لوگوں کو گَن پوائنٹ پر بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل کرایا گیا

رضاء الرحمان / شعیب رئیسانی  اتوار 21 جولائ 2019
میں نے طاقت کے سامنے مزاحمت کی، جس کی سزا بھگت رہا ہوں، بلوچستان میں قومی جماعتوں کا وجود کمزور ہوتا جا رہا ہے، مسلم لیگ ق بلوچستان کے صوبائی صدر شیخ جعفر مندوخیل سے گفتگو

میں نے طاقت کے سامنے مزاحمت کی، جس کی سزا بھگت رہا ہوں، بلوچستان میں قومی جماعتوں کا وجود کمزور ہوتا جا رہا ہے، مسلم لیگ ق بلوچستان کے صوبائی صدر شیخ جعفر مندوخیل سے گفتگو

شیخ جعفر مندوخیل کا تعلق بلوچستان کے ایک معتبر سیاسی گھرانے سے ہونے کے ناتے سیاست انہیں اپنے اکابرین سے وراثت میں منتقل ہوئی ہے۔ ان کا خاندان نظریاتی اعتبار سے مسلم لیگی ہے۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔

انہوں نے 1988ء میں پہلی مرتبہ اپنے آبائی علاقے ژوب سے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا اور 2013ء تک ہونے والے عام انتخابات میں مسلسل تیس سال تک رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوتے رہے۔ ان سے قبل اس نشست سے 1985ء میں ہونے والے انتخابات میں ان کے چچا کام یاب ہوئے تھے۔ 1977ء میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں جب سیاسی جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو شیخ جعفر مندوخیل کے والد نے اپنی جیت کے100 فی صد امکانات ہونے کے باوجود انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرکے ملک کی سیاسی قیادت کا ساتھ دیا۔ شیخ جعفر مندوخیل 1993ء کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کام یابی کے بعد اپنے دیرینہ ساتھیوں سابق گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی، میرجان محمد جمالی اور سعید احمد ہاشمی کے کہنے پر ق لیگ میں شامل ہوئے اور اب تک اس سے وابستہ ہیں اور ق لیگ کے صوبائی صدر ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ اصولی سیاست کرنے والوں کو پارٹیاں تبدیل کرنا زیب نہیں دیتا چاہے معروضی حالات جیسے بھی ہوں۔

شیخ صاحب ق لیگ کے قیام میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حقیقت کو کبھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ تاہم ملک میں ایسی کوئی جماعت نہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کیے بغیر اقتدار میں آئی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی سیاسی حالات پر مصلحت اختیار نہیں کی نہ کبھی وہ کام کیا جس سے میرے اوپر حرف آئے۔ ق لیگ جب پنجاب اور مرکز میں حزب اختلاف میں تھی ہم بلوچستان میں حکومت کے اتحادی تھے معروضی حالات میں ہمیں فیصلے خود کرنا پڑتے ہیں۔

ق لیگ کے سابق پارلیمانی اراکین کی صوبے کی حکم راں جماعت میں شمولیت سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ چند دوست چھاؤں کی تلاش میں ضرور حکم راں جماعت میں شامل ہوئے ہیں مگر ان کی اکثریت نے اب اس جماعت سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ اس وقت ان دوستوں کو گَن پوائنٹ پر بی اے پی (بلوچستان نیشنل پارٹی) میں شامل کرایا گیا تھا۔ میں نے طاقت کے آگے مزاحمت کی جس کی سزا بھگت رہا ہوں، جنہوں نے مزاحمت نہیں کی وہ آج افسوس کررہے ہیں۔ صوبے میں حکم راں جماعت کے قیام میں میرے دیرینہ دوست اور پارٹی کے بانی کا سیاسی تجربہ اس کی کوششیں اور بھاگ دوڑ ضرور شامل تھی، مگر اسے بنایا کسی اور نے ہے۔ دوستوں کے جانے کے باجود پارٹی آج بھی بلوچستان بھر میں فعال اور منظم ہے جو دوست حکم راں جماعت میں گئے تھے وہ جلد یا بدیر واپس لوٹ آئیں گے۔

جعفر مندوخیل تیس سال تک انتخابات میں ناقابل شکست رہنے کے باوجود 2018ء کے انتخابات میں اپنی شکست کی وجہ اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دوستوں نے مجھے پیشگی بتادیا تھا کہ بلوچستان میں موجودہ حکم راں جماعت میں اگر آپ نے شمولیت اختیار نہیں کی تو آپ کو ہرایا جائے گا۔ سیاسی حالات سے سمجھوتا کرکے وزارت حاصل کرکے پیسے کمانا کبھی میرا ہدف نہیں رہا ہے۔ آج رکن اسمبلی نہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ کے اس عمل سے میری سیاسی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے میں صرف رکن اسمبلی تھا اب اس سے بڑھ کر ہوں سیاسی لوگ پر اعتبار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کم زور نظام کا حصہ بننے سے وہ عزت نہیں ہوتی جو آزاد سیاسی عمل میں کارکردگی دکھانے سے ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دعوے سے کہتا ہوں کہ 30 سالوں کے دوران ژوب میں جو ترقی ہوئی ہے وہ بلوچستان کے اکثر حلقوں سے زیادہ ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں سیاسی سطح پر کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔ تاہم ہر حلقے کے اپنے مسائل ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ماضی کی حکومتوں میں اپنی شمولیت سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سابق وزرائے اعلیٰ جام محمد یوسف مرحوم اور نواب محمد اسلم خان رئیسانی کے دور حکومتوں میں دونوں وزرائے اعلیٰ کے اصرار کے باوجود کابینہ میں شمولیت اختیار نہیں کی کیوںکہ ان کی حکومتوں میں جمعیت علماء اسلام کے اراکین کا اثرورسوخ زیادہ تھا، جن کی وجہ سے میں وہ کارکردگی نہیں دکھا پاتا جس کا صوبے کے لوگ مجھ سے تقاضا کرتے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد صوبے میں بننے والی قوم پرست جماعتوں اور ن لیگ کی مخلوط حکومت نے ق لیگ کو حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی جس پر ہماری جماعت کے پارلیمانی اراکین نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم ن لیگ کے ساتھ بلوچستان حکومت میں اکٹھے ہوںگے۔

پارٹی کے پارلیمانی گروپ نے مجھے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور وزارت کے لیے نام زد کیا۔ ڈاکٹر مالک بلوچ کی وزارت اعلیٰ کی مدت پوری ہونے پر جب نواب ثناء اللہ زہری کی کابینہ کے اراکین حلف لے رہے تھے انفرادی طور پر ہمارے کچھ دوستوں کی خواہش ضرور تھی کہ انہیں وزارت ملے تاہم نون لیگ کی اعلیٰ قیادت جس میں خواجہ سعد رفیق اور نوازشریف شامل تھے، انہوں نے مداخلت کرکے کابینہ کا حلف رکواکر موقف اختیار کیا کہ جب تک کابینہ میں سنیئر ممبر شامل نہیں ہوگا تو حکومت کیسے ڈیلیور کرپائے گی۔ انہوں نے مجھ سے کابینہ میں شمولیت اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی چوںکہ ہمارے صوبے کی اپنی روایات ہیں جنہیں پس پشت ڈالا نہیں جاسکتا، ان کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے کابینہ میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت کابینہ میں میری پوزیشن سنیئر وزیر کی تھی۔

نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں شامل نہ ہونے سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ موجودہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو اور موجودہ حکم راں جماعت میں شامل ان کے ساتھی جب نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرارہے تھے تو انہوں نے مجھے اس پر دستخط کرنے کو کہا۔ اگرچہ اس وقت نواب زہری سے میر ے اختلافات ضرور تھے میں نے اپنے محکمے میں ان کی مداخلت پر وزارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ بھی کرلیا تھا۔ اس وقت کے سیاسی حالات میں عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا۔ جب نواب ثناء اللہ زہری خود مستعفی ہوئے تو میں قدوس بزنجو کے ساتھ شامل ہوا۔

بلوچستان کے احساس محرومی میں کمی کے لیے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے منصب پر بٹھانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے تو ان کے چیئرمین سینیٹ بننے سے کیسے بلوچستان کو اس کے حقوق ملے ہوںگے؟

وفاق میں بی این پی کی حکومت کی مشروط حمایت سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نے مراعات اور وزارتیں حاصل نہ کرکے بلوچستان کے جن مسائل کے حل کے لیے تحریک انصاف کی حکومت کی مشروط حمایت کی ہے اس سے بی این پی کے سیاسی گراف میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی حکومت کی کارکردگی سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ امریکا کا ڈومور کا مطالبہ ڈو ایوری تھنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ امریکا اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں تناؤ کے باعث امریکا نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے پاکستان کو ملنے والے پیسے رکوادیے ہیں جس کے باعث ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ملک کو اس بحران سے نکالنا تنہا عمران خان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور ملک کا بجٹ چلانے والا عمران خان کی جگہ کوئی بھی ہوتا ملک کی حالت یہی ہونا تھی۔ جب ہم درست راہ پر چلیں گے تو ملک میں تبدیلی خود بخود آجائے گی۔ اپنے پیش رو کی ڈگر پر چل کر ان کی حکومت کو ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہرانے سے ہمیں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

سیاسی عمل میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو سیاسی حالات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم اداروں میں موجود کچھ لوگوں کی اب تک خواہش ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ہم ہی نے ڈکٹیٹ کرنا ہے۔

مرکز میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اخلاص سے آگے بڑھ کر اگر اپنا سودا نہیں کیا تو اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹنا پڑے گا اور حالات بہتر ہوںگے۔ ن لیگ یا پیپلزپارٹی نے اپنا سودا کرکے این آر اولیا تو ان کے اس عمل سے سیاسی حالات پر اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول مزید مضبوط ہوگا۔

حکومتِ بلوچستان کی کارکردگی سے متعلق جعفرخان مندوخیل کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی سے جام کمال اپنی کابینہ اور پارٹی میں شامل اراکین اسمبلی کو اب تک مطمئن نہیں کرپائے ہیں۔ صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا ہے اس پر عمل درآمد سے ان کی کارکردگی کا پتا چلے گا۔

صوبائی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک لانے میں کام یابی یا ناکامی سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ جام کمال کی حکومت کو زورآور قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اسمبلی میں کوئی ایسا رکن موجود نہیں جو کُھل کر حکومت سے اپنے اختلاف کا اظہار کرکے زور آور کی ناراضگی مول لے۔ اندرونی طور پر حکم راں جماعت کے اراکین میں اختلاف موجود ہیں۔ حکومت مخالف عدم اعتماد کی تحریک کو کام یابی سے ہم کنار کرنے کے لیے اپوزیشن کو 10 اراکین اسمبلی کی حمایت درکار ہے، تاہم وہ کون سے ایسے ارکان ہوںگے جو مراعات کو ٹھکراکر عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ بنیں گے؟ مجھے موجودہ اراکین اسمبلی میں ایسے لوگ نظر نہیں آتے۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں میں اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو شاید زورآور کو خاطر میں نہیں لائے، مگر اب تک اے این پی کی صوبائی قیادت حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔

صوبے میں حکومتیں بنانے اور گرانے میں مہارت رکھنے سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ نواب ذوالفقار علی مگسی اور میں اسمبلی میں موجود نہیں ہیں جب کہ جان محمد جمالی موجودہ تنخواہ پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں سے رابطے ہیں۔ جب تحریک چلتی ہے بڑے سے بڑے پہاڑ الٹ جاتے ہیں۔ صوبے میں حکومت مخالف کوئی تحریک چلتی ہے تو ساتھیوں سے مشاورت کے بعد سیاسی فیصلہ کروں گا۔

بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے متحد ہونے سے متعلق ان کا موقف ہے کہ پشتون اضلاع میں عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ جب کہ بلوچ اضلاع میں نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی میں موجود اختلافات انہیں متحد ہونے نہیں دیں گے۔ تاہم بلوچستان میں قومی جماعتوں کا وجود کم زور ہوتا جارہا ہے اور یہاں مقامی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں طاقت پکڑ رہی ہیں۔ لوگ مقامی اور علاقائی سیاست کی جانب راغب ہوئے ہیں۔ صوبے کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملک میں آزادی صحافت، صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں ترمیم، وفاق سے صوبے کے حقوق حاصل کرنے سمیت اجتماعی معاملات پر مشترکہ جدوجہد کو ترجیح دیں۔

جعفر مندوخیل بلوچستان کی محرومی کا ذمے دار صوبے کے سیاست دانوں اور بیوروکریسی کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان کی پس ماندگی کی سب سے بڑی وجہ پیسوں کی کمی نہیں ہے، یہاں کی سیاسی جماعتیں بلوچستان میں بننے والی ہر حکومت کا حصہ رہی ہیں۔ صوبے کی بدقسمتی ہے کہ لوگ یہاں الیکشن عوامی خدمت کرنے کی بجائے اس لیے لڑتے ہیں کہ آئندہ پانچ سال میں وہ دو تین ارب روپے بنالیں گے اور یہی وجہ ہے کہ کرپشن ہماری جڑوں تک سرایت اختیار کرگئی ہے۔ صوبے میں ایسے بھی محکمے ہیں جہاں 70 فی صد تک کرپشن پائی جاتی ہے۔

جعفرمندوخیل صوبے میں نواب اکبر خان بگٹی، نواب ذوالفقار علی مگسی، سردار اختر مینگل کی حکومتوں کو بااختیار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کی محصولات کو دُگنا کیا۔ تاہم اس کے بعد این ایف سی ایوارڈ سے چھوٹے صوبوں کو ان کا جائز حق نہ دے کر سابق حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کا سہرا آصف زرداری کو جاتا ہے۔ شہبازشریف نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب کے حصے میں کٹوتی کرکے این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد کرانے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو راستہ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ صوبائی خودمختاری میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ اس میں مزید اصلاحات آئیں گی۔

شیخ جعفر مندوخیل ملکی مسائل کا حل شفاف انتخابات کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آزادانہ انتخاب کے نتیجے میں آنے والی عوام کی حکومت ہی ملکی مسائل حل کرسکتی ہے اور اس سے جمہوریت پروان چڑھے گی۔ جب تک اسٹیبلشمنٹ کے لوگ حکومتوں میں شامل رہیں گے ملک میں کچھ بہتر نہیں ہوسکتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔