بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ پانی صاف کرنے والا سولر پینل

ویب ڈیسک  منگل 16 جولائ 2019
سولر پینل کی اضافی حرارت، پانی صاف کرنے کے کام میں آتی ہے۔ (فوٹو: کنگ عبداللہ یونیورسٹی، سعودی عرب)

سولر پینل کی اضافی حرارت، پانی صاف کرنے کے کام میں آتی ہے۔ (فوٹو: کنگ عبداللہ یونیورسٹی، سعودی عرب)

جدہ: سعودی عرب کی ’’شاہ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ میں ماہرین کی ٹیم نے ایسے منفرد سولر پینل تیار کرلیے ہیں جو نہ صرف دھوپ سے بجلی بناتے ہیں بلکہ روشنی کے ساتھ موجود حرارت استعمال کرتے ہوئے، نمکین سمندری پانی کو صاف بھی کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ دھوپ میں صرف روشنی نہیں ہوتی بلکہ حرارت (گرمی) بھی شامل ہوتی ہے۔ روایتی سولر پینلز، روشنی کو استعمال کرتے ہوئے بجلی بناتے ہیں لیکن حرارت جذب کرکے وہ گرم بھی ہوجاتے ہیں جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی طریقہ ایسا ایجاد کرلیا جائے جس کی مدد سے سولر پینلز کو ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ ساتھ کوئی اور مفید کام بھی لیا جاسکے تو یہ چپڑی اور دو دو والی بات ہوگی۔

سولر پینل پر پڑنے والی گرمی سے نمکین پانی صاف کرنے کا تصور برسوں پرانا ہے لیکن اس سلسلے میں اب تک جتنے نظام بھی تیار کیے گئے ہیں، وہ سب اپنی جسامت میں خاصے بڑے رہے ہیں اور ان کی کارکردگی بھی کچھ بہتر نہیں تھی۔ شاہ عبداللہ یونیورسٹی کے ’’واٹر ڈی سیلی نیشن اینڈ ری یوز سینٹر‘‘ میں غیر عرب ماہرین نے یہ مسئلہ حل کرنے کےلیے ایک نیا اور اچھوتا نظام وضع کرلیا ہے جس میں پانی صاف کرنے کا پورا تام جھام، سولر پینل کے عین نیچے یکجا کردیا گیا ہے جبکہ یہ اپنی کارکردگی میں بھی نمایاں طور پر بہتر ہے۔

سب سے اوپر سولر پینل ہوتا ہے جو دھوپ سے بجلی بناتا ہے جبکہ گرمی جذب کرکے اپنے عین نیچے موجود، پینل کو ٹھنڈا رکھنے والے نظام میں موجود نمکین سمندری پانی کو گرما کر بخارات میں بدلتا رہتا ہے۔ یہ بخارات باریک نالیوں سے ہوتے ہوئے مزید نیچے پہنچتے ہیں اور اسی دوران مزید سرد ہو کر پانی میں بدل جاتے ہیں جو بالکل صاف ہوتا ہے۔ یہ پانی ایک چھوٹے سے کنٹینر میں منتقل ہوجاتا ہے جسے پینے کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اب تک کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس ’’کثیرالمنزلہ اور کثیرالمقاصد‘‘ نظام کے ہر مربع میٹر رقبے پر، ہر ایک گھنٹے میں، 1.6 لیٹر سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنا سکتا ہے جبکہ اس پورے عمل میں سولر پینل سے بجلی بنانے کی کارکردگی پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اب اس نظام کو مزید وسعت دے کر ساحلِ سمندر پر سولر فارمنگ کے وسیع تجربات شروع کیے جائیں گے تاکہ اس پر آنے والی لاگت اور اس کی استعداد کا بہتر تجزیہ کیا جاسکے۔

اس نظام کی تمام تفصیلات ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوچکی ہیں۔

بتاتے چلیں کہ 2018ء میں شمسی توانائی سے دنیا بھر میں مجموعی طور پر 500 گیگاواٹ بجلی بنائی گئی۔ امید ہے کہ 2025ء تک یہ پیداوار 1000 گیگاواٹ (ایک ٹیراواٹ) سالانہ تک پہنچ جائے گی۔ دھوپ سے بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ پانی صاف کرنے والے ایسے نظاموں کی بدولت شمسی توانائی کے فروغ میں اور زیادہ سہولت پیدا ہوگی اور ایک ٹیرا واٹ سالانہ کا ہدف، 2025ء سے پہلے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔