’’ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ان ہیلتھ‘‘ کا پہلا منصوبہ کراچی سے شروع ہوگا

صفدر رضوی  جمعـء 12 جولائ 2019
وزیراعظم کی نالج اکانومی ٹاسک فورس کے کوچیئرمین ڈاکٹرعطا الرحمن کی خصوصی بات چیت
فوٹو: فائل

وزیراعظم کی نالج اکانومی ٹاسک فورس کے کوچیئرمین ڈاکٹرعطا الرحمن کی خصوصی بات چیت فوٹو: فائل

کراچی:  وفاقی حکومت کے ادارے سینٹرڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی(سی ڈی ڈبلیو پی) نے وزیراعظم پاکستان کے’’ ٹیکنالوجی ڈرائیونالج اکانومی‘‘ منصوبے کے پہلے پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے۔

’’ ٹیکنالوجی ڈرائیونالج اکانومی‘‘ منصوبے کے پہلے پروجیکٹ کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)کے شعبے میں ’’پوسٹ گریجویٹ سینٹرفارآرٹیفیشل اینٹیلیجنس ان ایگریکلچراینڈ ہیلتھ سائنسز‘‘کا قیام کراچی میں کیاجائے گا، اس سینٹرکے قیام کے لیے جامعہ کراچی کا انتخاب کیاگیا ہے۔

منصوبہ جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹرفارکیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسزسے وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت شروع ہوگا تاہم سی ڈی ڈبلیوپی کی جانب سے ابتدا میں منصوبے کے ایک حصے آرٹیفیشل اینٹیلیجنٹ ان ہیلتھ سائنسز کی منظوری دی گئی ہے۔

منصوبے کے لییمجموعی طورپر525.680ملین روپے کی رقم سالانہ بجٹ میں مختص کی گئی تھی تاہم محضآرٹیفیشل اینٹیلیجنٹ ان ہیلتھ سائنسزکی منظوری کے سبب اب اس رقم کا75فیصد حصہ منصوبے پر خرچ ہوگا اورابتدامیں رواں مالی سال 2019/20میں منصوبے کے لیے 175.890 ملین روپے جاری کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کی نالج اکانومی ٹاسک فورس کے تحت بنائے گئے منصوبے 35سے زائد پروجیکٹ پر مشتمل ہیں جس کے پہلے پروجیکٹ کی منظوری گذشتہ ہفتے سی ڈی ڈبلیوپی کی جانب سے دی گئی ہے۔

وزیراعظم کی نالج اکانومی ٹاسک فورس کے’’کوچیئرمین‘‘ڈاکٹرعطاء الرحمٰن نے ’’ایکسپریس‘‘کوبتایاکہ سی ڈی ڈبلیوپی کی جانب سے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ابتدا میںآرٹیفیشل ان ہیلتھ سائنسز میں کام شروع کیا جائے جبکہ آرٹیفیشل ان ایگریکلچر پر فی الحال کام نہ شروع کیا جائے۔

منصوبے کی تفصیلات سے ’’ایکسپریس‘‘کوآگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹرعطاء الرحمٰن کاکہنا تھاکہ بجٹ کی رقم جاری ہوتے ہی امیدہے کہ ہم منصوبے پر دوماہ کے اندرہی کام شروع کردیں۔واضح رہے کہ اس پروجیکٹ کے تحت پاکستان میں صحت کے شعبے میں آرٹیفیشل اینٹیلیجنس کے استعمال کے لیے جن شعبوں میں افرادی قوت کی تربیت کی جائے گی ان میں ’’ایم آرآئی،ایکس رے اورسی ٹی اسکین‘‘کے میڈیکل ڈائیگنوسٹک ڈیٹا میں روبوٹکس تجزیے کیے جاسکیں گے جبکہ آٹومیٹیک میڈیکل ریکارڈ کیپنگ، مریض کے لیے آٹومیٹیک ٹریٹمنٹ ڈیزائن کرنا، آرٹیفیشل اینٹیلیجنس کے تحت ریموٹ کنٹرول مشینوں کے ذریعے سرجیکل پروسیجرکی ریموٹ سپرویژن جبکہ کینسر اوردیگرامراض کی ریبوٹکس سرجری شامل ہیں۔

اس سلسلے میں بنائے گئے ورکنگ پیپرمیں آرٹیفیشل اینٹیلیجنس ان ہیلتھ میں جن اپلیکیشنزکاتذکرہ کیاگیاہے ان میں آرٹیفیشل اینٹیلیجنس کی ایجادات کے ذریعے مریض کی مانیٹرنگ اورآٹومیٹک ڈیوائسز کے ذریعے سرجری شامل ہے جبکہ ورکنگ پیپرمیں کہاگیاہے کہ دنیا میں آرتھوپیڈک سرجری کے لیے پہلے ہی سے روبوٹکس اپلیکیشنزکا استعمال کیاجارہاہے اوراس سلسلے میں ’’Robodocs‘‘بنائے گئے ہیں ، دیگرسرجیکل پروڈکٹس میں بھی روبوٹکس اپیلیکشنزکااستعمال کیا جارہاہے جن میں دل کی بائے پاس سرجری اورپروسٹیٹ کینسر کی سرجری بھی شامل ہے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹرعطاء الرحمٰن کاکہناتھاکہاس منصوبے کے آغاز میںمتعلقہ افراد کو تربیت کے لیے یورپ کے بعض ممالک کے علاوہ چین، کینیڈااورامریکابھجوایاجائے گا جواس بات کی تربیت لے کرآئیں گے کہ آرٹیفیشل اینٹیلیجنس کی اپلیکیشنزکے ذریعے کس طرح بیماریوں کی تشخیص کی جارہی ہے۔ سینسرزکس طرح بنائے جارہے ہیں اوران سینسرزکے ذریعے میڈیکل ڈیٹاکی انٹرپریٹیشن کیسے ہوگی۔

انھوں نے کہاکہ یہکمرشل انٹرسٹ کا پروگرام ہے پہلے لوگوں کوتربیت کے لیے بھیجے گئے وہ تحقیق کریں گیجس کے بعد یہ بھی دیکھاجائے گاکہ اس پروگرام کیتجارتی بنیادوں پر کمرشل اپلیکشن کیسے ممکن ہے جبکہ اگلے مرحلے میں اس کی اپلیکیشنزکی مارکیٹنگ کے لیے پرائیویٹ سیکٹرکی خدمات بھی لی جائیں گی۔

ڈاکٹرعطاء الرحمٰن نے بتایاکہ رواں سال 29جنوری کووزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیرصدارت منعقدہ ’’ٹیکنالوجی ڈرائیون نالج اکانومی‘‘کی ٹاسک فورس کے اجلاس میں بتایاگیاتھاکہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی گلوبل ٹریڈکو ’’ہائی ٹیکنالوجی،میڈیم ٹیکنالوجی ،لوٹیکنالوجیlow Tech میں تقسیم کیاگیاہے جس میں ہائی ٹیک اورمیڈیم ٹیک پروڈکٹ کی تیاری اوربرآمدات گلوبل سطح پر 64فیصد ہے جبکہ پاکستان میں low tech کی برآمدات 87فیصد ہے جس میں زیادہ ترٹیکسٹائل کے شعبے میں ہے جبکہ معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہائی ٹیک اورمیڈیم ٹیک کی پروڈکٹ تیارکرکے اس کی برآمدات کریں جس کے لیے ٹاسک فورس کے اجلاس میں طے کیاگیاتھاکہ فوری طورپرپاکستان میں آرٹیفیشل اینٹیلیجنس، روبوٹکس، جینومکس، انٹرنیٹ آف تھنگز، کلائوڈ کمپیوٹنگ ؍ بگ ڈیٹا، تھری ڈی پرنٹنگ، ری نیوایبل انرجی اور ایڈوانسڈ میٹیریلز کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔