اپنی تخلیقات اور ایجادات کو چوری ہونے سے کیسے بچائیں؟

سید بابر علی  اتوار 14 جولائ 2019
انٹیلیکچول پراپرٹی اور کاپی رائٹ سے متعلق قوانین اور ضابطے

انٹیلیکچول پراپرٹی اور کاپی رائٹ سے متعلق قوانین اور ضابطے

’حقوق املاک دانش‘کہنے کو یہ صرف تین لفظ ہیں۔ یہ تین جادوئی لفظ، ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے ایسے محافظ ہیں جن سے ہم کبھی مستفید ہی نہیں ہوسکے، یہ تین جادوئی لفظ ایسی دولت کے نگہبان ہیں جس کی ہمیں قدر ہی نہیں، ہمارے گلی کوچوں، اسکول و جامعات میں علم و ہنر کے ایسے ایسے قیمتی موتی بکھرے پڑے ہیں، جنہیں اپنی قدر خود ہی نہیں، دہشت گردی، ظلم و ستم اور غربت کے خمیر سے اٹھنے والی ہماری نئی نسل کو شاید اس بات کا تو بخوبی علم ہے ‘ کہ وہ کوئلے کی سیاہی میں چھپے ایسے ہیرے ہیں۔

جنہیں محض تھوڑا سا تراشنے کی ضرورت ہے، پھر یہ اپنی آب و تاب سے دنیا بھر کی آنکھوں کو خیرہ کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ خود سے ناآشنا ہماری نئی نسل اپنی تمام تر توانائیوں کو وقتی فوائد کے لیے تباہ کر رہی ہے۔ ہم ایسے سُر تخلیق کرتے ہیں جو ہجر کو وصل اور وصل کو ہجر میں تبدیل کردیں۔ ہم جب کینوس پر برش چلاتے ہیں تو ہمارے کردار زندگی کی عملی تصویر بن کر رقصاں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم جب قلم اٹھاتے ہیں تو تحریر میں ایک ایک لفظ کو موتی کی طرح پُرو دیتے ہیں۔ شاید ہمارے نوجوانوں کے لیے ہی علامہ اقبال نے یہ شعر کہا ہے؛

’آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا

دانہ بھی تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو

ہمارے نوجوان اس وقت دنیا بھر میں ڈیزائننگ، مصوری کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی فری لانس کام کرکے فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں، لیکن ان کی ساری محنت کا صلہ، ان کی ساری تخلیقی صلاحیتوں کا کریڈٹ بین الاقوامی ادارے لے رہے ہیں، دوسرے ممالک، ادارے ہمارے نوجوانوں کی ذہانت، جمالیاتی حس، تخلیقی صلاحیتوں اور آئیڈیاز پر نقب لگا رہے ہیں اور ہم اس بات سے دانستہ یا نادانستہ طور پر لاعلم بیٹھے ہیں۔ اسٹیوجابز کا ایک مشہور قول ہے

’چیزوں کی چوری ہر ایک کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس عقل و دانش کی بہت زیادہ دولت ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ لوگ اسے چُرائیں۔ لوگ چیزیں چُرا رہے ہیں اور ہم خوش فہمی میں ہیں، ہمیں یقین ہے کہ اسی فی صد لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ وہ جو چیز چُرا رہے ہیں اس کا کوئی قانونی متبادل بھی نہیں ہے۔‘

ہم جانتے ہی نہیں ہیں کہ ’انٹیلکچوئل پراپرٹی‘ قانون کی شکل میں ہم دنیا کے 177ممالک میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے کا بلاشرکت غیرے مالک ہیں۔ ہم آئے دن خبروں میں سنتے رہتے ہیں کہ فلاں بھارتی موسیقار نے جو گیت گایا ہے وہ پاکستانی گلوکار کا ہے، اس کا مصنف پاکستانی ہے۔ فلاں کمپنی کا لوگو ہمارے ملک میں چند ڈالر میں بنواکر آگے ہزاروں ڈالر میں فروخت کیا گیا لیکن ہم سب کچھ جانتے بوجھتے بھی مذکورہ فرد یا ادارے کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے کے اہل ہی نہیں کیوں کہ جب ہم نے اپنے ہی کام کو اپنے نام سے آئی پی او میں رجسٹرڈ کروا کر ’حقوق املاک دانش ‘ کو تحفظ فراہم نہیں کیا تو پھر ہم کس بنیاد پر اس پر ملکیت کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟

ہماری عقل و دانش، ہماری تحریر، ہماری تصویر، ہماری تخلیق کی چوری میں خود ہمارے پاکستانی ہی پیش پیش ہیں تو پھر ہم دوسرے ممالک سے کیا شکوہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں ’حقوق املاک دانش‘ پر سب سے زیادہ نقب کتابوں اور رسائل پر لگائی جاتی ہے۔ کاپی رائٹ، ٹریڈ مارک اور پیٹینٹ کے قوانین اور معتبر سائنسی جریدے ’ گلوبل سائنس‘ کے چیف ایڈیٹر علیم احمد سے مواد کی چوری پر کی گئی گفت گو قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

٭بے حس قاری، بے رحم ٹیکنالوجی اور علمی حقوق کی پامالی

علمی مواد کی چوری نے ایک طرف تو رسد میں اضافہ کرکے علم کی طلب میں کمی کردی ہے تو دوسری طرف چوری شدہ مواد کے مفت میں مل جانے کی وجہ سے علم کی قدرومنزلت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مجھے ڈیجیٹل دنیا سے کوئی شکایت نہیں لیکن اسی ڈیجیٹل سرقے بازی نے ہمارے ہاں روایتی ذرائع ابلاغ (ٹریڈیشنل میڈیا) کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

آج سے تقریباً دس سال پہلے کچھ عاقبت نااندیش لوگوں نے بازار میں دست یاب مختلف کتابیں اسکین کرکے انٹرنیٹ پر رکھنا شروع کردیں، تاکہ ان دنوں نئے نئے وجود میں آنے والے ’’گوگل ایڈسینس‘‘ پروگرام سے فائدہ اٹھاسکیں اور ڈالر کما سکیں۔ تاثر یہ دیا گیا کہ ہمارا مقصد تو علم کا فروغ ہے۔ البتہ، کچھ عرصے بعد ہی تازہ ترین رسائل و جرائد کی اسکیننگ کرکے انہیں بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنا شروع کردیا گیا۔ بعض ستم ظریف تو ایسے تھے کہ انہوں نے نہ صرف کتابوں اور رسائل کی غیرقانونی اسکیننگ کی، بلکہ پی ڈی ایف بناتے وقت ان پر اپنے ادارے کا ’’واٹر مارک‘‘ بھی لگا دیا کہ جیسے وہ ان کے ادارے کی ملکیت ہو۔ انٹرنیٹ سے پیسہ کمانے کی اس روِش نے بطورِخاص کتابوں اور رسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

لیکن ’’مَرے کو مارے شاہ مَدار‘‘ کے مصداق، ٹیکنالوجی کی ترقی سے پاکستان میں علمی حقوق سے وابستہ مسائل بڑھتے ہی گئے۔ تازہ شائع شدہ کتب نہ صرف اسکین کرکے پی ڈی ایف میں تبدیل کی جانے لگیں بلکہ واٹس ایپ گروپس میں بڑی فراخ دلی سے مفت میں تقسیم بھی کی جانے لگیں۔ جو شخص کچھ رقم خرچ کرکے کتاب خریدنے کی سکت رکھتا تھا، وہ اس لیے کتاب خریدنے سے باز رہا کیوں کہ اسمارٹ فون پر پی ڈی ایف کی شکل میں موجود ہے؛ اور اسمارٹ فون پر موجود پی ڈی ایف کو اس لیے نہیں پڑھتا کہ کتاب کہاں بھاگی جارہی ہے… جب فرصت ملے گی تو پڑھ لیں گے!

ٹیکنالوجی کے ہاتھوں علمی حقوق کی پامالی کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج بہت سے معیاری رسائل بند ہوچکے ہیں، کیوں کہ قارئین کی بڑی تعداد انہیں چوری شدہ پی ڈی ایف کی شکل میں پڑھ لیا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں، تفریحی اور افسانوی طرز کے مشہور جرائد بھی پہلے کی نسبت آج صرف 40 فی صد ہی فروخت ہوپارہے ہیں؛ البتہ یہ رسائل و جرائد اپنے اخراجات کا بڑا حصہ اشتہارات سے پورا کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا خسارہ ایک خاص حد سے نہیں بڑھ پاتا۔ لیکن پاکستان سے شائع ہونے والے بیشتر جرائد یا تو بند ہوچکے ہیں یا پھر بند ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ کتابوں کا معاملہ تو اس سے بھی خراب ہے۔

اگر ہم 2000ء یا اس کے آس پاس کا جائزہ لیں تو اگر کوئی کتاب ایک ہزار سے دو ہزار کی تعداد میں بھی فروخت ہوجاتی تھی، اسے کام یاب قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن آج یہ پیمانہ سمٹ کر صرف 200 کتب کی فروخت تک محدود ہوگیا ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، کتاب کی اشاعت آج کل ہر اعتبار سے خسارے کا سودا رہ گیا ہے۔ علمی حقوق کی چوری کے معاملے میں قاری کا رویہ سب سے زیادہ خراب اور حوصلہ شکن ہے۔

پچھلے سال راقم نے اسٹیفن ہاکنگ کی آخری کتاب کا ترجمہ کیا۔ جب وہ کتاب (بڑے سوالوں کے مختصر جواب) شائع ہوئی تو بہت سے لوگوں نے ’’مفت پی ڈی ایف مل جائے گی؟‘‘ کی فرمائش کی؛ اور جب کسی سے کہا کہ وہ کتاب خرید لے تو جواب میں انتہائی بیہودہ کلمات سننے کو ملے۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اگر آپ نے اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب ترجمہ کی ہے تو کون سا احسان کیا ہے؟ یعنی ایک تو چوری، اوپر سے سینہ زوری!

پرنٹ میڈیا تو مغرب میں بھی دم توڑ رہا ہے، لیکن وہاں ڈیجیٹل میڈیا نہ صرف اس کے ایک آسان اور تیزرفتار متبادل کے طور پر جگہ لے چکا ہے بلکہ قلم کاروں اور اشاعتی اداروں کے لیے معقول آمدن کا ذریعہ بھی بن رہا ہے… کیوں کہ وہاں علمی حقوق کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں پر قارئین کی اکثریت ’’ای بُکس‘‘ کو خرید کر پڑھتی ہے۔

جس سے لکھنے والے کی بھی عزت و توقیر میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے اپنی علمی کاوش کا مناسب معاوضہ بھی ملتا ہے۔ ہمارے پاس وہ ساری ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی بدولت ہم ڈیجیٹل میڈیا کو فروغ دے سکیں، لیکن ہمیں اپنے قارئین کو بھی یہ سمجھانا پڑے گا کہ وہ مفت پی ڈی ایف کے نام پر علمی حرام خوری کرنے کے بجائے اپنی جیب سے رقم خرچ کرکے کتب پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ یقین کیجیے کہ اگر ہمارے یہاں بطورِخاص کتب نویسی کے حوالے سے علمی حقوق کی پامالی اور اس جانب سے برتی جانے والی بے حسی اور بے رحمی والی روِش ختم نہ کی گئی تو شاید آنے والی نسلوں میں ہمارے پاس انسانی شکل و صورت والے حیوانوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔

٭ٹریڈمارک اور اس کے حصول کا طریقۂ کار

انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کے مطابق کوئی بھی ایسا لفظ، جملہ، علامت یا ڈیزائن جو کسی بھی جنس (گڈز) کے منبع کو دوسرے فریق سے جداگانہ حیثیت یا فرق ظاہر کرے اسے ’ٹریڈ مارک‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی ایسا لفظ، جملہ، علامت یا ڈیزائن جو کسی بھی خدمت (سروس) کے منبع کو دوسرے فریق سے جداگانہ حیثیت یا فرق ظاہر کرے اسے ’سروس مارک‘ کہا جاتا ہے۔ رومن سلطنت میں لوہار اپنی تیار کردہ تلواروں پر ایک مخصوص مہر لگایا کرتے تھے، اور مورخین کے خیال میں یہ دنیا کا پہلا ٹریڈ مارک ہے۔ تاہم اس وقت تک ٹریڈمارک کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہ تھی۔

1266ء میں برطانوی بادشاہ ہینری سوم کے دورحکومت میں برطانوی پارلیمنٹ نے ٹریڈمارک کے حوالے سے پہلی قانون سازی کی، ا س قانون کے تحت تمام بیکریوں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ اپنی فروخت ہونے والی تمام ڈبل روٹیوں پر ایک مخصوص و منفرد نشان لگائیں۔ 1883میں جرمنی کی ایک کمپنی  Anheuser-Busch InBevنے اپنی بیئر کی بوتل پر شیر کے نشان کو بہ طور ٹریڈ مارک استعمال کیا۔ تاہم اس وقت تک ٹریڈ مارک کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہ تھی۔ ٹریڈمارک کے قانون کی جدید شکل 1857میں معرض وجود میں آئی۔

فرانس نے پوری دنیا کے لیے پہلے جامع ٹریڈ مارک سسٹم کے قانون کو پاس کیا جسے ’مینو فیکچرر اینڈ گڈ مار ک ایکٹ‘ کا نام دیا گیا۔ برطانیہ نے1862میں ’مرچنڈائز مارکس ایکٹ1862‘ کے تحت کسی کی ساکھ سے فائدہ اٹھانے اور دھوکادہی کرنے کے لیے کسی دوسرے کے ٹریڈ مارک کے استعمال کو مجرمانہ اقدام قرار دیا۔ پاکستان میں اس قانون پر عمل درآمد کے لیے ٹریڈ مارک رجسٹری انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان (آئی پی او پاکستان) کی پریمیئر باڈی ہے جو کہ ٹریڈ مارک آرڈینینس2001 کے تحت ٹریڈ اور سروس مارک کی رجسٹریشن کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ ایک وفاقی انتظامی ادارہ ہے.

جس کا دائرہ کار پاکستان کی جغرافیائی حدود میں ٹریڈ اور سروسز مارک تک محدود ہے۔ یہ ایک سول عدالت کی طرح کام کرتا ہے اور اس کے فیصلوں کو صوبائی ہائی کورٹس میں چیلینج کیا جاسکتا ہے۔ ٹریڈمارک رجسٹری کی سربراہی ایک رجسٹرار کرتا ہے جس کا دفتر کراچی اور علاقائی دفتر لاہور میں واقع ہے۔ ٹریڈ مارک آرڈیننس 2001ء کی تشہیر کے ساتھ ٹریڈمارک رجسٹری نے پاکستان میں حقوق املاکِ دانش کی اہمیت کے بارے میں بڑے پیمانے پر شعور اُجاگر کرنا شروع کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی پی او پاکستان نے انٹرپرینیورز کو اپنے سروسز اور ٹریڈمارک کے تحفظ کی جانب مائل کرنا شروع کیا ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو تمام قانونی تقاضوں کے ساتھ مستحکم کر سکیں۔

آئی پی او پاکستان کے ٹریڈ مارک آرڈیننس 2001 ء کی دفعہ 14 کی ذیلی دفعہ 3 کے کلاز (الف) اور دفعہ 17 کی ذیلی دفعہ 2 کلاز (الف) کے تحت کسی بھی ایسے ٹریڈمارک کو رجسٹرڈ نہیں کیا جاسکتا جو کسی اور کے ٹریڈ مارک سے مشابہت رکھتا ہو۔ پاکستان میں ٹریڈمارک کی رجسٹریشن کے لیے ایک قانون موجود ہے جس کے تحت ٹریڈمارک کی خلاف ورزی پر سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ پاکستان میں ٹریڈ/ سروس مارک کے حصول کا طریقۂ کار چار مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ تلاش کا ہے جس میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ٹریڈمارک رجسٹرڈ کروانے کے خواہش مند فرد یا کمپنی کی جانب سے جس ٹریڈ مارک کو رجسٹرڈ کروانے کی درخواست دی گئی ہے وہ کسی دوسرے فرد یا کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ نہ ہو۔ اگر مذکورہ ٹریڈ مارک کسی اور کے استعمال میں نہیں ہے تو پھر ٹریڈ مارک رول، 2004ء کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ ٹریڈ مارک کی ’کلاس‘ چیک کی جاتی ہے۔

اس رول میں جنس یا سروس کی بنیاد پر ٹریڈمارک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ نمبر ایک سے نمبر34  تک کی کلاس جنس (اشیاء) کے لیے مختص کی گئی ہے جب کہ نمبر 35 سے 45تک کی کلاس خدمات کے لیے رکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی کپڑے کے برانڈ کو رجسٹرڈ کروا رہے ہیں تو آپ کی درجہ بندی ایک سے 34نمبر کے درمیان ہی کی جائے گی، اور کسی قسم کی خدمات فراہم کرنے کی صورت میں آپ کے ٹریڈ مارک کی درجہ بندی 35سے 45تک کی کلاس کے درمیان کی جائے گی۔ ٹریڈ مارک کی کلاس منتخب کرنے کے بعد آپ کو آئی پی او رجسٹرار آفس سے ایک فارم TM-55 فراہم کیا جائے گا اور آپ اسے تمام تر تفصیلات کے مطابق پُر کرنے کے بعد مطلوبہ فیس کے ساتھ جمع کروادیں گے۔

انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کے ٹریڈمارک آرڈیننس، 2001ء کی 14 اور 17 کے تحت کسی بھی فرد یا ادارے کا ایسا ٹریڈ مارک رجسٹرڈ نہیں کیا جاسکتا جس کا مقصد کسی غلط ارادے یا غلط کام کی شروعات ہو، کسی مشہور ٹریڈمارک یا کمپنی کے نام یا نشان سے مماثلت رکھتا ہو، کسی ملک کے نام پر ہو، یا اس سے کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ فارم TM-55 کے بعد ایک اور فارم TM-1 جمع کروایا جاتا ہے جس میں مطلوبہ ٹریڈ مارک کا نام، اس کی ملکیت، شہریت اور کاروبار کی تاریخ ابتدا اور دیگر معلومات درج کی جاتی ہیں۔ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد ٹریڈمارک حاصل کرنے کا خواہش مند فرد یا ادارہ ایک اور فارم TM-48 آئی پی او رجسٹرار کو جمع کرواتا ہے۔

اس فارم میں مجاز افراد کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ اگر ٹریڈمارک رجسٹرار اس فارم میں بیان کی گئی تفصیلات سے مطمئن ہو تو پھر وہ ایک لیٹر جاری کرکے آپ کے ٹریڈ مارک کا اشتہار شایع کرواتا ہے۔ اگر کسی کو اس ٹریڈمارک پر اعتراض ہو تو اس اشتہار کی اشاعت کے بعد متعین کی گئی مدت میں اعتراض جمع کرواسکتا ہے۔ کوئی اعتراض نہ ہونے پر ٹریڈمارک رجسٹرار اس کو حتمی طور پر منظور کرکے سرٹی فیکیٹ کے اجرا کے لیے چھے ہزار روپے کا ڈیمانڈ نوٹ جاری کردیتا ہے۔ ٹریڈ مارک کے حصول کے چوتھے اور آخری مرحلے میں ٹریڈمارک کا خواہش مند فرد 6000 روپے فیس کے ساتھ ایک آخری فارم TM-11 جمع کرواتا ہے اس فارم کے جمع ہونے والے کے 60 دن بعد اسے مطلوبہ ٹریڈمارک کا سرٹی فیکیٹ مل جاتا ہے۔

٭ پیٹینٹ اور اس کے حصول کا طریقۂ کار

پیٹینٹ ’حقوق املاک دانش‘ کی ایک ایسی قسم ہے جس میں کسی موجد کو اس کا بات کا قانونی حق تفویض کیا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص مدت (بیس سال) تک اپنی ایجاد کی تیاری، استعمال، فروخت اور درآمد کو دوسروں کی دسترس سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا کے کچھ ممالک میں پیٹینٹ کو سول لا کے ماتحت رکھا گیا ہے۔ اب یہ پیٹینٹ کے موجد یا مالک پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ایجاد پر اگلے بیس سال تک اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ تاہم پیٹنٹ کا مالک باہمی معاہدے کے تحت کسی ایک یا ایک سے زیادہ پارٹیوں کو اپنی ایجاد کے استعمال کی منظوری دے سکتا ہے۔ اسی طرح پیٹینٹ کا مالک اپنی ایجاد کے مالکانہ حقوق کو کسی دوسرے کو فروخت کرنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ تاہم ٹریڈ مارک یا کاپی رائٹ کی طرح پیٹینٹ کی دوبارہ تجدید نہیں کروائی جاسکتی، اور بیس سال بعد یہ اپنے مالک کی دسترس سے نکل کر پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے۔ اور دوسرا فرد، یا ادارہ اس ایجاد کو اپنے حساب سے استعمال کرسکتا ہے۔

پاکستان نے تقسیم کے بعد 1948ء میں برطانوی دور کے پیٹینٹ اینڈ ڈیزائنز ایکٹ،1911ء کے سیکشن 55کے تحت پیٹینٹ آفس قائم کیا۔ پاکستان نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے ’ٹریڈ ریلٹڈ اسپیکٹس آف انٹیلکچوئل پراپرٹی رائٹس‘ (TRIPS)کے بعد 1911ء کے ایکٹ میں ترمیم کرکے ’پیٹینٹ آرڈینینس، 2000ء اور ’رجسٹرڈ ڈیزائن آرڈینینس،2000 ء نافذ کیا۔ مزیدبرآں ’رجسٹریشن آف لے آؤٹ ڈیزائنز آف انٹیگریٹڈ سرکٹس‘ کے قانون کو بھی ’رجسٹرڈ لے آؤٹ ڈیزائنز آف انٹیگریٹڈ سرکٹس آرڈینینس‘ کے نام سے شائع کیا۔ پیٹینٹ آفس اپریل2005ء سے انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان‘ کا حصہ ہے۔ کسی بھی تخلیق یا ایجاد کو بہ طور پیٹینٹ رجسٹرڈ کروانے کے ضروری ہے کہ؛

٭  یہ ایجاد، طریقہ (پراسس) یا پراڈکٹ ہونی چاہیے۔

٭  اس ایجاد میں کچھ نیا اور اچھوتا ہونا چاہیے۔

٭  اس میں ایجادی مرحلے شامل ہوں۔

٭  یہ صنعتی ایپلی کیشن کی صلاحیت کی حامل ہو۔

انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کے پیٹینٹ آرڈیننس، 2002 کے تحت پیٹینٹ کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کا تیکنیکی اور قانونی اہلیت کے تحت جائزہ لیا جاتا ہے۔ پیٹینٹ آرڈیننس، 2002 کے مطابق یہ ایجادات پیٹینٹ سے مبرا ہیں؛

٭  کوئی دریافت، سائنسی نظریہ، قانونِ فطرت یا ریاضیاتی طریقۂ کار۔

٭  کوئی ادبی، تمثیلی، میوزیکل یا فن کارانہ کام یا کسی جمالیاتی کردار کی تخلیق۔

٭  کوئی اسکیم، کسی بھی ذہنی کام کو ادا کرنے کے لیے وضح کردہ طریقہ یا اصول، کھیل کھیلنا یا کاروبار کرنا۔

٭  معلومات کی پیش کش، کمپیوٹر سافٹ وئیر۔

اسی طرح ان ایجادات کو پیٹنٹ نہیں کیا جاسکتا ہے؛

٭  مفاد عامہ یا اخلاقیات کے خلاف ایسی ایجادات جن سے انسان، ماحول، جانوروں، پودوں کی زندگی اور صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوں۔

٭  پودوں اور جانوروں ماسوائے خردبینی اجسام، پودوں اور جانوروں کی پیداوار کے لیے لازم حیاتیاتی طریقۂ کار ماسوائے غیرحیاتیاتی اور مائیکرو بایولوجیکل طریقۂ کار۔

٭ انسانوں اور جانوروں میں علاج کے لیے تشخیص، دافع امراض اور جراحی کے طریقۂ کار۔

٭  پہلے سے موجود پراڈکٹ اور طریقۂ کار کے نئے اور بعد کے استعمال۔

٭  کیمیائی مصنوعات کی طبعی خصوصیات میں معمولی تبدیلیاں۔

 ٭  پیٹینٹ کی اقسام

انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کے تحت پیٹینٹ کو درج ذیل تین اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔’عارضی اور مکمل تفصیلات‘ کے ساتھ پیٹینٹ کی حصول کی ایک عام درخواست، جس پر پیٹینٹ کی درخواست کی سرکاری تاریخ درج ہو۔

2۔’ترجیحی حق‘ کا دعویٰ رکھنے والی پیٹینٹ کے حصول کی ایک کنوینشنل درخواست، جس پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے رکن ملک میں پہلی بارپیٹینٹ کی درخواست کے لیے کی گئی آفیشل تاریخ درج ہو۔

3۔پہلے سے رجسٹرڈ پیٹینٹ میں بہتری کے لیے کی گئی نئی جدت میں اضافے اور ترمیم کے لیے کی جانے والی پیٹینٹ کی درخواست برائے اضافہ۔

٭ کاپی رائٹ اور اس کے حصول کا طریقۂ کار

کاپی رائٹ کا تصور چھاپہ خانوں کی ایجاد کے ساتھ ہی وجود میں آگیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ سولہویں صدی کے وسط میں برطانوی پارلیمنٹ نے کتابوں کی غیرقانونی طریقے سے نقل تیار کرنے کے خلاف ایک قانون نافذ کیا۔ ’لائسینسنگ آف دی پریس ایکٹ 1662‘ کے نام سے لاگو کیے گئے اس قانون کے تحت کتابوں کے لیے لائسنس کی رجسٹریشن کو لازمی اور اس کی ایک کاپی سرکار کی جانب سے بنائے گئے ’اسٹیشنرز کمپنی‘ میں جمع کروانے کو لازم قرار دیا گیا۔ کاپی رائٹ ایک ایسا قانونی ہتھیار ہے جو تخلیقی کام کرنے والوں کی تخلیق کو قانونی شکل فراہم کرتا ہے۔

یہ انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر تخلیقی کام کو تحفظ فراہم کرتا ہے، کاروباری ادارے اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے لوگو، ڈیزائن وغیرہ رجسٹرڈ کرواتے ہیں تو ایک مصنف اپنی تصنیف کو، ایک ڈیزائنر اپنے ڈیزائن کو اور ایک مصور اپنی تصویر کو کاپی رائٹ رجسٹرڈ کروا کر اپنے فن پارے کو قانونی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان نے برٹش کاپی رائٹ ایکٹ، 1911ء کو اپنایا، بعدازاں اس قانون کو کاپی رائٹ آرڈیننس، 1962ء سے تبدیل کردیا گیا، تاہم کاپی رائٹ کی رجسٹریشن کا کام 1967ء سے شروع ہوا۔ 1968میں پاکستان نے انٹرنیشنل کاپی رائٹ آرڈر جاری کیا۔ 2002ء میں کاپی رائٹ رولز میں ترمیم کی گئی۔ 2005ء میں اسے انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔

کاپی رائٹ قانون درج ذیل تخلیقی کاموں پر لاگو ہوتا ہے؛

٭ ادبی کام؛ کتب، جرائد، رسالے، لیکچرز، ڈرامے، ناول، کمپیوٹر پروگرامز، سافٹ ویئر اور ڈیٹا کو مرتب کرنے والے کام اس زُمرے میں آتے ہیں۔

٭فن کارانہ کام؛ تصاویر، نقشے، مصوری، نقش و نگار، جدولز، کیلی گرافی، مجسمہ سازی، تعمیراتی کام، لیبل ڈیزائنز، لوگوز، خطاطی اور اس طرح کے دیگر کام اس میں شامل ہیں۔

٭سنیماٹو گرافک کام؛ فلمیں، صوتی اور بصری کام، دستاویزی فلمیں وغیرہ اس میں آتے ہیں۔

٭ ریکارڈ ورک؛ اس زمرے میں ساؤنڈریکارڈنگز اور میوزیکل کام شامل ہے۔

کاپی رائٹ کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دہندہ کاپی رائٹ رجسٹرار ایک فارم (اسے آئی پی او کی ویب سائٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے) حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد درخواست دہندہ اپنے تخلیقی کام کی بابت رجسٹرار کو آگاہ کرتا ہے کہ یہ ڈیزائن، تصویر یا لوگو اس کا تیار کردہ ہے، یا کتاب کا مصنف اور سافٹ ویئر کا ڈیولپر وہ خود ہے۔ درخواست دہندہ فارم میں مانگی گئی تمام تر تفصیلات پُر کرکے اسے ایک حلفیہ بیان کے ساتھ رجسٹرار آفس میں جمع کرواتا ہے۔

اگر درخواست دہندہ نے اس تصویر، لوگو، سافٹ ویئر یا کتاب کو کسی سے خریدا ہے تو پھر وہ اس کے خالق کا قومی شناختی کارڈ نمبر، حلف نامہ اور دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کی کاپی بھی ساتھ جمع کروائے گا۔ مقررہ فیس کے ساتھ اس درخواست کو جمع کروانے کے بعد درخواست دہندہ رجسٹرار آف کاپی رائٹ کی طرف سے اخبار میں ایک اشتہار شایع کروائے گا کہ اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے تو وہ متعین کی گئی مدت کے دوران رابطہ کرے۔ اگر کوئی شخص اس کتاب، تصویر ، لوگو، ڈیزائن پر اپنی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتا تو اس کے بعد رجسٹرار آفس تمام قانونی تقاضے پورے کرکے سرٹی فکیٹ جاری کردیتا ہے۔

(انٹیلیکچول پراپرٹی رائٹس کے حوالے سے اس رپورٹ کا پہلا حصہ سنڈے میگزین کی گذشتہ اشاعت میں شایع کیا گیا تھا، جس میں حقوق املاک دانش سے متعلق قوانین اور ان سے بے اعتنائی کے باعث ہماری برآمدات اور معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے دوسرے حصے میں حقوق املاک دانش کے حصول کا طریقۂ کار اور متعلقہ اُمور کو موضوع بنایا گیا ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔