سیلفی سائیڈ: خودکشی کا نیا طریقہ

اکرم ثاقب  منگل 16 جولائ 2019
رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2017 تک 259 لوگ سیلفی بنانے کی خاطر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2017 تک 259 لوگ سیلفی بنانے کی خاطر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لوگ سیلفی کے اتنے دیوانے ہوتے جارہے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی بھی سیلفی سے کم اہم نظر آنے لگی ہے۔ یہ ایک طرح کا نشہ بنتی جارہی ہے اور بچے، بوڑھے، جوان، مرد و عورت سب اس کی لت میں پڑچکے ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی خبر ملتی ہے کہ آج ایک شخص ٹرین سے ٹکرا کر مرگیا، وہ سیلفی بنا رہا تھا۔ لوگ اپنی انفرادیت ظاہر کرنے اور دوسروں کو متاثر کرنے کےلیے اپنی جان پر کھیل رہے ہیں۔

بکنی ہائیکر جو پہاڑی چوٹیوں پر سیلفی بناکر میڈیا پر لوگوں سے داد وصول کرتا تھا، اسی سیلفی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کوئی کھائی میں گر کر مر رہا ہے اور کوئی بہت بڑی عمارت کے جنگلے سے گر کا جان دے رہا ہے۔

نیویارک کی ماہر نفسیات گیلڈا کارل کا کہنا ہے کہ سیلفی ایک نیا نشہ بن چکی ہے۔ یہ ایک ڈوپامین نشہ ہے اور بہت ہی آسان ہے۔ اس پر آپ کا کچھ خرچ نہیں ہوتا سوائے جان کے۔ اب تو وکی پیڈیا پر بھی اس سیلفی کا ایک صفحہ بن چکا ہے کہ لوگ سیلفی سائیڈ کیوں کرتے ہیں۔ گیلڈا کارل کا کہنا ہے کہ لوگ ایسی شدت پسندانہ حرکتیں تب کرتے ہیں، جب وہ خود کو عارضی طور پر بہت بڑا اور طاقتور محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں میں یہ رحجان بہت ہی زیادہ ہے جو سوشل میڈیا پر لائیکس لینے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور اپنے فالوورز بڑھانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔ جب تک وہ اپنی سیلفی کی لائیکس کی تعداد نہ معلوم کرلیں، انہیں نیند ہی نہیں آتی۔ اور صبح اٹھتے ہی اس تعداد کو دوبارہ چیک کرتے ہیں کہ رات کے وقت کتنے اور لوگوں نے پسند کی ہے اور نئے فالوورز کتنے ملے ہیں۔ اس کا تذکرہ وہ نہ صرف سوشل میڈیا پر کرتے ہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اسے بڑا معرکہ سمجھتے ہیں اور اس پر اتراتے بھی ہیں۔ یوں ان کی دیکھا دیکھی یہ مرض متعدی بن رہا ہے۔

ایسے لوگ اپنے اندر نہیں جھانکتے، کیونکہ وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایسے ہی کھوکھلا ہوتا جارہا ہے، جس طرح یہ سیلفی بنانے والے ہیں۔ ہماری تہذیب کو کیا ہوتا جارہا ہے کہ ہم اپنے اندر کے انسان کو مطمئن کرنے کےلیے باہر سے داد وصول کرنے کی سعی میں جت گئے ہیں۔ ہم اس پر خطرراستے اور رویے کو ہی شہرت اور دولت کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔

ایک جریدے کی رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2017 تک کوئی 259 لوگ سیلفی بنانے کی خاطر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سب سے زیادہ واقعات انڈیا میں ہورہے ہیں، اس کے بعد روس، امریکا اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے خطرناک مقامات پر واضح الفاظ میں لکھوائے کہ یہ جگہ سیلفی بنانے کےلیے نہیں ہے۔ خاص طور پر آبی مقامات، پہاڑ کی چوٹیوں پر اور بہت اونچی عمارات پر تو یہ بالکل منع ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر بروسٹن کا کہنا ہے کہ ہم ایک نئے خبط میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں اور یہ آئے دن شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔

یہ معاملہ اور بھی زیادہ شدت سے سامنے آتا ہے جب لوگ چھٹیاں منانے جاتے ہیں۔ سفر کرنا اب ایک بڑائی کی علامت یعنی اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔ نیا گھر، نئی کار یا نئی دکان بھی اس دوڑ میں شامل ہوچکی ہے۔ اس کا آسانی سے اظہار بس ایک سیلفی کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ ایسا کرکے آدمی خود کو سپر ہیرو سمجھ لیتا ہے، جس نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرلیا ہو۔ چونکہ ایسا ہر کوئی کررہا ہے، اس لیے آپ کی سیلفی سب سے جدا اور منفرد ہونی چاہیے۔ اس جداگانہ سیلفی کی خاطر بہت سے لوگ سیلفی سائیڈ کرلیتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

اکرم ثاقب

اکرم ثاقب

بلاگر ایک شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار بھی ہیں۔ ہلکے پھلے انداز میں سنجیدہ بات کہتے ہیں۔ زندگی کا ہر پہلو انہیں عزیز ہے۔ انگریزی، اردو اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ انہیں ٹوئٹر ہینڈل @akramsaqib پر فالو کیا جاسکتا ہے جبکہ ان کی فیس بُک آئی ڈی akram.saqib.18 ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔