چین نے جینیاتی تجربے کے ذریعے خطرناک مچھر کی نسل ہی ختم کردی

ویب ڈیسک  جمعـء 19 جولائ 2019
سائنس دانوں نے مادہ اور نر مچھروں میں نسل خیزی کو اتنا سست کیا ہے کہ ان کی تعداد کم ہوکر تیزی سے ختم ہوجاتی ہے (فوٹو: فائل)

سائنس دانوں نے مادہ اور نر مچھروں میں نسل خیزی کو اتنا سست کیا ہے کہ ان کی تعداد کم ہوکر تیزی سے ختم ہوجاتی ہے (فوٹو: فائل)

بیجنگ: چین میں دنیا کے خطرناک اور حملہ آور مچھروں کی نسل میں سے ایک کو انتہائی کامیابی سے ختم کردیا گیا۔

یہ تجربہ صوبے گوانگ ڈونگ کے دوجزائر پر کیا گیا ہے جس کی زیادہ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس کاوش میں ایشیائی ٹائیگر مچھر کی 94 فیصد ماداؤں کو ختم کیا گیا ہے اور انسانوں کے کاٹنے کی شرح میں 97 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سال 2018ء میں برطانیہ میں امپیریل کالج لندن کے سائنس دانوں نے بھی ایسے ہی کچھ تجربات کیے تھے۔ بہت بڑی تعداد میں مادہ مچھروں کو بے ضرر بنا کر چھوڑ دیا گیا تھا اور اس جینیاتی تبدیلی کو نرمچھروں نے آگے بڑھایا اور یوں ایسے مچھر پیدا ہوئے جو مرض پھیلانے کے کسی قابل نہ رہے۔

چینی تحقیق میں شامل پروفیسر شائی زائی یونگ نے جنوبی چین میں ایک مچھر فیکٹری قائم کی ہے۔ اس سے قبل وہ نر مچھروں میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنے کا کامیاب مظاہرہ کرچکے ہیں جو مادہ سے ملاپ کرتے ہیں اور اس سے بے ضرر مچھر جنم لیتے ہیں۔

اس طرح وہ برے مچھروں سے لڑنے والے اچھے مچھر پیدا کرنے میں کامیابیاں حاصل کرچکے تھے تاہم اب نئی تحقیق کے مطابق انہوں نے مادہ اور نر مچھروں میں نسل خیزی کو اتنا سست کیا ہے کہ ان کی تعداد کم ہوکر تیزی سے ختم ہوجاتی ہے۔

مادہ مچھروں کو اشعاع (ریڈی ایشن) کے ذریعے بانجھ بنایا گیا اور نر مچھروں میں وولباخیا بیکٹیریا متعارف کرایا گیا پھر ان کی بڑی تعداد کو نسل خیزی کے موسم میں دو جزائر میں چھوڑ دیا گیا۔

یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ دونوں جزیروں پر مادہ مچھروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ بین الاقوامی ماہرین نے اس تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیائی ٹائیگر مچھروں کو ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ بہت تیزی سے اپنی تعداد بڑھاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔