تفتیشی افسران کی عدالتی حکم عدولی کے باعث درجنوں مقدمات التوا کا شکار

محمد ارشد بیگ  جمعرات 12 ستمبر 2013
شہر میں جرائم کی شرح میں اضافے سے عدالتوں میں مزید مقدمات داخل ہوگئے، مقدمات کے التوا پر ملزمان کے وکلا نے بریت کی درخواستیں دائر کردیں۔  فوٹو: ایکسپریس / فائل

شہر میں جرائم کی شرح میں اضافے سے عدالتوں میں مزید مقدمات داخل ہوگئے، مقدمات کے التوا پر ملزمان کے وکلا نے بریت کی درخواستیں دائر کردیں۔ فوٹو: ایکسپریس / فائل

کراچی: سٹی کورٹ کی مختلف ماتحت عدالتوں میں اسلحہ ایکٹ سمیت دیگر درجنوں مقدمات تفتیشی افسران کی غفلت ، لاپروائی اور مسلسل عدالتی حکم عدولی کے باعث التوا کا شکار ہوگئے۔

گواہوں کی عدم حاضری اور شواہد و ثبوت پیش نہ کرنے پر استغاثہ مقدمات نمٹانے میں عدالت کی معاونت کرنے میں مکمل ناکام رہی، شہرمیں جرائم کی شرح میں اضافے سے عدالتوں میں مزید مقدمات داخل ہوئے جس سے ماتحت عدالتوں پرمقدمات کا بوجھ بڑھ گیا ،التوا اوراستغاثہ کی ناکامی پردرجنوں مقدمات میں ملوث ملزمان کے وکلا نے ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 249/A کے تحت بریت کی درخواستیں دائر کردیں جوڈیشل مجسٹریٹس نے دائر درخواستوں پر وکیل سرکار کو نوٹس جاری کیے تھے، نوٹس موصول ہوتے ہی پبلک پراسیکیوٹر شمیم احمد ضلع غربی کی عدالت کے جج مرتضی بلوچ کے روبرو پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ انھوں نے 10 سے زائد مقدمات کے تفتیشی افسران کو نوٹس جاری کیے اور طلب کیا تاہم انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی عدالت میں پیش ہوئے عدالت کو بھی آگاہ کیا۔

ان کے وارنٹ جاری کیے تاہم ان افسران نے مسلسل عدالتی احکام نظرانداز کیے ، انھوں نے تحریری طور پر استدعا کی کہ انھیں آخری موقع دیا جائے اور عدالتی حکم عدولی کے مرتکب پولیس کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور ان کی گرفتاری کا حکم دینے کی استدعا کی تھی،فاضل عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کی اور انھیں گواہوں کو پیش کرنے کا آخری موقع دیا ہے،اسلحہ ایکٹ کے الزامات میں ملوث ملزمان جمن ، مسعود احمد ، نوشاد خان ، محمد حنیف ، محمد عثمان ، عمران خان سمیت دیگر کے زیر التوا مقدمات میں گواہی کیلیے عدالت میں پیش نہ ہونے اور عدالتی حکم عدولی پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے۔

تھانہ سائٹ سب انسپکٹر راجہ عظمت محمود ، اہلکار میر حسن ، جاوید ، تھانہ سائٹ بی کے سب انسپکٹر عبدالوحید ، سب انسپکٹر غلام علی ، اہلکار سعید احمد ، تھانہ پیر آباد کے سب انسپکٹر جمیل اختر،سب انسپکٹر پولیس حلیم شاہ ،اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہادی بخش ، ایس آئی حاجی لیاقت ، اے ایس آئی ہادی اور سپاہی طارق ،تھانہ جیکسن کے سب انسپکٹر عبدالغفار نیازی ، چوہدری وارث ،اے ایس آئی محمد صابر ، اے ایس آئی محمد بشیر ، ایچ سی ،سہیل عالم ، اہلکار محمد سعید ، پیر آباد کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد ولی ،ایچ سی بچل ، ارشد ، الیاس سمیت دیگر کی گرفتاری کا حکم دیا ہے اور انھیں 29 ستمبر تک عدالتوں میں پیش کرنے کیلیے اعلیٰ حکام کو احکام جاری کیے ہیں، واضح رہے کہ مذکورہ تمام ملزمان کے وکلا نے بریت کی درخواستیں دائر کی ہیں اور موقف اختیار کیا ہے کہ استغاثہ ان کے موکلوں کے خلاف شواہد اور ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہے۔

مقدمات مسلسل دو اور تین برس سے گواہوں کی عدم حاضری کے باعث التوا کا شکار ہیں، انھیں مقدمات سے بری کرنے کی استدعا کی ہے ، دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی عبدالقدوس میمن نے 10 سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کے قابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں اور انھیں ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، عدالت نے عدالتی حکم عدولی کے مرتکب ہونے پر ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے، تھانہ کلری کے اے ایس آئی نے خالد پرویز، سب انسپکٹر صاحب دار ،سب انسپکٹر راجہ اختر علی،تھانہ کھارا در سب انسپکٹر انور ، اے ایس آئی اکبر علی، اے ایس آئی عرفان تنولی،فضل ،منظر حسین سمیت دیگر افسران نے قتل ، ڈکیتی ودیگر مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہونے سے انکار کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔