تھا، اس کا والدین سے رابطہ اتنا ہی کم ہوگیا۔ ٹیلفونک گفتگو کےلیے بھی والدین کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ جنید کو گھر سے نکلے 5 سال بیت چکے تھے۔ ایک دن حادثے میں اس کے والدین جہان فانی سے ہمیشہ کےلیے کوچ کرگئے۔ دونوں کی آخری رسومات ادا کرنے کےلیے جنید نے مجبوراً کچھ دن آبائی شہر قیام کیا اور پھر اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہوگیا۔

تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد اس نے شادی کرلی اور اللہ نے اسے گڑیا جیسی بیٹی سے نوازا۔ جنید شادی کے بعد اپنے بیوی بچوں کو بھی وقت نہیں دے پاتا تھا، کیونکہ اس کی منزل تو ابھی بھی کہیں دور تھی۔ کئی کئی دن اور رات گھر سے باہر گزارتا۔ جب کبھی گھر آتا سوائے سونے کے کسی سے ملاقات نہیں کرتا تھا۔ لاکھ سمجھانے پر بھی جب کوئی سدھار نہ آیا تو بیوی نے تنگ آکر اس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس کے نزدیک زندگی کا اصل مقصد نام اور پیسہ کمانا تھا۔ تمام رشتے محض ایک دکھاوے کے سوا کچھ نہ تھے۔ اسے لفظ ’’خوشی‘‘ کے مطلب تک کا پتہ نہیں تھا۔

آخر برسوں کی کڑی محنت سے ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کے بعد اس نے اپنی منزل کو حاصل کرلیا۔ اسے ایک شاندار تقریب میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پورا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا اور وہاں بیٹھا ہر شخص اس کی کامیابیوں پر رشک کررہا تھا۔ وقت کی ریت کا معمولی سا تنکا جس نے محنت سے ثابت کردیا کہ حوصلہ اور لگن ہو تو دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں۔ وہ بہت خوش تھا اور اپنی کامیابیوں کو کسی اپنے کے ساتھ بانٹنا چاہتا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے بیٹی کو کال کی، لیکن کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ اتنی بڑی کامیابی کے باوجود عجب پریشانی اور کشمکش میں مبتلا ہوگیا۔ اسے سامنے میز پر پڑے ایوارڈز بے معنی سے لگ رہے تھے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ دنیاوی کامیابیوں کی لالچ میں زندگی کا بڑا حصہ گزار چکا تھا۔ اپنے ماں باپ کے چہروں کو یاد کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے ذہن میں یادوں کے چند دھندلے نقوش تھے۔ روزانہ صبح اٹھنے کے بعد کافی دیر سمندر کنارے بیٹھ کر اپنے پیاروں کے ساتھ گزرے چند لمحات کو یاد کرنے کی کوشش کرتا۔ سوائے پشیمانی کے اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ جائیداد اور روپیہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی خوشیاں اس کےلیے اجنبی ہوچکی تھیں۔

ہمارے اردگرد جنید جیسے بیسیوں افراد موجود ہیں، جو ظاہری شان وشوکت کی خاطر والدین اور اولاد جیسی نعمتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ محض خوابوں کو پورا کرنے کی خاطر اپنے انتہائی اہم رشتوں کو بھلا دیتے ہیں۔ محنت کرنا اور کامیابی کےلیے تگ و دو کرنا خوش آئند بات ہے، لیکن ظاہری رعب و دبدبہ اور دولت کی خاطر والدین اور دیگر عزیز واقارب سے منہ پھیر لینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ دولت سے دنیا کی ہر چیز نہیں خریدی جاسکتی۔ زندگی کے آخری ایام میں مر مر کر جینے سے بہتر ہے کہ حالات کو اس نہج پر آنے ہی نہ دیا جائے۔

رشتوں کو نبھانے کےلیے وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بسا اوقات ہم لاپرواہی یا مصروفیات کے باعث اپنے قریبی رفقاء کو وقت نہیں دے پاتے جو کہ فاصلوں کو بڑھاوا دینے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک اور پریشان کن صورتحال یہ کہ اگر آپ کسی عزیز کو مصروفیات یا کسی اور وجہ کے باعث وقت نہیں دے پاتے تو وہ بھی آپ کو نظر انداز کرنا شروع کردے گا۔ ہمارا معاشرہ دراصل ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔

رشتے احساسات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر احساس ہی مر جائے تو ان ٹوٹے بکھرے رشتوں کی چبھن ایسے لاعلاج زخم دے جاتی ہے جو تادم مرگ رستے رہتے ہیں۔ رشتے ضرورت کے نہیں بلکہ عزت، اہمیت اور توجہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ رشتوں کی ڈور کی مضبوطی کےلیے غلط رویوں کو دل میں ہی دفن کرنا ضروری ہے۔

عصر حاضر میں مصروفیات کے علاوہ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے۔ نوجوان نسل اپنا فارغ وقت فیس بک اور واٹس ایپ سمیت سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر گزارنے کی عادی ہوچکی ہے۔ سوشل میڈیا کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتے ہیں اور اپنے والدین اور دیگر عزیزو اقارب کے ساتھ وقت گزارنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ سوشل نیٹ ورکنگ نے میلوں دور بیٹھے لوگوں کو تو آپس میں ملوادیا ہے مگر ایک ہی گھر میں رہنے والے اک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنالینے سے بھی مضبوط سے مضبوط رشتوں میں دراڑیں پڑجاتی ہیں۔ ذہنی سکون اور تعلقات کی مضبوطی کےلیے ضروری ہے کہ رشتوں کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔ اگر والدین کا سایہ موجود ہے تو ان کی عزت کی جائے۔ دین اسلام میں بھی رشتوں کی اہمیت پر انتہائی زور دیا گیا ہے اور والدین اور دیگر عزیزو اقارب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کے سخت احکامات دیئے گئے ہیں۔ اپنے والدین اور دیگر عزیز و اقارب کی قدر کریں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔

دنیاوی عزت اور رعب ودبدبے کی خاطر اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان نہ کیجئے۔ اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ آپ محنت نہ کریں بلکہ اپنے قیمتی وقت کا تھوڑا حصہ اپنے قریبی احباب کو بھی دیں۔ لوگوں کے چہروں پر مسکان کی وجہ بنیں اور اگر کوئی عزیز مصروفیات کے باعث آپ کو یاد کرنا بھول جائے تو پہل کریں اور ناراضگیوں کو بڑھاوا دینے سے اجتناب کریں۔ مٹی کے پتلے کی حقیت یہی ہے کہ اسے ایک دن اسی میں لوٹ کر جانا ہے۔ آخری ایام میں اچھی یادوں کے باعث آپ کے چہرے پر آنے والی مسکان ہی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد ساجدالرحمٰن

محمد ساجدالرحمٰن

بلاگر بطور افسر تعلقات عامہ پنجاب فوڈ اتھارٹی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جبکہ اخبارات اور میگزین میں بھی لکھتے رہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔