تیسئر ٹاؤن میں آپریشن، اربوں روپے مالیت کی اراضی واگزار

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 11 جولائ 2019
سرجانی سیکٹر 8 کے کمرشل پلاٹس پر بھی لینڈ مافیا کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

سرجانی سیکٹر 8 کے کمرشل پلاٹس پر بھی لینڈ مافیا کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

 کراچی: کراچی میں لینڈ مافیا ایک مرتبہ پھر متحرک ہونے لگا، دیہہ تیسر میں قیمتی سرکاری اراضی پر قبضے کی کوشش ناکام، ایم ڈی اے کے ڈیمالیشن اسکواڈ اور پولیس نے بھاری مشینری کے ہمراہ مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے اربوں مالیت کی اراضی واگزار کرالی۔

ایکسپریس کے مطابق ادارہ ترقیات ملیر کے ڈیمالیشن اسکواڈ نے تیسر ٹاﺅن اسکیم 45 کے سیکٹر 56 میں طاقتور لینڈ مافیا کی جانب سے قیمتی کمرشل سرکاری اراضی پر کیے جانے والے قبضے کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی کو لینڈ مافیا سے واگزار کرالیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن میں محکمہ لینڈ انفورسمنٹ کے عملے اور علاقہ پولیس نے حصہ لیا، لینڈ مافیا کی جانب سے سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے گھروں کی تعمیر بھی شروع کردی گئی تھی جنہیں بھاری مشینری سے مسمار کیا گیا ہے۔ ایم ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 ایکڑ قیمتی کمرشل اراضی کو کامیاب آپریشن کے بعد واگزار کرایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شہر بھر میں لینڈ مافیا نے ایک مرتبہ پھر پنجے گاڑنے شروع کردیئے ہیں اور اس سلسلے میں سرجانی اور نارتھ کراچی میں موجود قیمتی سرکاری و رفاعی اراضی پر قبضوں کی شکایات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

اس سلسلے میں ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ لینڈ کے کرپٹ افسران کی مبینہ ملی بھگت سے قبضوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کےخلاف کے ڈی اے حکام کارروائی کرنے کے بجائے پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

کے ڈی اے ذرائع کے مطابق سرجانی سیکٹر 8 کے کمرشل پلاٹس پر لینڈ مافیا کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں جبکہ نارتھ کراچی سیکٹر فائیو اے ون میں قائم ایس ٹی پر قبضہ کر کے مکانات کی تعمیرات تیزی سے جاری ہیں جس کے خلاف ڈی جی کے ڈی اے کو شکایات درج کرانے کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے باعث قبضہ مافیا اور متعلقہ افسران کی مبینہ ملی بھگت سے قبضوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔