اسرائیل میں 1200 سال قدیم مسجد دریافت

ویب ڈیسک  جمعـء 19 جولائ 2019
اسرائیل میں عہدِ اسلام کے بالکل بعد میں قائم کی گئی مسجد دریافت ہوئی ہے جو 1200 سال قدیم ہے (فوٹو: اسرائیلی محکمہ آثار)

اسرائیل میں عہدِ اسلام کے بالکل بعد میں قائم کی گئی مسجد دریافت ہوئی ہے جو 1200 سال قدیم ہے (فوٹو: اسرائیلی محکمہ آثار)

تل ابیب، اسرائیل: اسرائیل میں ایک عمارت کی بنیادیں کھودنے پر قدیم ترین مسجد کے آثار دریافت ہوئے ہیں، ابتدائی اندازے کے مطابق یہ انتہائی سادہ مسجد کم از کم 1200 سال قدیم ہے۔

اسرائیلی شہر راحت کے قریب نیگوَو کے ریگستان میں ایک عمارت کی بنیادیں کھودی جارہی تھیں کہ اس کے نیچے سے قدیم عمارت کے آثار نمودار ہوئے۔ مکمل کھدائی کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایک مسجد ہے جس میں منبر کا علاقہ واضح طور پر قبلہ رخ ہے اور اسرائیلی محکمہ آثار کے مطابق یہ مسجد 1200 سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی بڑی تعداد نے یہاں آکر نماز بھی ادا کی ہے۔

اس علاقے میں دریافت ہونے والی یہ قدیم ترین مسجد ہے جس کا عہد خود عہدِ مکہ اور یروشلم سے ملتا ہے۔ اس موقع پر کھدائی کے نگراں جون سلگماں اور شاہر زور نے بتایا کہ یہ پوری دنیا میں ایک نایاب ترین دریافت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس مسجد کو مقامی افراد نے ہی تعمیر کیا ہے جو کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مسجد پر کوئی چھت نہیں بنائی گئی تھی اور منبر جنوب کی سمت یعنی قبلہ رخ ہے۔  اسرائیل میں تاریخِ اسلام کے ایک ماہر گڈیون ایونی نے بتایا کہ 636 عیسوی میں بازنطینی صوبے کو عربوں نے فتخ کرلیا تھا اور اس کے بعد یہ یہاں قائم کی جانے والی اولین مساجد میں سے ایک ہے۔

اس مسجد کے ساتھ گاؤں کے بھی کچھ آثار ملے ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت نے علاقے کی تاریخ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔