بہترین تحریر اور بلاگر کے فرائض

انعم احسن  جمعرات 18 جولائ 2019
قلم کی حرکت کو وہی حیثیت حاصل ہے، جو زبان سے نکلے ہوئے ایک بول کو۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

قلم کی حرکت کو وہی حیثیت حاصل ہے، جو زبان سے نکلے ہوئے ایک بول کو۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گزشتہ دنوں تلاوت کلام پاک کے دوران سورۃ قلم کی پہلی آیت پڑھی۔ بے ساختہ آیت کے ترجمے پر نظر دوڑائی۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ حرمتِ قلم کی قسم کھا رہے ہیں۔ میں نے خود کو اس پیمانے پر رکھ کر تولنے کی کوشش کی کہ جو پیمانہ اللہ تعالیٰ نے اہل قلم کےلیے منتخب کیا ہے، وہ معیار جو تحریر کے ذریعے انسانیت کو تبدیل کرنے کا ہے، وہ ترازو جس پر میں نے قلم کے ذریعے انصاف کرنا ہے، میں نے خود کو کہیں نہیں پایا۔

گو کہ قلم کا ظاہری وجود بے جان ہے۔ یہ سماعت اور بصارت سے عاری ہے، اس کا کام تو محض لکھنا ہے۔ چہار سو گونجتی آوازوں کی صورت گری کرنا ہے۔ اذہان کی تاریک کوٹھری میں صبح کی مانند ابھرتے روشن خیال کی مجسمہ سازی کرنا ہے۔ بے ربط اور بے ترتیب الفاظ کو سلیقے کے لباس کا جامہ پہنانا ہے۔ اسے آپ قلم کی خوبی کہہ لیں یا کمزوری، یہ اپنے لکھنے والے کی مرہون منت ہے۔ وہ اسے جس سمت چاہے چلا لے۔ چاہے تو اسے بھلے اور اچھائی کےلیے حرکت دے، چاہے تو برائی کےلیے استعمال کرے۔ لیکن قلم کی حرکت کو وہی حیثیت حاصل ہے، جو زبان سے نکلے ہوئے ایک بول کو۔

جس طرح ایک کہا ہوا بول رضائے الٰہی کا سبب بن سکتا ہے، اسی طرح لکھا ہوا ایک جملہ بھی وہی مقام و مرتبہ رکھتا ہے۔ تاہم یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ قلم سے تحریر شدہ مواد کی اہمیت زیادہ ہے۔ کیونکہ منہ سے نکلے ہوئے الفاظ تو ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں، لیکن تحریر کے الفاظ پتھر پر انمٹ نقوش کی طرح محفوظ ہوجاتے ہیں۔

پتوں، پتھروں، تختیوں، چمڑے اور کاغذ سے ہوتا ہوا قلم کا یہ سفر الیکٹرانک تحریروں اور جدیدیت کی جانب رواں ہے، لیکن اس میں جتنی جدت آرہی ہے، اس کا معیار اتنا ہی زیادہ گررہا ہے۔ زمانہ قدیم میں کتابوں کے ذریعے تاریخ محفوظ کی گئی، لیکن آج ویب سرورز تاریخ محفوظ کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ابلاغیات میں دوسروں تک اپنی بات پہنچانے کے دو طریقے رائج ہیں۔ زمانہ قدیم میں یہ دو طریقے تقریر اور تحریر کہلاتے تھے۔ اب یہ طریقے زی لاگنگ اور بلاگنگ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

بلاگنگ، کالم نگاری اور فیچر نگاری کی جدید شکل ہے۔ بلاگز کے قارئین میں عموماً پڑھے لکھے اور سنجیدہ افراد ہوتے ہیں جو فرصت کے لمحات سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر گزارتے ہیں اور کم وقت میں معیاری تحریر پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ لہٰذا بلاگ کا مختصر مگر جامع ہونا ضروری ہے۔ صحافی، سماجی کارکن، طالب علم اور دیگر افراد مختصر بلاگز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لکھتے ہیں، جبکہ چند افراد مختلف اخبارات، ٹی وی چینلز اور بلاگنگ ویب سائٹس پر اپنی تحریریں اور بلاگ ارسال کرتے ہیں۔ دو یا تین ویب سائٹس کے علاوہ کسی بھی ویب سائٹ پر بلاگ کا معیار جانچنے یا ان کی کانٹ چھانٹ کرنے کا مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ جس کی بناء پر اردو بلاگنگ جی ٹی روڈ کی ٹریفک جیسی ہوگئی ہے، جہاں ہر فرد ہچکولے کھاتا آگے بڑھنے کی دُھن میں مگن ہے۔ بدقسمتی سے جیسے جی ٹی روڈ پر ٹریفک کنٹرول کا مؤثر نظام نہیں، اسی طرح اردو بلاگنگ کا معیار بہتر بنانے کےلیے بھی کوئی غوروخوض نہیں کیا جارہا۔

یہاں غیر معیاری بلاگز کی بھرمار ہے اور نو آموز بلاگرز کا بے پناہ اژدھام ہے۔ ہر بلاگر کے سر پر اپنی تحریر چھپوانے کا جنون سوار ہے۔ جس کےلیے وہ یکے بعد دیگرے تحریریں لکھتا ہے اور اس جلدبازی میں اپنی تحریر کے معیار کو پرکھنے پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ وہ کوتاہی برت جاتا ہے اپنی تحریر اور بلاگ کو قاری کی نگاہ سے پڑھنے میں، تحریر کا اسلوب، املا کی غلطیاں، وضع قطع، ابہام اور الجھاؤ سبھی درست کرنے میں۔ ایک اچھا بلاگ لکھنے کےلیے مندرجہ ذیل اصول مدنظر رکھنے چاہیں۔

 

مطالعہ

ایک معروف قول ہے کہ اچھا لکھنے کےلیے اچھا پڑھنا لازمی ہے۔ کسی بھی موضوع کے انتخاب کے بعد اس کے حوالے سے گہرا مطالعہ ضروری ہے۔ سطحی معلومات قاری کو اکتاہٹ کا شکار بنادیتی ہیں۔ اس کا اعتماد بلاگر پر ختم ہوجاتا ہے۔ کوشش کیجئے کہ اپنے موضوع سے متعلق کم ازکم تین کتب کا مطالعہ کریں۔ حالات حاضرہ پر لکھنے سے قبل ماضی کے حوالے سے آگاہی ہونا چاہیے۔

 

عنوان

بلاگر کےلیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بلاگ کا عنوان سادہ، بہترین اور دلچسپ رکھے۔ کیوں کہ قاری عنوان کو دیکھ کر ہی تحریر پر کلک کرے گا۔

 

طرز تحریر

تحریر کی ابتدا میں اعدادوشمار دینے کے بجائے انتہائی سادہ مگر پراثر الفاظ کا استعمال کیجئے، تاکہ تحریر کو پڑھتے ہوئے قاری کا دل اُچاٹ نہ ہو۔ تحقیقی بلاگ جہاں قاری کی معلومات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، وہیں بلاگر کے حوالے سے بھی اچھی رائے پیدا کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔ آپ کی تحریر کا انٹرو/ ابتدائیہ تیس سے پچاس الفاظ تک ہو۔ ابتدائیہ ہی قاری کو بلاگ پر زیادہ دیر رکنے پر پابند کرتا ہے۔ درست معلومات دیجئے اور مختلف ذرائع سے ان کی تصدیق کیجئے۔ غیر ضروری الفاظ سے اجتناب کریں۔ مختصر جملوں پر مبنی چھوٹے چھوٹے پیرا گراف لکھیے۔ ایک پیراگراف میں ایک سے زیادہ باتیں ہرگز نہ لکھیے۔ ایسا کرنے سے تحریر میں روانی آجائے گی۔ غیر جانبدار اور درست زبان کا استعمال کیجئے، تاکہ آپ کا موقف قاری تک مؤثر انداز میں پہنچے۔ ایسا کرنے سے قاری پر آپ کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

 

رموز و اوقاف

رموز و اوقاف جہاں تحریر کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں، وہیں ان سے الفاظ کے مطالب اور معنی بھی واضح ہوتے ہیں۔ دوران تحریر ان کا خاص خیال رکھیں، تاکہ آپ کی تحریر کی چاشنی برقرار رہے۔ نئے بلاگرز عموماً کاپی پیسٹ کلچر کا شکار ہیں۔ جس سے نہ ہی تحریر میں ربط ہوتا ہے اور نہ ہی بلاگ کا معیار بنتا ہے۔

 

سنسنی خیزی سے بچیں

مولانا ظفر علی خان جدید اردو صحافت کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے صحافت کو مقصدیت دی۔ اسی طرح چراغ حسن حسرت اور آغا شورش کاشمیری نے بھی اردو صحافت کے آنگن میں خوبصورت اصطلاحات کے رنگ بکھیرے۔ وقت بدلتا گیا، اردو صحافت میں مختلف اصطلاحات متعارف ہوتی رہیں۔ دور جدید میں جہاں ٹیلی ویژن نے جدید رحجانات متعارف کروائے، وہیں ڈیجیٹل میڈیا نے بھی اپنے قدم مضبوط کیے۔ ڈیجیٹل میڈیا پُراثر ضرور ہے، مگر اس کی قباحتیں، فیک نیوز کی بھرمار، بلاتصدیق اطلاعات کی تشہیر اور مؤثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث اردو صارفین میں اس کا اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ ایم فل کے تھیسیز کے دوران چند اردو نیوز ویب سائٹس کے معیار پر تحقیق کی۔ دوران تحقیق نیوز صارفین کی توجہ حاصل کرنے کےلیے نیوز ویب سائٹس کا رجحان سنسنی خیزی کی جانب دیکھا گیا۔ اس حوالے سے ویب سائٹ ایڈیٹرز نے صارفین کے رجحان کو بھی اس معیار کا ذمے دار قرار دیا۔ لیکن جب سروے کروایا گیا تو صارفین نے سنسنی پھیلانے والی ویب سائٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اس لیے کوشش کریں کہ ریٹنگ کےلیے آپ کا معیار نہ گرے۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ درست، غیر جانبدار اور نئی معلومات آپ کے قارئین تک پہنچیں۔

 

اپنی تحریر پڑھیں

جب آپ اپنی تحریر کو مکمل کرلیں تو اسے بار بار پڑھیے۔ اس عمل سے جہاں الفاظ اور گرامر کی غلطیاں درست ہوں گی، وہیں آپ کی تحریر میں مزید تبدیلیاں بھی آئیں گی اور آپ کے بلاگ کے حسن میں اضافہ ہوگا۔ بعض بلاگر اور لکھاری تحریر مکمل کرنے کے بعد ویب سائٹ کے برقی پتے پر ارسال کرنے میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔ وہ اشاعت سے پہلے اپنی تحریر میں ایڈیٹنگ اور کتابت کی غلطیوں کو دور کرنے کی ذمے داری ویب سائٹ یا ادارے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ادارے کی ساکھ پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے، البتہ آپ کی تحریر اور آپ کی شناخت پر گہرا اثر مرتب ہوگا۔

یاد رکھئے! آپ اس وقت ایک تاریخ مرتب کررہے ہیں۔ غیر معیاری اور غلط تاریخ لکھنے پر آئندہ آنے والی نسلیں آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ اپنے لیے نہ سہی آئندہ نسلوں کےلیے کچھ بہتر کرلیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

انعم احسن

انعم احسن

بلاگر نے ادارہ علوم ابلاغیات جامعہ پنجاب سے ڈویلپمنٹ جرنلزم میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ قومی اخبارات میں "ادراک " کے نام سے قلم کے رنگ بکھیرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ادب، تعلیم ،ظلم نا انصافی اور معاشرتی مسائل پر تحریر کرنے کی سعی کرتی ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔