شہبازشریف کے داماد کی جائیداد ضبط کرکے نیلام کی جائے گی، شہزاد اکبر

ویب ڈیسک  جمعرات 18 جولائ 2019
 کرپٹ افراد نے جو پیسا لوٹا وہ واپس کریں اور ہماری جان چھوڑیں، معاون خصوصی (فوٹو: فائل)

کرپٹ افراد نے جو پیسا لوٹا وہ واپس کریں اور ہماری جان چھوڑیں، معاون خصوصی (فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: وزیر اعظم معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران کی جائیداد ضبط کرکے نیلام کی جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی پریس کانفرنس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے آج شعبدہ بازی کی، انہوں نے جو باتیں کیں ان کا تو جواب بھی دینا نہیں بنتا، شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر پر کوئی وضاحت نہیں دی اور نہ ہی 6 کروڑ روپے کا جواب دیا، ایرا کے فنڈز سے جو 3 پیمنٹس ہوئی ان کا جواب دے دیں، ان کی پریس کانفرنس کی اصل وجہ ہے پورے ٹبر کی چوری پکڑی گئی۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شریف فیملی پرمنی لانڈرنگ کا الزام ہے انہوں نے 26 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کی، منی لانڈرنگ سے نصرت شہباز نے ڈونگا گلی میں گھر خریدا، حمزہ شہباز نے جوہر ٹاؤن کا گھر ٹی ٹیز سے خریدا، نصرت شہباز کے اکاونٹ سے رقم آپ کے پاس آئی، اسی دن کار خریدی گئی، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور علی عمران کی ایمپائر ٹی ٹیز پر کھڑی ہے، شہبازشریف خود خادم اعلیٰ اور ان کے بچے اعلیٰ ہی اعلیٰ ہیں۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ علی عمران کمپنی کا ایرا سےکوئی تعلق نہیں ہے، نوید اکرام نے ایرا سے  60 کروڑروپے لے کرعلی عمران کو دیئے، شہباز شریف کے داماد کی علی عمران اینڈ کمپنی کے 3 ادائیگیوں کے چیکس دکھائے گئے،  پہلی ادائیگی 27 ملین کی جولائی 2011 میں کی گئی ، 6 ستمبر 2012  کو 2 کروڑ روپے کی ادائیگی ہوگئی اور  تیسری ادائیگی 13 ملین کی مارچ 2013 میں کی گئی، تینوں ادائیگیوں کی رقم ملا کر 6 کروڑ روپے بنتی ہے، ہم صرف 3 ادائیگیوں کاپوچھ  رہے ہیں جوایرا سے کی گئیں، چیک سے ادائیگی نوید اکرام نے کی ، پاور آف اٹارنی علی عمران کے نام کی تھی۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نوید اکرام ایک غریب گھرانے کا لڑکا تھا لیکن اس نے80 کنال اراضی خریدی، 13 کروڑ روپے ادائیگی سے زمین خریدی گئی، نوید اکرام ایرا کے پیسے سے زمین کیسے خرید رہا تھا؟ شہبازشریف نے اسے گرفتار کروا دیا، اس کے معاملے میں شہباز شریف کا انصاف سمجھ نہیں آیا، وہ  غریب تھا تو چھترول کرادی اور علی عمران داماد تھا اسے لندن بھیج  دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دو لوگوں نے چوری کی لیکن ایک کی چھترول بھی کی اورگرفتار بھی کروا دیا، دوسرے کو فرار کروا دیا کیونکہ وہ داماد تھا، علی عمران کنٹریکٹر تھا، نہ سب کنٹریکٹر یہ سیدھا سیدھا ڈاکا تھا، نوید اکرام نے عدالت میں علی عمران سے تعلق کے بارے میں بتایا،  2016ء تا 2018ء علی عمران کا نام نہیں آیا کیونکہ کور اپ کے لیے اینٹی کرپشن کو استعمال کیا گیا، نیب نے اس اینٹی کرپشن سے اس کیس کو لیا تو سارا معاملہ کھل کر سامنے آ گیا، نوید اکرام پلی بارگین کرچکا ہے اور علی عمران مفرور ہے، علی عمران کی   قانون کے مطابق جائیداد ضبط ہوگی اور اس کو نیلام کیا جائے گا اور ریکوری کی جائے گی۔

معاون خصوصی احتساب کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مطلوب افراد برطانیہ اور عرب امارات میں ہیں، برطانیہ سے حوالگی کا معاہدہ نہیں ا س لیے مشکلات ہیں، سب سےہائی پروفائل کیس اسحاق ڈارکا ہے، ان پرکرپشن کےعلاوہ منی لانڈرنگ کابھی کیس ہے، ہمیں برطانیہ کے تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے، اسحاق ڈار کیس میں مئی میں برطانیہ نے ایم او یو سائن کیا، شہبازشریف کے داماد علی عمران اور سابق وزیرخزانہ کو گرفتار کرکے پاکستان لایا جائے گا، ہمارا مقصد یہ نہیں کہ یہ جیلوں میں رہیں اور ہم ان پر پیسا خرچ کریں، جتنا پیسا لوٹا ہے وہ واپس کریں اور ہماری جان چھوڑیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف جذبات کا سہارا چھوڑیں اب احتساب ہونے سے ٹی ٹی چیک ہونے سے پتا چلتا ہے، نظام نے کام شروع کر دیا ہے، احتساب سے ملک بدنام نہیں ہو رہا بلکہ پتا چلتا ہے نظام نے کام کرنا شروع کر دیا ہے، اگر میں نے جھوٹ بولا ہے تو آپ میرے خلاف برطانوی عدالت میں کیس کریں، ایک ہفتہ قبل شہباز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے برطانیہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے، اگر لیگل ایڈ کی کمی ہے تو وکیل بھی دوں گا، ایک ہفتے کا وقت دے رہا ہوں اگلے ہفتے میں مزید انکشافات کروں گا، اور بتاؤں گا آپ کے کون کون سے حواری آپ کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔