جناب وزیراعظم! کیا عوام فکرمند ہوسکتے ہیں؟

چوہدری ذوالقرنین ہندل  منگل 16 جولائ 2019
وزیراعظم عوام کو موجودہ خراب حالات میں بھی کہتے نہیں تھکتے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

وزیراعظم عوام کو موجودہ خراب حالات میں بھی کہتے نہیں تھکتے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

زیادہ پرانی بات نہیں، انتخابات کی تیاریاں پورے زور و شور کے ساتھ جاری تھیں۔ ہر سیاسی پارٹی بڑے بڑے دعوے کر رہی تھی۔ وہیں ایک پارٹی ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ لیے بہت سے پرانے سیاست دانوں کو ٹکٹ جاری کرچکی تھی۔ مگر پھر بھی ملک بھر میں بڑا طبقہ بالخصوص نوجوان ان سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے۔ آخر کیوں نہ کرتے؟ قبل از انتخابات بڑے بڑے دعوے جو کیے جارہے تھے۔ ریاست مدینہ کی باتیں ہورہی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ کی مثالیں دی جارہی تھیں کہ ’دجلہ و فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مرے تو ذمے دار حکمران ہوتا ہے‘۔ مہنگائی و معیشت میں بہتری کےلیے پریس کانفرنسیں منعقد کی جاتیں، اعدادوشمار پیش کیے جاتے، عوام کے گرد آلود ذہنوں کو جھنجوڑا جاتا۔ بے روزگاری و مہنگائی کے ستائے عوام ایسے ہی حکمران چاہتے تھے، جو عوام کو آسانیاں مہیا کریں۔ آخرکار عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے انہیں منتخب کیا۔

حکومت میں آنے کے بعد عوام کو صبر کی تلقین کی جانے لگی۔ کرپشن کے بہت سے اہم کیسز کھولے گئے۔ اگرچہ لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی، لیکن عوام پرامید ہیں کہ لوٹی ہوئی رقم جلد ملکی خزانے میں جمع ہوگی۔

بات معیشت کی ہو تو حکومت جب برسر اقتدار آئی تو انہیں خزانوں سے خالی تجوریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کی ضد کو ختم کرنا پڑا۔ سعودی عرب، دبئی اور قطر سے بھی قرض حاصل کیے گئے۔ مگر معیشت ہے کہ آج تک غیر مستحکم ہے۔ خیر چھوڑیے معیشت کو! عام آدمی کو اس کی کیا خبر۔ ہاں مہنگائی سے عوام بخوبی واقف ہیں۔ اور جب مہنگائی کی بازگشت سنائی دیتی ہے، تو عوام بہت متاثر ہوتے ہیں۔

حکومت اپنے ایک سال میں نہ تو ڈالر کے عوض روپے کی بے قدری کو روک سکی ہے، نہ ہی مہنگائی کو۔ بلکہ سارے حالات کی ذمے داری گزشتہ حکومتوں پر ڈال رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیاں مشکل حالات کا باعث بن رہی ہیں۔ مگر موجودہ حکومت بھی اپنی بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام ہورہی ہے۔ حکومت نے موجودہ حالات سے نکلنے کےلیے آئی ایم ایف کی مدد کے ساتھ ساتھ تجاویز پر عمل بھی شروع کررکھا ہے۔ جس کے ضمن میں آئے روز مختلف النوع ٹیکسز متعارف کروائے جارہے ہیں۔

گزشتہ دنوں ملک بھر میں تاجروں کی ہڑتال کی چند بڑی وجوہات ہیں، جیسے پچاس ہزار یا اس سے زائد کے لین دین پر قومی شناختی کارڈ کا لازمی قرار دیا جانا۔ ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، اسپورٹس، اور سرجیکل آلات کےلیے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرکے17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنا، قابل ٹیکس آمدنی کو چالیس لاکھ سے کم کرکے بارہ لاکھ کرنا وغیرہ۔

مانا کہ مشکل حالات میں کچھ اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں، مگر تاجر، اشرافیہ اور حکومت کی باہمی کشیدگی کے باعث ہونے والی ہڑتال سے نہ صرف تقریباً 25 ارب کا معاشی نقصان ہوا، بلکہ لاکھوں مزدور اپنی ایک دن کی اجرت سے محروم ہوگئے۔ تاجر حضرات کے پاس تو اپنی نسلوں کےلیے دولت موجود ہوگی۔ اور حکومت معاشی نقصان پورا کرنے کےلیے مزید ٹیکس لگاسکتی ہے۔ مگر مزدور طبقہ جو پہلے ہی بے روزگاری اور مہنگائی کا ستایا ہوا ہے، کیسے اپنے خاندان کی کفالت کرے گا؟ کپڑے اور جوتے نہ سہی، مگر اپنے بچوں کو کھانا کیسے کھلائے گا؟ شاید حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب ہو۔

بات اشرافیہ کی ہو تو وہ ہر حال میں سکھی ہیں۔ ٹیکس سے بچنے کی عادت پرانی ہے۔ یہ ملک میں نامناسب حالات کو دیکھ کر دوسرے ٹیکس فری ممالک میں سرمایہ کاری کرلیں گے۔ ٹیکس بچانے کےلیے آف شور کمپنیاں بنالیں گے۔ ہمارے موجودہ و گزشتہ وزیراعظم بھی ایسے کام کرچکے ہیں۔ اپنے مفادات کی خاطر ملکی معیشت کو داؤ پر لگانا ان کےلیے کوئی نئی بات نہیں۔

کیا ٹیکس صرف تنخواہ دار طبقے اور عوام پر ہی مسلط ہوسکتا ہے؟ اشرافیہ اس سے آزاد کیوں ہے؟

تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتیں براہ راست دیگر اشیاء پر بھی اثر انداز ہورہی ہیں۔ ڈالر اور سونے کی روپے کے مقابل بے قابو اڑان نے درآمد ہونے والی اشیاء کو مہنگا کردیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ روٹی کی قیمتیں بھی بے قابو ہورہی ہیں۔ حکومت کھانے پینے کی اشیاء پر ٹیکس لگانے سے انکاری ہے۔ مگر تندور مالکان آٹے اور گیس کی بڑھتی قیمتوں سے تنگ آچکے ہیں۔ آخر ذمے دار کون ہے؟

جہاں ہمارے وزیراعظم عوام کو کہتے نہیں تھکتے کہ فکر نہ کریں، صبر کریں، انتظار کریں وغیرہ۔ وہیں موجودہ پارٹی کے حامی اور حکومت میں موجود وزرا و مشیران یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ عوام کو قربانی دینا ہوگی، برداشت کرنا ہوگا ۔پوچھنا یہ تھا کہ غریب دیہاڑی دار اپنے روزگار سے محروم ہوکر کیسی قربانی دے؟ کیا خود کو ختم کرکے اپنی پریشانیوں سے نجات حاصل کرلے؟ ایسا کرنا ہرگز حرام ہے۔ حالات اتنے ہی کٹھن ہیں، تو ہمارے وزرا کی لسٹ کیوں بڑھتی چلی جارہی ہے؟ مشیران میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ اتحادی پارٹیوں کے نمائندوں کو وزراتوں کے پروٹوکول سے کیوں نوازا جارہا ہے؟ کون سائیکل پر سفر کرتا ہے؟ ہیلی کاپٹر کیوں استعمال ہورہا ہے؟ نئی گاڑیاں کیوں خریدی جارہی ہیں؟ وزیروں و مشیروں کی تنخواہیں ایک دیہاڑی دار کے برابر کیوں نہیں؟

حکومت چاہے کرپشن کرنے والوں سے ایک ایک پائی وصول کرے، چاہے جاگیرداروں و صنعتکاروں سے ٹیکس حاصل کرے، عوام کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ فکر ہے تو صرف بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کی۔

جناب وزیراعظم صاحب! کیا ایسے حالات میں عوام تھوڑا فکرمند ہوسکتے ہیں؟ یا میڈیا و سوشل میڈیا کی طرح عوام کی فکروں کو بھی سینسر کیا جائے گا؟

حکومت کی طرف سے بے جا ٹیکس، ڈالر کی اڑان، اور بے یقینی کی کیفیت نے چیزوں کی قیمتوں کو غیر مستحکم کردیا ہے۔ جہاں سرمایہ دار ذخیرہ اندوزی کرکے منافع بٹور رہے ہیں، وہیں دیہاڑی دار و تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے۔ نجی کمپنیوں میں ڈاؤن سائزنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ملک میں افراتفری کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جو انتشار اور بدعنوانیوں کو پروان چڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

چوہدری ذوالقرنین ہندل

چوہدری ذوالقرنین ہندل

بلاگر گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مکینیکل انجینئر اور ’’وائس آف سوسائٹی‘‘ کے سی ای او ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔