جامعہ کراچی کے رہائشی علاقے میں گندا پانی جمع رہنے لگا، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 12 ستمبر 2013
جامعہ کراچی کے رہائشی علاقے میں گندے پانی کے تالاب مچھروں اور حشرات کی نشونما کا سبب بن رہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

جامعہ کراچی کے رہائشی علاقے میں گندے پانی کے تالاب مچھروں اور حشرات کی نشونما کا سبب بن رہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی:  جامعہ کراچی کے رہائشی علاقے میں ناقص سیوریج سسٹم کے باعث جگہ جگہ گندا پانی جمع ہے،بدبو اور تعفن سے رہائشیوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے ۔

جبکہ مچھروں کی افزائش نسل سے ڈنگی، ملیریا سمیت دیگر امراض پھیلنے کا خدشہ ہے،جامعہ کراچی میں مختلف تحقیقاتی شعبوں باغبانی اور ریسرچ کیلیے سیوریج کا پانی درکار ہوتا تھا جس کے لیے جگہ جگہ گڑھے بنائے جاتے تھے، یہ ریسرچ بند ہوچکی ہے اور گندے پانی کے اخراج کا نظام نہ ہونے کے باعث مکانوں اور شعبوں کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، تفصیلات کے مطابق ملک کی بڑی جامعات میں شمار کی جانے والے جامعہ کراچی کے رہائشی کیمپس میں ناقص سیوریج سسٹم کے باعث جگہ جگہ گندا پانی جمع ہے اور گندے پانی سے اٹھنے والے بدبو اور تعفن سے کیمپس کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

گندے پانی میں مچھروں کی افزائش سے ڈینگی ، ملیریا سمیت دیگر امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ، رہائشیوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ گندا پانی جگہ جگہ جمع ہونے کے حوالے سے کئی مرتبہ جامعہ کراچی کے شعبہ انجینئرنگ سمیت دیگر شعبوں کے افسران کو تحریری اور زبانی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے تاہم انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ، انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ کو آگاہ کیے جانے کے باوجود کوئی عہدیدار اب تک ان کے پاس نہیں آیا، ماضی میں جامعہ کراچی میں مختلف تحقیقاتی شعبوں کو باغبانی اور ریسرچ کیلیے سیوریج کا پانی درکار ہوتا تھا۔

جس کیلیے جگہ جگہ زمین میں گڑھے بنائے گئے تھے اور اب ریسرچ بند ہو چکی ہے گڑھے بھی پانی سے بھر گئے ہیں اور گندے پانی کے اخراج کا سسٹم نہ ہونے کے باعث رہائشی مکانوں اور شعبوں کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور انھوں نے بتایا کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو چند سالوں بعد جامعہ کراچی کے کیمپس کے مکانات اور شعبے کی عمارتیں گرنا شروع ہو جائیں گی، انھوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی میں چند سالوں کے دوران نئے تعمیر کیے جانیوالے شعبہ جات میں بھی سیوریج سسٹم موجود نہیں ہے اور وہاں بھی سیوریج کے پانی کیلیے گڑھے کھودے گئے ہیں۔

جامعہ کراچی میں سیوریج کی لائنیں بھی ناکارہ ہورہی ہیں اور سالوں گذرنے جانے کے باوجود انتظامیہ سیوریج لائنیں درست نہیں کروا سکی ہے جس کہ وجہ سے جامعہ کراچی کی زمین سیم وتھور والی زمین میں تبدیل ہو رہی ہے انھوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی سنجیدگی اور حکمت عملی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جامعہ کراچی کو قائم ہوئے کئی عشرے گزر گئے ہیں لیکن جامعہ کراچی کے سیوریج سسٹم کو واٹر بورڈ کے سیوریج سسٹم سے منسلک نہیں کیا جا سکا ہے ، جامعہ کراچی کے رہائشیوں نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے اپیل کی ہے کہ جامعہ کراچی کے سیوریج سسٹم کو واٹر بورڈ کے سیوریج سسٹم سے منسلک کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔