معیشت اصلاحاتی ایجنڈے پر ہے، مہنگائی زیادہ، GDP کی شرح نمو کم رہے گی، اسٹیٹ بینک

بزنس رپورٹر  منگل 16 جولائ 2019
 اصلاحی اقدامات نہ ہوئے تو آبادی کی بلند نمو، پانی اور موسمیاتی لحاظ سے ناسازگار صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے، سہ ماہی رپورٹ
 فوٹو: فائل

 اصلاحی اقدامات نہ ہوئے تو آبادی کی بلند نمو، پانی اور موسمیاتی لحاظ سے ناسازگار صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے، سہ ماہی رپورٹ فوٹو: فائل

کراچی:  اسٹیٹ بینک نے معیشت کی کیفیت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 2019 جاری کردی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کے حالیہ اور دور ثانی کے اثرات سے پیداواری اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا جس سے مالی سال  2019-20میں مہنگائی کی شرح بلند رہے گی۔  رواں مالی سال کے دوران معیشت کی شرح نمو مزید کم ہوکر 3.3 فیصد رہنے کی توقع ہے، بجٹ میں کیے گئے ٹیکس اقدامات اور تیل کی عالمی قیمتوں میں تغیر مہنگائی پر اضافی اثرات مرتب کرے گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق معیشت اصلاحاتی ایجنڈے پر گامزن ہے، معاشی اظہاریے بتدریج مستحکم ہوں گے جس کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار کی حقیقی شرح نمو بھی محدود رہنے کا امکان ہے۔ وفاقی بجٹ میں محاصل کے حوالے سے اعلان کردہ اقدامات قابل استعمال آمدنی اور طلب کو پست رکھیں گے جس کی وجہ سے صنعتی نمو میں نمایاں بحالی کی توقع نہیں البتہ زراعت کے اچھے امکانات کی بنا پر جی ڈی پی نمو کو ممکنہ طور پر کچھ تقویت مل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تیسری سہہ ماہی کے دوران جاری حسابات کے کھاتوں میں کمی واقع ہوئی ،تاہم فنانسنگ کا فرق پورا کرنے کے لیے ناکافی بیرونی سرمایہ کاری کے پیشِ نظر بیرونی قرضہ حاصل کرنے کے لیے ملک کو دوطرفہ اور کمرشل ذرائع اختیار کرنا پڑے جبکہ آبادی میںاضافہ،پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی مستقبل کیلیے بڑے چیلنج ثابت ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان کی معیشت طلب کو قابو میں کرنے کی پالیسیوں کی مدد سے استحکام کی طرف گامزن رہی ، تاہم جولائی تا مارچ مالی سال 19کے دوران بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں کمزوریاں برقرار رہیں، لہٰذا استحکام کا موجودہ ایجنڈا بنیادی نوعیت کی ساختی اصلاحات کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔مالی سال 19کے دوران اقتصادی نمو کی رفتار خاصی سست ہوگئی جس کی بنیادی وجہ جڑواں خساروں پر قابو پانے کی غرض سے کیے جانے والے پالیسی اقدامات کا ردِ عمل ہے۔ ان اقدامات سے صنعتی شعبے کی کارکردگی متاثر ہوئی اور ملک میں اشیا سازی کی سرگرمیاں ماند پڑیں۔

دریں اثنا پانی اور موسم سے متعلق خدشات اور اس کے ساتھ ساتھ اہم خام مال کی بلند قیمتوں نے فصلوں کی پیداوار پر اپنا اثر ڈالا، اجناس پیدا کرنے والے شعبوں کی کمزور کارکردگی نے بھی خدمات کے شعبے کی کارکردگی کو محدود کیا۔مزید برآں مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوا کیونکہ نان ٹیکس محاصل میں تیزی سے کمی اور ٹیکس سے آمدنی میں سست روی نے ٹیکس کی مجموعی وصولی کو گذشتہ سال ہی کی سطح پر جامد رکھا، دوسری طرف جولائی تا مارچ مالی سال 19کے دوران اخراجات خصوصاً اخراجاتِ جاریہ تیزی سے بڑھے جنہوں نے ترقیاتی اخراجات میں کمی سے ہونے والی بچت بھی زائل کردی۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی مسلسل اضافے کی طرف گامزن رہی، جنوری 2018سے پالیسی ریٹ بڑھانے کے کئی ادوار کے باوجود جولائی تا مارچ مالی سال 19کے دوران اوسط مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI)پورے سال کے ہدف سے بھی آگے نکل گئی۔

اگرچہ طلب بڑھنے کے دباوؤ کی شدت مالی سال 19کے اختتام تک کم ہوگئی ،تاہم غیر غذائی غیر توانائی جز میں اضافہ برقرار رہا جس کا سبب شرح مبادلہ میں کمی اور توانائی کے نرخوں میں اضافے کے بعد دورِ ثانی کے اثرات تھے،بیرونی شعبے میں جاری حسابات کا خسارہ کم ہوا جس کی وجوہ اشیا اور خدمات دونوں کی درآمدی ادائیگیوں میں آنے والی کمی اور کارکنوں کی ترسیلات ِ زرمیں معقول نمو تھی، تاہم جاری حسابات کے خسارے کی بلند سطح اور فنانسنگ کا فرق پورا کرنے کے لیے ناکافی بیرونی سرمایہ کاری کے پیشِ نظر بیرونی قرضہ حاصل کرنے کے لیے ملک کو دوطرفہ اور کمرشل ذرائع اختیار کرنا پڑے۔

رپورٹ میں پاکستان میں بجلی کے نرخوں پر ایک خصوصی سیکشن بھی شامل ہے۔ اس تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کے نرخ طے کرنے کا طریقہ کار کیا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ایندھن کی لاگت کم ہونے کے باوجود بجلی کے نرخ کم کیوں نہیں ہو رہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔