حج کے دوران کرونا وائرس کے پیش نظر قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کردی

ویب ڈیسک  جمعرات 18 جولائ 2019
حاجیوں  کے ذریعے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے پیش نظر موثر حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ فوٹوفائل

حاجیوں کے ذریعے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے پیش نظر موثر حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ فوٹوفائل

اسلام آباد: حج کے دوران کرونا وائرس کے حملے کے خطرات کے پیش نظر قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کردی۔

قومی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق کرونا وائرس سے شدید بخار، کھانسی، سانس لینے میں  دشواری کی شکایت ہوتی ہے، جبکہ اس کے علامات میں  نمونیا بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ مریض سے دوسرے فرد میں  باآسانی منتقل ہوجاتا ہے۔

ایڈوائزری کے ذریعے قومی ادارہ صحت نے وزارت مذہبی امور کو سفارش کی ہے کہ حاجیوں  کی میڈیکل صورتحال بارے طبی ماہرین سے تشخیص کو یقینی بنائے۔ کرونا وائرس کی علامات سے متعلق آگاہی دینے کیلئے حاجیوں  کو مقامی زبان میں  “ہیلتھ الرٹ کارڈ” جاری کرے۔ جب کہ حاجیوں  کو کروناوائرس سے بچاو کیلئے حفاظتی اقدامات بارے خصوصی لیکچرز دئے جائیں، جس میں  بار بار ہاتھ منہ دھونا، بیمار لوگوں  کے ساتھ میل جول سے پرہیز کرنا، بیمار افراد کے ہاتھ، منہ، ناک کو نہ چھونے، حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے، فارمی اور پالتو جانوروں  خاص طور پر اونٹ کو بے جا چھونے سے پرہیز کرنے کی سفارش کی ہے۔

وزارت مذہبی امور کو سفارش کی گئی ہے کہ حج مشن میں  ٹرینڈ میڈیکل عملہ شامل کریں، خاص طور پر وبائی امراض کے ماہرین کو میڈیکل مشن میں  شامل کریں۔ بڑی مقدار میں  اینٹی بائیوٹک، سوپس اور سینیٹائزر وغیرہ کو میڈیکل مشن میں  ساتھ رکھیں۔ ایڈوائزری میں  کہا گیا ہے کہ حج سے واپسی پر اگر کسی کو سانس لینے میں  تکلیف ہوتووہ فوری طور پر طبی معائنہ کرائے۔

ایڈوائزری کے مطابق یہ وائرس اونٹ کے ذریعے پھیلتا ہے اور انسان میں  منتقل ہوجاتا ہے۔ اب تک ہزاروں افراد اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جن میں 838 افراد کی اموات ہوئی ہے۔ ایڈوائزری میں  کہا گیا ہے کہ اب تک کرونا وائرس کے جتنے کیسز سامنے آئے ہیں ان میں  سے80 فیصد کیسز سعودی عرب میں  ریکارڈ کے گئے ہیں۔ جبکہ باقی کیسز بھی سعودی عرب کے قریبی ممالک اور یہاں  سے سفر کرنے والوں  میں  ہی ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

ایڈوائزری میں  کہا گیا ہے کہ پاکستان میں  خوش قسمتی سے تاحال کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں  آیا ہے، تاہم حج کے دوران سعودی عرب سے ممکنہ طور پر حاجیوں  کے ذریعے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے پیش نظر اس کی روک تھام کیلئے موثر حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔