معروف شاعر حمایت علی شاعر انتقال کرگئے

ایکسپریس ڈیسک  بدھ 17 جولائ 2019
مرحوم نے بطور شاعر،ادیب،نقاد، نغمہ نگار،استاد خدمات انجام دیں۔ فوٹو: فائل

مرحوم نے بطور شاعر،ادیب،نقاد، نغمہ نگار،استاد خدمات انجام دیں۔ فوٹو: فائل

کراچی:  اردو ادب کی نامور و ممتاز شخصیت حمایت علی شاعر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں انتقال کر گئے، ان کی تدفین ٹورنٹو ہی میں ہوگی۔

حمایت علی شاعر بطور شاعر،ادیب،نقاد، فلمی نغمہ نگار،اداکار،ریڈیوڈرامہ آرٹسٹ، استاد، ماہر لسانیات ایک بلند مقام کے مالک تھے۔ حمایت علی شاعر 14 جولائی 1926 کو اورنگ آباد، دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اورسندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔

حمایت علی شاعر کے4 شعری مجموعے ’’آگ میں پھول‘‘ ، ’’مٹی کا قرض ‘‘ ، ’’تشنگی کا سفر‘‘ اور ’’ہارون کی آواز‘‘ شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب ’’حرف حرف روشنی‘‘ کے عنوان سے شائع ہواتھا۔

حمایر علی شاعر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہیئت میں تحریر کی جو ’’آئینہ در آئینہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ اُن کی کی 2 نثری کتابیں ’’شیخ ایاز‘‘ اور ’’شخص و عکس‘‘ بھی ہیں۔ اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ 3 مصرعوں پر مشتمل ایک نئی صنف سخن ثلاثی کی ایجاد ہے۔

حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس ، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔حمایت علی شاعر نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جنھیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ حمایت علی شاعر کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی’’ تجھ کو معلوم نہیں‘‘ کے نام سے شائع ہوچکاہے۔

علاوہ ازیں خاندانی ذرائع کے مطابق صدارتی تمغہ یافتہ نامور شاعر حمایت علی شاعر کی تدفین ٹورنٹو میں کی جائے گی۔ مرحوم کی نماز جنازہ ٹورنٹو میں بعد نماز عصر( پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4بجے) ادا کی جائیگی۔ ان کی بے بہا خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے انھیں 2002میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ 1962میں فلم آنچل اور 1963میں فلم دامن پر انھیں نگارایوارڈز سے بھی نوازاگیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔