معاشی استحکام امن کی بحالی سے مشروط

ایڈیٹوریل  جمعرات 12 ستمبر 2013
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ایک اقتصادی ماڈل پر عمل پیرا ہے جس میں اہم ترقیاتی شعبوں کی نشاندہی کر کے انھیں ترجیح دی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ایک اقتصادی ماڈل پر عمل پیرا ہے جس میں اہم ترقیاتی شعبوں کی نشاندہی کر کے انھیں ترجیح دی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

دہشت گردی کی بین الاقوامی اور داخلی صورتحال کی اندوہناکی کی وجہ سے مضبوط عالمی معیشتوں کی حالت غیر ہو چکی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو سیاسی بھونچال، انتہا پسندی کی مقامی اور عالمی چنگاریوں، موسمیاتی تبدیلیوں، ان ملکوں کے عوام کے اپنے سماجی اور اقتصادی نظام سے بددلی، سرمائے کی نا منصفانہ گردش، بینکاری کے مالیاتی انحطاط اور بیروزگاری کے عفریت کا سامنا ہے اور اس ضمن میں عالمگیریت کے تحت عالمی معیشت سے جڑے جمہوری اداروں، انسانی حقوق کے تحفظ اور دہشت گردی کے شکار ممالک میں امن کی بحالی کے امکانات کی جتنی کوششیں ہو رہی ہیں اس کے آئینے میں وزیر اعظم نواز شریف کے ملکی معیشت کے بارے میں حالیہ بیان کا بڑی باریک بینی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے پاکستان میں معاشی سرگرمیاں بدترین صورتحال کا شکار ہیں، ملک مشکل ترین دورسے گزر رہا ہے، ایسی صورتحال کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جا سکتا، تمام وسائل بروئے کار لا کر نئے معاشی منصوبے شروع کریں گے، کرپشن اور نااہلی سے قومی ائیر لائن کو ماہانہ 3.3 ارب کا نقصان ہو رہا ہے، عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ درست جگہ استعمال ہونا چاہیے۔ وہ منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں ملائیشیا کے وزیر برائے حکومتی اصلاحات اور اعلیٰ سطح کے وفد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقعے پر ملائیشین وزیر نے ملک میں20 سال کے دوران ہونے والی ترقی کے خدوخال اور بنیادی اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کابینہ کو ملائیشیا کی ایئرلائن سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ ملائشیا جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے جس کی سیاست اور معیشت کو ڈاکٹر مہاتیر محمد جیسے زیرک، دور اندیش اور معاشی وژن رکھنے والے لیڈر نے بنایا اور سنوارا۔

ایشین ٹائیگرز نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دی، ان کے سماجی اور اقتصادی حالات بدلنے کو ترجیح دی، وہاں کرپشن کے خلاف سرکاری اور عدالتی سطح پر احتساب کا اتنا کڑا نظام ہے کہ کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ گزشتہ ادوار کے دوران ان کی حکومت آزاد منڈی کی معیشت کی پالیسی پر گامزن تھی جس کے نتیجے میں اس وقت تیزی سے اقتصادی ترقی ہوئی۔ ہم نے ایک بار پھر وسیع ویژن کے ساتھ وہی پالیسی شروع کی ہے۔ پاکستان کو پر امن اور اقتصادی طور پر مضبوط ملک بنایا جائے گا۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم آفس کے وزیر اور حکومت کی پرفارمنس مینجمنٹ کے سربراہ سینیٹر ادریس جالا نے اجلاس کو بتایا کہ ملائیشیاء نے مختصر مدت کے منصوبے وضع کر کے اپنی معیشت کو ترقی دی اور ان منصوبوں کے حصول کے لیے وقت مقرر کیا۔ ایک اور نکتہ ان کا یہ تھا کہ ایک شفاف عمل کے ذریعے پالیسیاں وضع کرنے اور نتائج کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کو شریک کیا گیا۔ ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی ترغیب کے لیے طریقہ کار کو آسان بنایا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ایک اقتصادی ماڈل پر عمل پیرا ہے جس میں اہم ترقیاتی شعبوں کی نشاندہی کر کے انھیں ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سسٹم کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے ملائشیا کے اصلاحاتی منصوبے کو مثالی قرار دیا۔ کیا ہم ایسی مثالیں قائم نہیں کر سکتے؟ پاکستان کو معاشی استحکام وہی قیادت عطا کر سکتی ہے جو ایک منصفانہ اقتصادی نظام کی بنیاد رکھنے کی ہمت کرے جب کہ ملکی معیشت قرضوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، ایک کشکول بدست ایٹمی ملک اپنی اقتصادی آزادی، خود انحصاری اور صنعتی ترقی کے لیے ملائیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر ملکی صورتحال بہتر بنا سکتا ہے۔ مگر اقتصادی ترقی سرمایہ کاری کی محتاج ہوتی ہے اور سرمایہ امن کا مطالبہ کرتا ہے، وہ معیشت جسے یومیہ اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہو جہاں سماجی سیاسی اور معاشی صورتحال کا منظر نامہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ سے لالہ زار ہو، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ ہو، قانون شکن دندناتے پھرتے ہوں وہاں معاشی استحکام ایک ’’ہرکولین ٹاسک‘‘ ہوتا ہے۔

پاکستان کو اقتصادی شعبے میں بریک تھرو کی ضرورت ہے تا کہ اسے آئی ایم ایف کی طرف سے یہ انتباہ نہ ملے کہ پاکستان نے شرائط پر عمل نہ کیا تو قرضہ پروگرام روک دیا جائے گا۔ ملکی سلامتی، خود مختاری اور معاشی آسودگی کی منزل تک پہنچنے کے لیے حکمران انقلابی اور غیر معمولی فیصلوں سے ملکی معیشت کا نقشہ بدل سکتے ہیں لیکن کب؟ ظاہر ہے اس وقت جب دہشت گردی سے قوم کو نجات ملے تب ہی جمہوریت اور معیشت کے ثمرات عوام کو ملیں گے۔ اس وقت ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خونی کھیل ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے، اگرچہ رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری ہے، مگر دہشت گرد بدمست جنگلی بھینسوں کی طرح کراچی کو پھر سے تاراج کرنے میں مصروف ہیں۔ پیر کو کوئی لاش نہیں گری تھی، لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔ مگر اگلے روز منگل کو 13 افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا، یہ کون سے عناصر ہیں جو ایک دن کا ’’امن بریک‘‘ دیکر 13 افراد کی ہلاکت سے اپنی بربریت اور درندگی کا اظہار کرتے ہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے جرائم اور ٹارگٹ کلنگ میں کمی کا اعلان کرنے کے چند گھنٹے بعد ہی ایک گھنٹے کے دوران مختلف واقعات میں سات افراد قتل کردیے گئے۔ اس طرح جرائم پیشہ گروہوں نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا، جب کہ منی پاکستان میں قتل و غارت کی تاریخ بتاتی ہے کہ دہشت گردوں کو لگام نہ ڈالی گئی تو یہ ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ ہلاکتوں کی کیمسٹری دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عناصر منظم طریقے سے ملکی معیشت کی تباہی کے کسی وحشیانہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور ان کے نیٹ ورک کو نیست و نابود کیے بغیر معیشت کے استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ کراچی پاکستان کا معاشی دل ہے اس لیے دہشت گردی کا زیادہ زور اسی مرکز پر ہے ۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کہنا ہے کہ کراچی میں پانچ یوم میں چھ سو بھتہ خور اور ٹارگٹ کلرز پکڑے گئے ہیں۔ دہشتگردی کی لہر نائن الیون کے واقعات کا نتیجہ ہے، وزیر داخلہ نے کہا کہ فاٹا میں گاؤں کے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں۔ نائن الیون کے حملے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا مگر پھر بھی سارا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا۔ نائن الیون کے بعد بھی پاکستان میں تین سال تک کوئی خودکش حملہ یا دہشت گردی کی واردات نہیں ہوئی۔ یہ دہشت گردی اور خودکش حملے اس وقت ہوئے جب سابق پرویز مشرف نے فوج فاٹا میں بھیجی پھر اس کے ردعمل میں ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں اور خود کش حملے شروع ہوئے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ ملک میں بارہ سال سے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ یہ کیوں ہوا؟ ان معروضات میں غور و فکر کا وافر سامان موجود ہے، معاشی مبصرین، حکومتی اکابرین دہشت گردی کے بنیادی اسباب و علل پر توجہ دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک عمل کو یقینی بنائیں۔ جو قوتیں جمہوری نظام، اسلامی اقدار و افکار اور طرز حکمرانی کے خلاف ٹکرائو اور ہلاکتوں کو اپنا ہتھیار بنائے ہوئے ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت اور معاشی ماہرین کو سیاسی، اقتصادی اور عسکری سطح پر یک ذہن ہو کر اپنی اسٹرٹیجی اور دہشت گردی مخالف میکنزم کی تیاری کا ہدف مکمل کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ادارہ جاتی احتساب ہو، کرپشن کو لگام دی جائے، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد ہو، اور دہشت گردوں کو ملک گیر سطح پر شکست دینے کا عزم کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔