تاجر سے دو کروڑ روپے تاوان وصول کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 12 جولائ 2019
گرفتار ملزمان میں سے ایک نے ایک یتیم خانہ بھی کھول رکھا ہے، پولیس (فوٹو؛فائل)

گرفتار ملزمان میں سے ایک نے ایک یتیم خانہ بھی کھول رکھا ہے، پولیس (فوٹو؛فائل)

 کراچی: اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے تاجر سے 2 کروڑ روپے تاوان وصول کرنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تاجر کو اغوا کے بعد 2 کروڑ روپے تاوان وصول کرنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا، پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، حساس اداروں کے بیجز، وردیاں، بلٹ پروف جیکٹس، پی کیپ اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔

اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے ایس ایس پی نے بتایا کہ رواں ماہ 3 مئی کو ڈیفنس کے رہائشی تاجر رات 3 بجے گھر جا رہے تھے کہ اس دوران 2 گاڑیوں میں سوار نصف درجن ماسک لگائے مسلح ملزمان نے انھیں اور ڈرائیور کو گاڑی سمیت اغوا کرلیا اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بلوچستان میں واقعے نامعلوم فارم ہاؤس پر منتقل کر دیا۔

انھوں نے بتایا کہ اغوا کار مغوی تاجر کو حساس اداروں کے افسران و اہلکار ظاہر کرتے رہے اور رہائی کے عوض 20 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تاہم ملزمان اور مغوی کے درمیان 2 کروڑ روپے تاوان کا معاملہ طے ہوا جسے وصول کرنے کے بعد ملزمان نے مغوی تاجر کو ڈرائیور سمیت بوٹ بیسن بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب چھوڑ دیا۔

ملزمان نے مغوی کی رہائی کے عوض 20 کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا اور رہائی کے بعد بقیہ رقم کے لیے رابطہ کرکے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں جس پر تاجر نے پولیس سے رابطہ کر کے انھیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

پولیس نے مغوی تاجر کی جانب سے پولیس کو دی جانے والی معلومات پر رواں ماہ یکم جولائی کو خفیہ اطلاع پر 2 اغوا کاروں عادل منظور اور سید غلام حیدر کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گاڑی برآمد کرلی اور بعدازاں گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر 11 جولائی کو دیگر اغوا کار ساتھیوں علی حسنین شاہ، طاہر عرف لالہ اور امجد عرف بابر کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم نے یتیم خانہ بھی کھول رکھا ہے جس کے اکاؤنٹ گلگت اور کراچی میں ہیں اور اس فلاحی کام کے نام پر فنڈنگ کرتے ہیں جس کا تمام پیسہ سوئٹزر لینڈ اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے جس کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے جبکہ گروہ میں شامل دیگر 3 اغوا کاروں کی تلاش میں بھی پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔