بجٹ 2019-20ء؛ صاف پانی و سیوریج کی سہولیات کی فراہمی میں حکومتی ترجیحات !!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 15 جولائ 2019
حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں ، ماہرین آب اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہارِ خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں ، ماہرین آب اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہارِ خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

پانی زندگی ہے اور کرہ ارض پرموجود جاندار، صنعت، زراعت اور معیشت سمیت تمام شعبہ جات پانی کے مرہون منت ہیں۔ پانی کے ساتھ ساتھ سیوریج کا نظام بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ زیر زمین پانی اور سیوریج کا نظام ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔

صاف پانی اور سیوریج کے نظام پر عالمی سطح پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف میں بھی انہیں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے اور ابھی بے شمار کام کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے حال ہی میں بجٹ پیش کیا ہے جس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ادارہ ایکسپریس نے ’’بجٹ 2019-20ء میں صاف پانی و سیوریج کے حوالے سے حکومتی ترجیحات‘‘ کا جائزہ لینے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیاجس میں حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں، ماہرین آب اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

بیگم پروین سرور (بیگم گورنر پنجاب )

کسی بھی ملک میں جب کوئی حکومت آتی ہے تو اس کی ترجیحات میں تعلیم اور صحت شامل ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے ملک میں ان پر توجہ نہیں دی گئی جس کے افسوسناک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت 25ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جو بہت بڑی تعداد ہے۔ یہ پاکستان کا مستقبل ہیں مگر تعلیم کے زیور سے محروم ہیں۔ اس میں یقینا حکمرانوں کی کوتاہی رہی ہے تاہم ہمیں ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ درست ہے کہ سابق حکومت نے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے جن کے لیے باہر سے ماہرین بلائے گئے۔ ان پلانٹس کے بارے میں یہاں کسی کو تربیت نہیں دی گئی لہٰذا سوال یہ ہے کہ خراب ہونے کی صورت میں انہیں ٹھیک کون کرے گا ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ماہرین پہلے ہمارے لوگوں کو تربیت دیتے اور پھر پلانٹس لگائے جاتے تاکہ خرابی کی صورت میں ان کو ٹھیک کرنے والے یہاں موجود ہوں مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ میرے نزدیک پلانٹ لگاتے وقت علاقے کی آبادی کو مدنظر رکھا جائے اور وہاں کے لوگوں کو بھی اس میں منصوبے میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اس کا خیال رکھیں، اس طرح منصوبہ پائیدار رہے گا۔ چودھری سرور جب 2013ء میں پاکستان آئے تو انہیں ادراک ہوا کہ یہاں کا پانی بہت گندا ہے۔ معلوم ہوا کہ گورنر ہاؤس کے پانی میں 38 فیصد آرسینک موجود تھا۔ سر گنگا رام ہسپتال میں صاف و گندا پانی مکس ہوکر آتا تھا۔ اسی طرح داتا دربار جہاں کروڑوں زائرین آتے ہیں، وہاں کے پانی میں 36 فیصد آرسینک تھا۔ چودھری سرور نے سوچا کہ پہلے چند پلانٹس خود لگا تے ہیں پھر اس حوالے سے مہم شروع کریں گے۔ سرور فاؤنڈیشن کی طرف سے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے۔ اس کے بعد ہم نے ڈونرز تلاش کیے اور پانی پر کام کا آغاز کر دیا۔ سرور فاؤنڈیشن نے اب تک 200 سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔ ہم 1.8 ملین لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔ جب بھی کسی شخص کو کوئی کام سونپا جاتا ہے تو دیکھا جاتا ہے کہ کیا اس شخص میں قابلیت ہے اور وہ اس شعبے میں خاطر خواہ تجربہ رکھتا ہے۔ سرور فاؤنڈیشن نے مختلف اداروں کو اس حوالے سے خطوط لکھے جس کے بعد 4 ہزار افراد آئے جن سے بات چیت ہوئی کہ ہم ایک پلیٹ فارم پر کام کریں گے۔ اس کے بعد آب پاک منصوبہ بنا۔حکومت نے آب پاک اتھارٹی کیلئے جو بجٹ رکھا ہے وہ ابھی ریلیز نہیں کیا گیا، جب یہ بجٹ ملے گا تو اس حوالے سے کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ چودھری سرور آب پاک کے پیٹرن ہیں۔ اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہیں چاہتے کہ چودھری سرور کو یہ ذمہ داری دی جائے۔ چودھری سرور گزشتہ کئی برسوں سے پانی پر کام کر رہے ہیں اور اس حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہی کہ وہ میرے خاوند ہیں بلکہ ان کی محنت اور کام سب کے سامنے ہے۔ میں خواتین کی حالت زار بہتر کرنے کیلئے بھی کام کر رہی ہوں۔ میں جب خواتین کے پاس جاتی تھی تو وہ اپنے مسائل بتاتی تھیں کہ ان کے پاس پیسے نہیں، گھر میں کھانے کیلئے کچھ نہیں، بچے، خاوند بیمار ہیں وغیرہ ۔ پھر میں نے اس حوالے سے کام کا آغاز کیا اور ہنر گاہ ادارہ قائم کیا۔ اس سے اب تک 10 ہزار خواتین کو تربیت فراہم کی جاچکی ہے جو اس وقت اپنا روزگار کما رہی ہیں۔ اب ہم جیلوں میں ہنرگاہ کا قائم کر رہے ہیں۔ 28 جیلوں میں سے 15 میں ہنر گاہ کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں فلٹریشن پلانٹس نصب اور ہیپاٹائٹس کی سکریننگ بھی کی جارہی ہے کیونکہ ہیپاٹائٹس کا تعلق گندے پانی سے ہے۔ ہسپتالوں میں داخل مریضوں میں سے 50 فیصد مریض گندا پانی پینے سے بیمار ہوتے ہیں۔ ہر سال 30 فیصد اموات گندا پانی پینے سے ہوتی ہیں۔ اسی طرح 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں 2.5 فیصد شرح گندا پانی پینے سے مرنے والوں کی ہے۔ گندا پانی پینے کی وجہ سے لوگوں کو بیماریاں لاحق ہورہی ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ بیماری وباء کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اکتوبر 2018ء میں سرور فاؤنڈیشن نے ہیپاٹائٹس کے حوالے سے مہم کا آغاز کیا تھا جس کے بعد سے اب تک ہم 15 ہزار لوگوں کی سکریننگ کر چکے ہیں اور مفت ادویات بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 20 فیصد آبادی ہیپاٹائٹس سے متاثر ہے۔ اس وقت فیصل آباد میں دو ہسپتال سرور فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کرکام کر رہے ہیں جبکہ اب لاہور میں بھی دو ہسپتال کام شروع کر دیں گے جو ہیپاٹائٹس سکریننگ کریں گے۔ سرور فاؤنڈیشن کے جو واٹر فلٹریشن پلانٹس لگے وہ تمام چل رہے اور فلٹر بھی وقت پر تبدیل ہوتے ہیں۔ اب تو دنیا بہت ترقی کر چکی ہے۔ گھرکے کچن میں چھوٹے فلٹر لگ جاتے ہیں، ان کا استعمال ہونا چاہیے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے ہونے چاہئیں۔ گندے پانی کو کیسے صاف کرنا ہے، اس پر بھی کام کرنا چاہیے۔ فیکٹریوں کا گندا پانی صاف پانی میں ملتا ہے۔ اگر فیکٹریوں میں یہ لازمی قرار دے دیا جائے کہ فیکٹریوں کا گندا پانی فیکٹری میں ہی صاف ہوکر باہر جائے گا تو اس سے بھی کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔بدقسمتی سے اس وقت بے شمار خواتین کے پاس ٹائلٹ کی سہولت موجود نہیں ہے جو ماضی کی حکومتوں کی کوتاہی ہے۔ ہمیں تمام مسائل کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

محمد ہاشم ڈوگر ( صوبائی وزیر برائے بہبود آبادی پنجاب)

عوامی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا اور آبِ پاک اتھارٹی بھی قائم کی۔ ہماری توجہ کسی ایک علاقے پر نہیں بلکہ پورے صوبے پر مرکوز ہے لہٰذا مجھے امید ہے کہ اب حالات بہتر ہوں گے۔ ہم بجٹ کا ایک ایک روپیہ ایمانداری کے ساتھ عوام کی فلاح کے لیے خرچ کریں گے۔ اس فورم میں اچھی تجاویز سامنے آئی ہیں جن پر کام کیا جائے گا۔ قانون سازی میں جہاں بہتری یا نئے قانون کی گنجائش موجود ہے، حکومت کو اس حوالے سے ضرور کام کرنا چاہیے اور ہم نے اس پر کام بھی کیا ہے تاہم میرے نزدیک محض قانون سازی مسائل کا حل نہیں ہے۔ قانون کے مطابق چائلڈ لیبر جرم ہے مگر بے شمار تعلیم یافتہ افراد کے گھروں میں آج بھی چھوٹے بچے کام کر رہے ہیں لہٰذاجب تک عوام اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کردار ادا نہیں کریں گے تب تک بہتری نہیں آسکتی۔ میرے نزدیک قانون سازی سے زیادہ لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ پانی کے مسئلے کے ساتھ میرے محکمے کا گہرا تعلق ہے۔ 50کے قریب نوبل انعام یافتہ شخصیات سے پوچھا گیا کہ دنیا کے بڑے مسائل کیا ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ تین بڑے مسائل ہیں۔ پہلا مسئلہ آبادی، دوسرا پانی اور تیسرا ماحول ہے۔ پانی اور ماحول کا تعلق بھی آبادی کے ساتھ ہے۔ جن ممالک کی آبادی کم ہے ان کے مسائل بھی کم ہیں۔ ہمیں درپیش بیشتر مسائل کا تعلق آبادی سے ہے جن میں پانی و سینی ٹیشن بڑے مسائل ہیں۔ اس وقت پنجاب کی آبادی 11 کروڑ ہے جو اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 30 برس بعد دوگنی ہوجائے گی لہٰذا اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آبادی کنڑول نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں مسائل میں شدید اضافہ ہوگا اور ہماری آئندہ نسلیں اس پر ہمیں معاف نہیں کریں گی لہٰذا سب کو اپنی اپنی سیاسی وابستگیاں و مفادات پس پشت ڈال کر من حیث القوم اس حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ محکمہ بہبود آبادی کا سابق بجٹ 60 سے 65 کروڑ روپے تھا جس میں موجودہ حکومت نے اضافہ کرکے 2 ارب روپے کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کے سپیشل انیشی ایٹیو میں بھی آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے 10 ارب روپے کا فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر میں آبادی کے مسائل کو حل کیا جاسکے، اس میں پنجاب کا حصہ تقریباََ 4 ارب روپے ہے۔ پہلے اس شعبے میں تقریباََ60 کروڑ روپے خرچ ہوتے تھے جبکہ اب 6 ارب روپے خرچ کیے جائیںگے۔ ہم نے آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے آگاہی دینے کیلئے علماء حضرات کو آن بورڈ لیا ہے۔ اس حوالے سے کونلسنگ کا پروگرام بھی لایا جا رہا ہے جس کے تحت شادی سے پہلے جوڑوں کو آبادی کنٹرول کرنے کیلئے آگاہی لازمی دی جائے گی۔ پہلی مرتبہ ’’صحت مند ماں‘‘ منصوبہ لا رہے ہیں جس کے تحت ایسی غریب مائیں جنہیں بچہ پیدا ہونے کے بعد مزدوری کیلئے جانا پڑتا ہے، انہیں گھر پر رکھ کر وظیفہ دیا جائے گاتاکہ وہ 2 سے ڈھائی سال تک اپنے بچے کو دودھ پلائیں، اس سے نہ صرف بچے کی صحت بہتر ہوگی بلکہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ بھی آئے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ آبادی پر قابو پانے سے نہ صرف پانی و سینی ٹیشن کے مسائل بلکہ دیگر بڑے، چھوٹے مسائل بھی حل ہوجائینگے۔ اس طرح حکومت کے اخراجات بھی کم ہونگے اور عوام کو سہولیات دینے میں آسانی ہوگی۔ وزیر اعظم عام آدمی کی حالت زار بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ احساس پروگرام، شیلٹر ہومز، عوام دوست بجٹ اور نوجوانوں کیلئے خصوصی منصوبے اس چیز کے عکاس ہیں۔ پانی و سینی ٹیشن بنیادی حق ہے جو ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ جب تک عام آدمی کی حالت بہتر نہیں ہوگی ہم سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔

کنول لیاقت (رکن پنجاب اسمبلی و رہنما پاکستان مسلم لیگ،ن)

کہا جاتا ہے کہ پانی زندگی ہے ۔ اگر پانی زندگی ہے تو میرے نزدیک سیوریج کا چلنا زندگی کی علامت ہے۔ ہمیں ان دونوں چیزوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔ گزشتہ حکومت نے پانی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی۔ اگر ماضی پر نظر دورائی جائے تو فلٹر کا زیادہ رجحان نہیں تھا۔ ہم خود نل کا پانی، پینے کیلئے استعمال کر لیتے تھے۔ میاں شہباز شریف نے یونین کونسل کی سطح پر فلٹریشن پلانٹس لگا کر نہ صرف لوگوں کو صاف پانی فراہم کیا بلکہ ان میں اس حوالے سے احساس بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنے حصے کا کام کر دیا لہٰذا اب اس سے آگے بڑھنا ہے اور اچھائی کو لے کر چلنا ہے۔ افسوس ہے کہ گزشتہ 11 ماہ میں بے شمار فلٹریشن پلانٹس کے فلٹر تبدیل نہیں ہوئے ۔ میں نے یہ معاملہ اسمبلی میں بھی اٹھایا کیونکہ اگر فلٹر بہت گندا ہو اور اسے تبدیل نہ کیا جائے تو یہ پانی نل کے پانی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے لہٰذا یہ کوتاہی جس بھی محکمے کی ہے، اسے دور کیا جائے۔ صاف پانی کمپنی ہو یا آب پاک منصوبہ، اگر ہم عوام کو صاف پانی فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ اس کیلئے اپوزیشن ، حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ ابھی تک ہم نے ان مسائل کے حل کیلئے حکومت کے ساتھ اسمبلی میں مکمل تعاون کیا ہے اور قراردادیں بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔بجٹ کے دنوں میں یہ بات بہت زیادہ ہوتی رہی کہ پورے بجٹ کا 35 فیصد جنوبی پنجاب کیلئے مختص کردیا گیا، میں اس وقت بھی یہ سوال کرتی رہی کہ گلیاں اور نالیاں بنانے کے ساتھ ساتھ کیا صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی؟ وہاں ٹرانسپورٹ کے مسائل کی وجہ سے بچیاں سکول نہیں پہنچ پاتی، کیاصاف پانی پہنچ پائے گا؟ لاہور میں بھی بے شمار سکول ایسے ہیں جہاں پینے کا صاف پانی اور ٹائلٹ موجود نہیں۔ یہ بنیادی مسائل ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے۔ ملتان شہر میں 80 فیصد فلٹریشن پلانٹ بند ہوچکے ہیں جو افسوسناک ہے۔ حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔میرے نزدیک جو بھی فنڈ رکھا جاتا ہے اسے خرچ ضرور کیا جائے۔ پہلے بھی بجٹ مکمل خرچ نہیں ہو سکا، اگر یہی روایت آگے چلنی ہے تو پھر معاملات بہتر نہیں ہوں گے۔ منصوبوں کا نام تبدیل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا لہٰذا دکھاوے سے ہٹ کر عملی طور پر کام کرنا ہوگا۔ لاہور میں گندی پائپ لائنیں موجود ہیں،ان پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔میں نے گزشتہ روز سفیدے کے درخت کے حوالے سے اسمبلی میں ریکوزیشن جمع کروائی ہے۔ یہ درخت ہر روز 4 لیٹر پانی استعمال کرتا ہے۔ گرین اینڈ کلین پاکستان مہم میں زیادہ تر سفیدے کے درخت لگائے گئے،ایک طرف ہم کہہ رہے ہیں پانی کم ہے جبکہ دوسری طرف سفیدے کے درخت لگائے جارہے ہیں لہٰذا اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

مبارک علی سرور (ماہر آب)

اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی 13 فیصد آبادی کھلی فضا میں رفع حاجت کرتی ہے۔ یہ کسی بھی حکومت کے بس میں نہیں کہ وہ ہر گھر میں ٹائلٹ بنا دے اور نہ ہی ایسا دنیا کے کسی ملک میں ہوتا ہے۔ اس کے لیے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ٹائلٹ بنائیں اور اپنی صحت پر توجہ دیں۔ لاہور کے جتنے بڑے ہسپتال ہیں وہاں مریضوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں لہٰذا جب تک آبادی پر قابو نہیں پایا جائے گا تب تک جتنی بھی سہولیات دیں، فائدہ نہیں ہوگا۔ جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع خصوصاََ ڈی جی خان اور راجن پور میں سیوریج کے حوالے صورتحال خراب ہے۔ ڈی جی خان وزیراعلیٰ پنجاب کا ضلع ہے۔ وہاں کی 30 فیصد آبادی کھلی فضاء میں رفع حاجت کرتی ہے اور سب سے زیادہ خراب صورتحال بھی اسی ضلع کی ہے۔ لاہور میں 1 فیصد آبادی کھلی فضاء میں رفع حاجت کرتی ہے۔ 97 فیصد افراد کو پانی کی رسائی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ پانی صاف اور محفوظ ہو۔ ہمیں لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پانی کے ٹیسٹ کے حوالے سے حکومتی لیبارٹریاں موجود ہیں لہٰذا وہاں سے پانی کا ٹیسٹ کروالیں۔ حکومت کی جانب سے فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے لیکن اگر فلٹر تبدیل نہیں ہوگا، لوگوں کی منصوبے میں شمولیت نہیں ہوگی، وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مسائل کی نشاندہی نہیں کریں گے تومسائل حل نہیں ہوں گے۔’’کلین ڈرنکنگ واٹر فار آل‘‘ اور ’’کلین ڈرکنگ واٹر انیشی ایٹیو‘‘ کے تحت جو مختلف فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے ان میں سے زیادہ تر اس وقت بند پڑے ہیں، ان کو چلانا حکومتی محکموں کا کام ضرور ہے لیکن اس میں سماجی تنظیموں اور عوام کو بھی اپنی سماجی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اس میں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے کہ وہ لوگوں کو آگاہی دے۔ کہیں سیوریج کی لائن اوپر اور پانی کی لائن نیچے ہے تو کہیں پانی کی لائن اوپر اور سیوریج کی لائن نیچے ہے، وہاں سیوریج اور صاف پانی مکس ہورہا ہے جو نقصاندہ ہے۔ جب اس پانی کی کوالٹی ٹھیک نہیں تو فلٹرلگا بھی لیں ، فائدہ نہیں ہوگا۔ ہماری آبادی زیادہ ہے لہٰذا کسی بھی محکمے کیلئے اس کو سہولیات دینا مشکل ہے۔ لاہور میں پانی کی سطح 400 فٹ پر چلی گئی ہے جو تشویشناک ہے۔ حکومت قانون سازی کر سکتی ہے مگر صحیح معنوں میں عملدرآمد کیلئے عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ہم نے دنیا کے ساتھ پائیدار ترقی کے اہداف پر دستخط کیے ہیں جو ان کی شمولیت کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے۔ ہم یہ تو کہہ رہے ہیں کہ پانی و سینی ٹیشن کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جائے لیکن یہ محض لکھ دینے سے کچھ نہیں ہوگا، اس کے لیے عملی طور پر کام کرنا ہوگا۔ آب پاک اتھارٹی خوش آئند ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ جو کام پہلے سے ہوچکا ہے اسے کس طرح سے بہتر کیا اور آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ واٹر سپلائی سکیم، واٹرفلٹریشن پلانٹ یا سیوریج کی سکیم ہو، جب تک اس میں لوگوں کی شراکت نہیں ہوگی، ان سے رائے نہیں لی جائے گی تب تک اس کے فوائد پائیدار نہیں ہوسکتے۔ موجودہ اسمبلی نے 2سے 3 قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کیں جو خوش آئند ہیں۔ اگر اسی طرح سماجی مسائل پر سیاستدان اپنی جماعتوں سے بالاتر ہوکر کام کریں گے تو فائدہ ہوگا۔

شاہنواز خان (نمائندہ سول سوسائٹی)

ہم گزشتہ 5 برسوں سے اراکین اسمبلی کے ساتھ مل کر پانی و سیوریج کے حوالے سے مہم چلارہے ہیں۔ نئی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد سے اس میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ گزشتہ بجٹ میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے مگر اب اس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اربن پلاننگ کو اس میں شامل کرکے بجٹ 46 ارب روپے کر دیا گیا ہے جوپبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حوالے سے ہیں۔ 5 ارب روپے ہاؤسنگ سکیم، 8 ارب روپے آبِ پاک اتھارٹی کیلئے اور 1 ارب روپے ڈیم کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 10 اضلاع میں بچوں کی سٹنٹنگ اور دیہی سپلائی سکیموں کے لیے بھی اربوں روپے رکھے گئے ہیں۔ ہماری گزارش ہے کہ اس بجٹ کو مختص کرنے کے بعد اب اسے ٹھیک طریقے سے استعمال کیا جائے۔ گزشتہ حکومت کے پاس آخری بجٹ میں نئی سکیموں کے لیے وقت کم تھا اس لیے 20 ارب روپے میں سے 6 اب پہلے سے جاری سکیموں پر خرچ ہوئے جبکہ باقی رقم سے نئی سکیمیں شروع نہیں ہوسکیں۔ اب اہم یہ ہے کہ جو رقم مختص کی گئی ہے، اسے خرچ بھی کیا جائے۔ 5 سال سے کم عمر 27 ہزار بچے صاف پانی و سینی ٹیشن کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، انہیں یہ سہولت دے کر بچایا جاسکتا ہے۔ پنجاب میں 13 فیصد افراد کو ٹائلٹ کی سہولت میسر نہیں، وہ کھلی فضا میں رفع حاجت کرتے ہیں۔ 18 ہزار گاؤں ایسے ہیں جہاں ٹائلٹ نہیں۔ راجن پور اور مظفر گڑھ میں 30 سے 40 فیصد افراد کے پاس ٹائلٹ کی سہولت موجود نہیں۔ 49 فیصد آبادی کو مناسب سیوریج کی سہولت میسر نہیں ہے۔ پنجاب میں 4 ہزار 828 واٹر سپلائی سکیمیں بنی ہیں جن میں سے 35 فیصد سکیمیں بند ہیں۔ ان میں بیشتر سکیمیں وہ ہیں جن کے بجلی کے بل جمع نہیں ہوئے، کنکشن کٹ گیا اور اب وہ بند پڑی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جب تک واٹر اینڈ سینی ٹیشن کو اسمبلی کے ذریعے بنیادی حق تسلیم نہیں کیا جائے گا تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ آب پاک اتھارٹی بل میں لکھا گیا ہے کہ آب پاک اتھارٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہری کو پینے کا صاف پانی فراہم کرے گی۔ اگر اس بل میں ترمیم کرکے یہ لکھ دیا جائے کہ ہر شہری کابنیادی حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں صاف پانی کی سہولت فراہم کردی جائے گی تو دنیا کے ساتھ ہم نے پائیدار ترقی کے اہداف میں جو وعدہ کیا ہے کہ ہم واٹر اینڈ سینی ٹیشن کو بنیادی حق تسلیم کریں گے، پورا ہوجائے گا۔ 21 فیصد بچوں کی شرح اموات کو صاف پانی کی فراہمی سے کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر لوگوں کو ہاتھ دھونے کی تربیت دی جائے تو 35 فیصد بچوں جن کی اموات دستوں سے ہوتی ہیں، ان کو روکا جاسکتا ہے۔ ہم پنجاب اسمبلی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے 2 قرار دادیں اتفاق رائے سے منظور کیں۔ ایک یہ کہ حکومت پنجاب کے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرے گی۔ دوسری قرار داد میں کہا گیا کہ جو بجٹ مختص کیا گیا ہے، محکمے اس کا صحیح استعمال یقینی بنائیں۔ میرے نزدیک اگر صحیح معنوں میں اقدامات کیے جائیں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ آب پاک اتھارٹی کیقیام کے بعد اسمبلی میں بجٹ سیشن میں ’’واٹر ایکٹ بل‘‘  پیش کیا گیا جو کمیٹی میں چلا گیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایسی کوششوں سے واٹر اینڈ سینی ٹیشن کی سہولیات بہتر ہوںگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔