صحافتی اقدار اور تہذیب

سلمان نسیم شاد  ہفتہ 20 جولائ 2019
موجودہ دور میں میڈیا کو آزادی اظہار رائے پر پابندی اور سنسرشپ کا سامنا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

موجودہ دور میں میڈیا کو آزادی اظہار رائے پر پابندی اور سنسرشپ کا سامنا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گزشتہ سال امریکی نیوز چینل سی این این نے اپنے صحافی جم اکوسٹا کا وائٹ ہاؤس کا اجازت نامہ معطل کرنے، مائیک چھیننے اور برا بھلا کہنے پر صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ پر مقدمہ کردیا۔ کیا آزادی اظہار پر قدغن کے خلاف پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ہمارا میڈیا کبھی آزاد نہیں رہا۔ ہر آنے جانے والی حکومتیں اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کےلیے اس کا استعمال کرتی رہیں۔ کسی بھی معاشرے کے سدھار کےلیے تنقید انتہائی اہم ہوتی ہے اور جہاں تنقید نہ ہو تو اس معاشرے میں لازمی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں حکمرانوں میں تنقید برداشت کرنے کا مادہ نہیں ہے۔ اسی لیے یہاں میڈیا کے سچ بولنے اور لکھنے والوں کو پابند سلاسل کیا جاتا رہا ہے۔ یہی حکومتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو میڈیا کی آزادی کےلیے آواز اٹھایا کرتی ہیں۔ مگر حکومت میں آنے کے بعد وہ پہلے کی آزادی کو بھی پابند سلاسل کرتی رہیں۔

آزادی صحافت و اظہار رائے کی سب سے بڑی اور کامیاب تحریک 1977/78 کے دور آمریت میں چلی۔ جہاں منہاج برنا، احفاظ الرحمٰن، اور حسین نقی جیسے حریت پسند صحافیوں نے تمام تر نامناسب حالات کے باوجود آزادی کی اس لڑائی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ پرنٹ میڈیا کا یہ وہ دور تھا جب سچ بولنے اور لکھنے والوں پر زمین تنگ کردی گئی۔ تحریک آزادی صحافت کے مجاہدین پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے ان کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا۔ ناصر زیدی، خاور نعیم اور اقبال جعفری جیسے حریت پسندوں کو کوڑے مارے گئے۔ حق پرستی کا پرچار کرنے والے اخبارات و جرائد کو بند کردیا گیا اور باقی تمام اخبارات پر سنسرشپ عائد کردی گئی اور حکم جاری کیا گیا کہ تحریک آزادی صحافت میں حصہ لینے والے کسی اخبار نویس و لکھاری کو نوکری نہ دی جائے۔

مگر ان سب منفی ہتھکنڈوں کے باوجود ان حریت پسند صحافیوں نے اپنے صحافتی پیشے کی حرمت کو پامال نہیں ہونے دیا۔ اور جنرل ضیاء کی بیعت کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے اپنی اس صحافتی جدوجہد کو جاری رکھا۔ لیکن موجودہ دور میں جب میڈیا کو آزادی اظہار رائے پر پابندی اور سنسرشپ کا سامنا ہے تو ہمیں دور دور تک کوئی منہاج برنا، احفاظ الرحمٰن اور حسین نقی جیسا حریت پسند نظر نہیں آتا۔

ہمارے آج کے الیکٹرانک میڈیا میں موجود بڑے بڑے اینکرز ایجنڈا صحافت کا شکار نظر آتے ہیں۔ جن میں سے چند ہی نام ایسے ہیں جن میں آزادی کی تڑپ باقی ہے اور وہ اپنے محدود وسائل میں لب کشائی کرتے نظر آتے ہیں، مگر اکثریت مصلحت پسندی کا شکار ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ میڈیا ہاؤسز میں غیر تربیت یافتہ صحافیوں کی بھرمار ہے۔ ہمیں یاد ہے جب ہم نے روزنامہ مشرق سے صحافتی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا تو ہمیں سب سے پہلے ایجوکیشن کی بیٹ دی گئی تھی۔ اور وہی ہماری پہلی منزل تھی۔ وہاں ہمیں صحافتی اقدار و تہذیب سے بھی روشناس کرایا گیا۔ بتایا جاتا تھا کہ کیسے پریس ریلیز میں لکھے گئے سخت اور بازاری جملوں کو حذف کیا جاتا ہے، کیسے ان کو ایڈٹ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی کامیاب صحافی کی سب سے پہلی تعلیم یہاں سے ہی شروع ہوتی ہے۔

برطانوی ادیب جارج برنارڈ شا نے صحافت کی مختصراً تعریف یوں بیان کی ہے۔ ‏”All great literature is Journalism۔ اعلیٰ ادب دراصل صحافت ہے۔ قرب زمانی اور تازگی صحافت کی جان ہے۔ مگر افسوس آج ہماری صحافت بے ادب ہوتی جارہی ہے اور اس کی وجہ وہ غیر تربیت یافتہ صحافی ہیں۔ جن کی گفتار اور انداز تکلم دیکھ کر صحافتی تاریخ کی تہذیب کہیں دور کھڑی شرما رہی ہوتی ہے۔

آزادی صحافت و اظہار رائے کی تحریک میں لازوال قربانیاں دینے والوں کی اکثریت کی روحیں تو عالم برزخ پرواز کرچکی ہیں اور جو مجاہدین زندہ ہیں ان کو گمنام کردیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ آزادی صحافت کی نام نہاد تحریکیں چلانے والے حضرات اپنے ان سینئرز کے پاس جائیں، ان کے تجربات سے سیکھیں، ان کو بطور سبجیکٹ پڑھیں۔ ان سے رہنمائی حاصل کریں۔

صحافتی تنظیمیں اس بات کی کوشش کریں اور حکومت پر زور ڈالیں کہ جرنلزم کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو یونیورسٹیز میں احفاظ الرحمٰن صاحب کی کتاب ’’سب سے بڑی جنگ‘‘ پڑھائی جائے۔ انھیں منہاج برنا، ناصر زیدی، حسین نقی اور اقبال جعفری صاحب کی جہد مسلسل پر لیکچرز دیئے جائیں۔ اس طرح ہمیں مستقبل میں پڑھے لکھے صحافیوں کی وہ کھیپ ملے گی جو صحافتی اقدار اور اس کی تہذیب سے بھی آشنا ہوں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔