جج وڈیو اسکینڈل غیر معمولی واقعہ ہے، چیف جسٹس

ویب ڈیسک  منگل 16 جولائ 2019
 آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں، چیف جسٹس

آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں، چیف جسٹس

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک کے وڈیو اسکینڈل پر دائر درخواستوں کی سماعت کے ریمارکس دیئے ہیں کہ آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں اور کمیشن بن بھی گیا تو اس کی رائے ثبوت نہیں ہو گی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بینچ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی وڈیو اسکینڈل کی سماعت کر رہا ہے، سماعت کے موقع پر محمود خان اچکزئی ، طارق فضل چوہدری، جاوید ہاشمی اور رفیق رجوانہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

درخواست گزار اشتیاق مرزا کے وکیل منیر صادق نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ الزام عائد کیا گیا کہ جج نے فیصلہ کسی کی ایما پر دیا، جج نے الزامات کی تردید کر دی، جج نے کہا ویڈیو کے مختلف حصوں کو جوڑا گیا ہے،جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں بلیک میلنگ کی تفصیلات بتائیں، عدلیہ پر سنگین الزامات عوامی مفاد کا معاملہ ہے، وزیر اعظم نے بھی عدلیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بھی تحقیقات کی بات کی، سیاسی جماعتوں نے بھی عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

منیر صادق کے دلائل پر چیف جسٹس نےاستفسار کیا کہ آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں، سوموٹو عدالت خود لیتی ہے، کسی کی ڈیمانڈ پر لیا گیا نوٹس سوموٹو نہیں ہوتا، آپ کی درخواست بھی یہی ہے کہ ججز ڈیمانڈ پر نہ چلیں،لوگوں کے کہنے پر نوٹس لینے سے عدلیہ کی آزادی پر سوال نہیں اٹھیں گے؟،آپ کی کیا تجویز ہے عدالت کیا کرے؟۔

چیف جسٹس کے استفسار پر منیر صادق نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لئے متعدد اقدامات کی ضرورت ہے، عدالت جوڈیشل انکوائری کرائے تو زیادہ بہتر ہے، انکوائری کمیشن میں جو چاہے بیان ریکارڈ کرائے، انکوائری کمیشن الزامات اور جواب کی سچائی کا تعین کرے گا،منیر بہتر ہو گا کہ کوئی جج کمیشن کی سربراہی کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ذمہ دار لوگوں کو عمومی بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے، یہ کہنا درست نہیں کہ سب وکیل ، جج ، پولیس اور سیاست دان برے ہیں، جو لوگ برے نہیں ہوتے ان کی دل آزاری ہوتی ہے ، انسان کی پیدائش سے ہی سچ کی تلاش جاری ہے، سچ عدالت نے تلاش کیا تو اپیل لانے والے کیا کریں گے، کمیشن بن بھی گیا تو اس کی رائے ثبوت نہیں ہو گی۔

’کسی میں جرات نہیں ہونی چاہیے کہ جج کو بلیک میل کرے‘

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے،  کمیشن کی رپورٹ ہائی کورٹ میں اپیل پر اثر انداز ہو سکتی ہے، کیا آپ کو ہائی کورٹ پر اعتماد نہیں ہے۔ منیر صادق نے کہا کہ کسی میں جرات نہیں ہونی چاہیے کہ جج کو بلیک میل کرے، عدالت پاناما طرز کی جے آئی ٹی بنا سکتی ہے، جے آئی ٹی عدالت نے اپنی معاونت کے لئے بنائی تھی لیکن اس سے کم ازکم سچائی سامنے تو آگئی تھی۔

’مریم نواز نے مزید ثبوتوں کا دعوی کیاہے‘

منیر صادق کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار سہیل اختر کے وکیل اکرام چوہدری نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے خلاف دباؤ کے تحت فیصلے کا الزام عائد کیا گیا ،مریم نواز نے مزید ثبوتوں کا بھی دعوی کیاہے، جج نے کہا ناصر بٹ سے میری شناسائی ہے ، جج نے کہا دبائو ہوتا تو ایک کیس میں بری نہ کرتا، حسین نواز نے جج کے ساتھ مدینہ منورہ میں ملاقات کی، فرانزک آڈٹ اور تحقیقات کے تحت تمام فریقین کے جواب لئے جائیں۔ توہین عدالت کی کارروائی ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ ویڈیو میں ہائی پروفائل لوگ ہیں تو سب آ گئے لیکن عدالت کے سامنے سب برابر ہیں کوئی ہائی پروفائل نہیں، ویڈیو اسکینڈل غیر معمولی واقعہ ہے، سوال یہ ہے جائزہ کون اور کس طرح لے گا، ایسے واقعات سے نظام عدل متاثر ہونے کا کسی نے نہیں کہا ، توہین عدالت کا مطلب ہوگا جج پر الزام غلط ہیں۔

’فیصلہ درست ہے یا غلط فیصلہ اعلی عدلیہ کرے گی‘

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جو دھول ابھی اٹھ رہی ہے اسے چھٹنا بھی ہے، عدلیہ کو جذبات نہیں سنجیدگی سے معاملہ دیکھنا ہے ، پہلا سوال عدلیہ کی ساکھ کا ہے ، دوسرا سوال فیصلہ درست ہونے یا نہ ہونے کا ہے، تیسرا سوال جج کے کنڈکٹ کا ہے، جج کے کنڈکٹ پر قانون موجود ہے، نواز شریف کے خلاف فیصلہ درست ہے یا غلط فیصلہ اعلی عدلیہ کرے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ممکن ہے ارشد ملک کا تبادلہ پنجاب کر دیا جائے، لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت جانے پر ہی ارشد ملک کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے، معاملے پر اٹارنی جنرل کی بھی رائے جاننا چاہتے ہیں،  عدالت نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے درخواستوں پرمزید سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔