کراچی: فائرنگ سے3 ہلاک، ٹارگٹڈ آپریشن میں مزید 234 گرفتار

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 14 ستمبر 2013
لیاری میں رنجیروں سے جکڑانوجوان بازیاب،منگھوپیر،لاسی گوٹھ، ناظم آبادودیگرعلاقوںمیں چھاپے  فوٹو: فائل

لیاری میں رنجیروں سے جکڑانوجوان بازیاب،منگھوپیر،لاسی گوٹھ، ناظم آبادودیگرعلاقوںمیں چھاپے فوٹو: فائل

کراچی:  کراچی میں پولیس اوررینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجودفائرنگ کے واقعات میں3 افراد ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاؤن سیکٹر 11بلاک ایل روٹ نمبرون ڈی بس کے پرانے آخری اسٹاپ کے قریب سے 23سالہ نامعلوم شخص کی ہاتھ پاؤں بندھی تشددزدہ گلا کٹی لاش ملی جسے عباسی شہید اسپتال پہنچایاگیا،مقتول کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعدذبح کر دیا اور ملزمان لاش پھینک کر فرارہو گئے،مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی ۔اورنگی ٹاؤن سیکٹر7قذافی چوک کے قریب مسجد المسلمین کے سامنے واقعے ایک غیرمعروف پارک سے30ساؒۃ شخص کی لاش ملی، شبہ ظاہرکیاجارہاہے کہ مغوی کو ملزمان موٹر سائیکل پر بٹھا کر لائے اورسر سینے اورجسم کے دیگر حصوں پر5گولیاں مار کرہلاک کر دیا،مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی،مقتول محنت کش معلوم ہوتاہے۔

جمعرات کی شب غنی چورنگی پرسالے کے ہاتھوں زخمی حالت میں اغواہونے والے شریف بھٹی کی لاش ناظم آبادگول مارکیٹ کے قریب کھڑی کار نمبر ATU-672 سے ملی،مقتول بلدیہ ٹاؤن سعید آباد سیکٹر8رانگڑمحلے کارہائشی تھا۔اورنگی ٹاؤن سکیٹرساڑھے گیارہ بلاک ایل ٹومیں نامعلوم ملزمان کی گوشت کی دکان پرفائرنگ سے22سالہ قصاب وحید احمدقریشی زخمی ہو گیاجسے عباسی شہید اسپتال لایا گیا، پاکستان چوک پرنامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے26 سالہ انیس زخمی ہوگیا۔

دریں اثناقائد آباد کے علاقے لانڈھی اسپتال چورنگی کے قریب ملزمان نے بھتہ نہ دینے پر ٹرک پر دستی بم پھینک دیا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا ، دھماکے کی آواز دور تک سنائی دی جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ علاقہ مکین گھروں سے باہر نکل آئے ، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔ ایس ایچ او ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ اسپتال چورنگی کے قریب گلشن بونیر میں قائم مسجد صدیق اکبر کے قریب مزدا ٹرک کے قریب دھماکا ہوا تھا جس سے ٹرک کو نقصان پہنچا اور مسجد کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر چکنا چور ہوگئے جس کے نتیجے میں 2 افراد معمولی زخمی ہوئے۔ ٹرک کے مالک وکیل کو بھتہ خوروں کی جانب سے بھتے کی پرچی ملی تھی جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نام استعمال کیا گیا تھا جبکہ مذکورہ ٹرک ان کے گھر کے باہر کھڑا تھا تاہم پولیس واقعے کی مزید تفتیش کررہی ہے۔

رینجرز اور پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن اورچھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ٹارگٹ کلر ،بھتہ خور اور اغوا کارسمیت234 مشتبہ افرادکو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے مختلف اقسام کے60 سے زائد ہتھیار برآمد کر لیے۔تفصیلات کے مطابق رینجرز کی جانب سے شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے ٹارگٹڈآپریشن کا سلسلہ جاری رہا،رینجرز ترجمان کے مطابق سندھ رینجرز نے جمعے کو ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران منگھو پیر،لیاری اور لاسی گوٹھ میں آپریشن کر کے27 مشتبہ افرادکو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے مختلف اقسام کے33ہتھیار برآمد کر لیے ، رینجرز کی بھاری نفری نے انٹیلی جینئس انفارمیشن پر لیاری کے لیے نوالین جدگال چوک پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ایک گھرسے زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک مغوی15سالہ عرفان کو بازیاب کرا کر ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔

جبکہ3ملزمان فرار ہوگئے ، محمد عرفان لیاری آگرہ تاج کالونی کا رہائشی ہے جسے لیاری گینگ وار کے ملزمان2 روز قبل موٹر سائیکل پر اغوا کر کے لے گئے تھے اورمغوی کے اہلخانہ سے50ہزار روپے تاوان کا مطالبہ کیاتھا، منگھو پیر کے علاقے پختون آبادمیں کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کی اطلاع پرپورے علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور گھر گھر تلاشی لی گئی اس موقع پر رینجرز کی خواتین اہلکاربھی موجود تھیں جبکہ سرچ آپریشن کے لیے سراغ رساں کتوں کی مدد بھی لی گئی ، آپریشن کے دوران علاقے میں کسی کوآنے یا وہاں سے جانے کی اجازت نہیں تھی،سرچ آپریشن کے دوران2دہشت گرد سمیت دیگر مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر مختلف اقسام کے25ہتھیار برآمد کیے گئے ،حراست میں لیے جانے والے دہشت گرد ماربل کے کارخانوں اور دیگر کارخانوں سے بھتہ وصول کرتے تھے جبکہ وہ اغوابرائے تاوان اور قتل سمیت دیگروارداتوں میں ملوث ہیں،لاسی گوٹھ میں ٹارگٹڈآپریشن کے دوران5بھتہ خوروںکوحراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں142چھاپہ مارکارروائیوں کے دوران172ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے ، گرفتار ملزمان میں35اشتہاری اور مفرور ملزمان بھی شامل ہیں،پولیس ترجمان کے مطابق اسلحہ ایکٹ کے تحت41 نارکوٹکس کے17، ڈکیت2اور ایک بھتہ خور ملزمان شامل ہیں گرفتار ملزمان سے مختلف اقسام کے44ہتھیار اور منشیات بھی برآمدکی گئی ہے جبکہ رضویہ تھانے کے سب انسپکٹر اعجاز میمن نے پولیس پارٹی کے ہمراہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ناظم آباد جلال آباد سے فائرنگ کے تبادلے کے بعدرکشا میں سوار ایک ملزم شاہد عرف چراغو کو گرفتار کر کے ملزم کے قبضے سے ایک ٹی ٹی پستول اور رکشابرآمد کر لی ، گرفتار ملزم کے دیگر ساتھی موقع سے فرار ہو گئے،ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں60 سے زائد ڈکیتی اور دیگر وارداتوں کا انکشاف کیا ہے ، ملزم سے انویسٹی گیشن پولیس مزیدتفتیش کر رہی ہے۔خواجہ اجمیر نگری پولیس نے ایک ملزم عدنان کوگرفتار کر کے اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا۔

گرفتار ملزم کا تعلق سیاسی و مذہبی جماعت سے ہے۔دریں اثنا رینجرز نے آپریشن کے دوران آرام باغ کے علاقے اردو بازار بہادر شاہ ظفر روڈ سے متصل رہائشی عمارتوںسے 4 ، سمن آباد فیڈرل بی ایریا بلاک 19اور 20 کا محاصرہ کر کے 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ رینجرز نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایدھی سرد خانے کے قریب واقع فائر اسٹیشن کی بھی تلاشی لی تاہم وہاں سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ، رینجرز نے رنچھوڑ لائن میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ایک مسجد کے پیش امام تاج حنفی کو حراست میں لے کر 2 ایس ایم جی رائفل اور ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ رینجرز نے گارڈن کشتی چوک کے قریب ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 20 سے زائد مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیکر اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس میں ایک سیاسی جماعت کے کارکنان بھی شامل ہے ، رینجرز اور سی آئی ڈی نے صدر کے علاقے لکی اسٹار ایک ہوٹل کے قریب چھاپہ مار کر 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔