توکیا وہ مرگیا؟

اقبال خورشید  منگل 16 جولائ 2019

ہر شخص کو موت آ لے گی ، سوائے آرٹسٹ کے۔

آرٹسٹ اپنے آرٹ کے وسیلے زندہ رہتا ہے۔ آرٹ ہی آب حیات ہے صاحب۔ یہی صدیوں تک جینے کا نسخہ ۔ یہی باقی رکھتا ہے۔انور سجاد اپنی اساس میں ایک آرٹسٹ تھا، ایک مکمل آرٹسٹ ۔ چاہے وہ فکشن لکھ رہا ہو، یا ہاتھ میں برش ہو، یا رقص میں اس کے پاؤں تھرکتے ہوں، یا اس کی باکمال آواز ہماری سماعتوں میں اترتی چلی جائے، ہمیشہ ایک آرٹسٹ ہمارے روبرو ہوتا۔وہ سیکڑوں ادیب، جنھیں میں نے پڑھا، جن سے ملا، جن کے انٹرویوزکیے،شاید ہی اُن میں کوئی ایسا پراسرار ہو، جیسا وہ تھا،’’خوشیوں کا باغ‘‘ کا مصنف ۔ایک رجحان ساز قلم کار۔ جس نے زندگی کے آخری برسوں میں ، بڑے اطمینان سے لکھنا ترک کر دیا ۔

جدید افسانے کے اس سرخیل، اس باکمال فکشن نگار سے متعلق، اس دل پذیر ، پراسرار شخص سے متعلق ، اگر لکھا جائے، جم کر لکھا جائے، تو دفترکے دفتر سیاہ ہوجائے، مگر حق ادا نہ ہو، راقم کے پاس تو بس انٹرویوکا ہنر ہے، جسے آزمانے ایک روشن صبح نجی ٹی وی کے دفتر میں انور سجاد سے ملنے پہنچ گیا۔ نثری نظم کے بے بدل شاعر اور اجرا کے مدیر، احسن سلیم کے ساتھ ان سے ایک مختصر ملاقات ہوئی تھی۔ انور سجاد اجرا کی مجلس ادارت کا حصہ تھے۔ ادب برائے تبدیلی کی منشور سازی میں شامل تھے۔اس روز کلیہ شکن شاعر اورکلیہ شکن فکشن نگار میں اسی مدعا پر بات ہوئی۔ میں مودب اور خاموش رہا، مگر اب… یہ ممکن نہ تھا۔اب ایک انٹرویو روبرو تھا۔ ڈیڈ لائن متعین تھی، وقت آگیا تھا۔

انھوں نے سگریٹ سلگا رکھی تھی، جو چند ساعتوں بعد ان کی شخصیت کا حصہ لگنے لگی۔ بیمار تو نہیں تھے، مگر وقفے وقفے سے کھانسی کی لہر اٹھتی۔

’’ سگریٹ چھوڑ دیں۔‘‘ یہ میں نے تب کہا، جب ہمارے درمیان سہولت در آئی تھی۔

’’اس انٹرویو کے بعد چھوڑ دوں گا۔‘‘ وہ مسکرائے تھے۔بڑے باوقار انداز میں۔اور ایسے ہی تب مسکرائے، جب انتظار حسین کا ذکر آیا۔’’میرے اور انتظار کے درمیان بھی love hate relationship ہے۔‘‘

میں اتنا کم عمر اور مودب تھا کہ کھل کر ہنس بھی نہ سکا، گو وہ اس کی توقع کر رہے تھے۔ اسی اثنا میں کمرے میں بازی گر داخل ہوتا ہے۔ وہ، ایک زمانہ جس کا گرویدہ ہے۔شکیل عادل زادہ۔ انور سجاد کا چہرہ کھل گیا۔انھوں نے شکیل بھائی سے خیریت پوچھی۔ بات کسی اور سمت نکل گئی۔ مکالمے میں ٹھہراؤ آگیا۔ البتہ جلد ہی وہ ہماری سمت پلٹ آئے۔سگریٹ سلگائی گئی۔ شکیل بھائی کو بھی پیش ہوئی۔ ہمارے پاس ایک یو ایس بی وائس ریکارڈ تھا، جسے شکیل بھائی نے لائٹر جان کر اٹھا لیا۔ قہقہہ لگا۔جلد پھر سوالات شروع ہوگئے۔ انور سجاد نے کہانی کے روایتی اسلوب اور سانچے کو شعوری طور پر توڑ کر اپنے عصر کی پیچیدہ صورت حال کے اظہار کے لیے نئے وسائل، نئے استعارے تراشے، ان کا منفرد اسلوب اور تجریدی تجربات ابتدا ہی سے زیر بحث رہے۔

ان کے افسانوی مجموعے چوراہا، استعارے، آج اور پہلی کہانیاں کے زیر عنوان شایع ہوئے۔ تین ناولز آئے: رگ سنگ، خوشیوں کا باغ اور جنم روپ۔ یوں تو دیگر تخلیقات بھی اہم، البتہ خوشیوں کا باغ خصوصی طور پر زیر بحث رہا۔

پہلا افسانہ ’’ہوا کے دوش‘‘ پر نقوش میں شایع ہوا۔ ڈراما نگاری کا سفر پی ٹی وی سے شروع ہوا۔رات کا پچھلا پہر، پک نک، کوئل، صبا اور سمندر، یہ زمین میری ہے، روشنی روشنی اور ’’جنم دن‘‘ سمیت کئی کامیاب کھیل لکھے۔کئی ڈراموں اداکاری بھی کی۔واجد علی شاہ کا کردار نبھانے کے لیے مہاراج غلام حسین کتھک سے رقص سیکھا۔دوستوں کے حلقے اور رنگوں میں دلچسپی مصوری کی جانب لائی۔ ان کے فن پارے تاثراتی اور تجریدی رنگوں سے مزین ہوتے۔

انجمن ترقی پسند مصنفین سے ان کی گہری وابستگی رہی۔ ’’آرٹسٹ ایکویٹی‘‘ نامی ایک تنظیم بھی بنائی۔ حلقہ ارباب ذوق، لاہور کے عہدے دار رہے۔ پاکستان آرٹس کونسل، لاہور کے چیئرمین بھی رہے۔اوائل میں شاعری بھی کی، مگر کلی طور پر فکشن کی سمت آگئے۔

کتاب زندگی خبر دیتی ہے کہ ڈاکٹر انور سجاد 27مئی 1935کولاہور کے علاقے چونا منڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاکٹر سید دلاور علی شاہ اپنے شعبے کی معروف شخصیت تھے۔سن 1948 میں انھوں نے میٹرک کیا، گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج میں زیر تعلیم رہے۔ کنگ ایڈورڈ کالج، لاہور سے طب کی تعلیم مکمل کی۔ 1964میں لیورپول یونیورسٹی، انگلینڈ سے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کی ڈگری لی۔سن 2002 تک اپنا کلینک چلاتے رہے، اسی دوران ڈراما نگاری بھی کی۔ پھر کراچی میں ایک ٹی وی چینل میں اسکرپٹ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہوگئے ۔

اچھا، سیاست ابتدا سے ان کی دل چسپی کا محور تھا۔ طلبا سیاست کے زمانے میں جھکاؤ لیفٹ کی جانب تھا، لیفٹ کو مرکزی دھارے میں لانے کے ارادے سے عملی سیاست میں آئے۔ ان کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میںہوتا ہے۔ پارٹی انھیں الیکشن کا ٹکٹ دینا چاہتی تھی، مگر یہ انھیں منظور نہیں تھا۔ان کی نظریاتی سوچ کے باعث اختلافات بھی پیدا ہوئے۔ مارشل لا کے نفاذ کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں بھی احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لیا مگر پیپلز پارٹی کے مزاج کی تبدیلی سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکے اور کنارہ کش ہو گئے اور ہاں،ایک بار عمران خان کی درخواست پر پی ٹی آئی کے ایک جلسے میں بھی شرکت کی مگر عملی سیاست سے دور رہے۔

اچھا، اس انٹرویو کے بعد کی کہانی بھی دلچسپ ۔

انور سجاد کی خواہش تھی کہ اشاعت کے قبل وہ ایک نظر متن دیکھ لیں۔ ہمیں بھلا کیا اعتراض ہوتا، بس ڈیڈ لائن کی پریشانی تھی کہ شخصیت کا صفحے چار روز بعد شایع ہونا تھا۔

تو یوں کیا کہ ڈاک کے چکر میں پڑنے کے بجائے متن کا پرنٹ لیا،اور اپنے دفتر سے قبل ان کے دفتر پہنچ گئے۔ انور سجاد موجود نہیں تھے، تو ان کے اسسٹنٹ کو سونپا۔ساتھ تاکید کی کہ یہ کام جلدی نمٹا لیں۔

سہ پہر اسسٹنٹ نے فون پر بتایا کہ انور سجاد صاحب کی خواہش ہے کہ اس کا پروف شکیل بھائی پڑھیں کہ اس ضمن میں وہ اپنی مثال آپ۔ہم بھی اس بات سے متفق تھے، مگر کم بخت ڈیڈ لائن۔اس کا کیا کریں؟ اسسٹنٹ سے کہا کہ بھائی کاپی کل پریس میں جانی ہے۔اس نے کہا کچھ دیر ٹھہرنے کو کہا۔ایک گھنٹے بعد اسسٹنٹ نے خبر دی کہ انور سجاد صاحب نے دیکھ کر تصحیح کردی ہے،ہماری جان میں جان آئی۔ یوں انٹرویو یہ مکمل ہوااور روزنامہ ایکسپریس کا حصہ بنا۔

احسن سلیم مرحوم نے پڑھا، تو بہت تعریف کی، میں نے کہا، انور سجاد صاحب کو تحریک دیں کہ اجرا کے لیے کوئی افسانہ لکھیں۔ ’’ست رنگی آنکھیں‘‘ کے مصنف نے کوشش کی، جو رنگ لائی، ایک افسانہ انور سجاد نے عطا کیا، شاید وہ بہ طور فکشن نگار ان کی آخری چند تخلیقات میں سے ایک تھا۔

بعد میں جو واقعات، سانحات ہوئے، ان کے فیصلے کس طرح ان کے لیے کرب لائے، کیسے انھیں کراچی چھوڑ کرجانا پڑا۔ اور پھر حکومت پاکستان سے امداد کی اپیل، اور سرکار کی رسمی، روایتی کوششیں۔اور پھر ایک روز یہ خبر کہ انور سجاد ہم نہیں رہے۔

تو کیا وہ چلا گیا؟ نہیں!ہر شخص کو موت آ لے گی، سوائے آرٹسٹ کے۔

چاہے وہ کسمپرسی میں مرے ، چاہے وہ اُس سمے شاکی ہو، ناتواں ہو، چاہے وہ بھلا دیا گیا ہو۔وہ باقی رہے گا۔۔۔ انور سجاد کے مانند۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔