کلبھوشن کیس میں بھارتی درخواست مسترد ہونے پر مودی سرکار کی عیاریاں

ویب ڈیسک  بدھ 17 جولائ 2019
عالمی عدالت نے کلبھوشن کی رہائی اور واپسی کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔ فوٹو : فائل

عالمی عدالت نے کلبھوشن کی رہائی اور واپسی کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔ فوٹو : فائل

نئی دلی: عالمی عدالت برائے انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے میں بھارت کی درخواست مسترد ہونے پر بوکھلاہٹ کی شکار مودی سرکار اپنی عوام کو فیصلے کا غلط رخ دکھا کر خوش کرنے کی ناکام کوششوں میں جُت گئی۔

عالمی عدالت برائے انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کی جانب سے جاسوس کو بری کر کے بھارت کے حوالے کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا اور بھارتی جاسوس کو پھانسی کی سزا پر پاکستان کو ریویو کا بھی موقع دے دیا گیا جس پر بھارتی میڈیا اور مودی سرکار روایتی عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو جھوٹے بہلاوے دینے لگے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی

فیصلے سے قبل ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کو اپنے حق میں تصور کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرا مودی کو مبارک باد بھی دے بیٹھیں۔ صارفین نے حیرت کا اظہار کیا اور فیصلے کے اقتباسات کے اسکین شاٹ لگائے جب کہ کچھ نے کہا کہ میڈم آپ کی آسانی کے لیے انگریزی فیصلے کا ترجمہ کردیں؟

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی فیصلہ سنے بغیر ہی اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ داغ دی کہ ’ عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں، یہ بھارت کی بہت بڑی جیت ہے اور ہم کلبھوشن کی جلد از جلد واپسی کے لیے دعا گو ہیں۔

حقیت تو یہ ہے کہ عالمی عدالت نے نہ تو کلبھوشن کی سزائے موت ختم کی ہے اور نہ ہی اسے بھارت کے حوالے کرنے کو کہا ہے البتہ فیصلے میں کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا حق دے دیا گیا ہے جسے بھارتی میڈیا اور رہنما توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوکومارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتارکیا گیا تھا۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پرفوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف بھارت نے مئی 2017 کو عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔