پیٹ، پستول

طارق محمود میاں  ہفتہ 14 ستمبر 2013
tariq@tariqmian.com

[email protected]

ساری کی ساری خبریں خراب نہیں ہوتیں۔ قتل و غارت بہت ہے، چوری چکاری بھی بہت، لفنگا پن بھی بہت، جہالت بھی بہت۔ بے روزگاری، تعصب، بے چینی اداسی اور ایک بار پھر سے گرمی بھی بہت۔ لیکن اچھی خبر بھی آہی جاتی ہے۔ مثلاً اس روز میرا جی چاہا کہ میں نیوز ریڈر کا منہ چوم لوں۔ اس نے پی آئی اے کی نجکاری کی خبر سنائی تھی۔ حالانکہ دو روز پہلے تک میں اس کا سر توڑنے کا پروگرام بنا رہا تھا اور دیت کے لیے پیسے جمع کر رہا تھا۔اب آپ دیکھیے گا کہ کیسی شان سے جہالت کی منڈلی سیاپے شروع کرے گی۔ بلکہ آیندہ بھی جوں ہی کسی پرائیوٹائزیشن کی خبر آئے گی اسی وقت ایک نئی ہاہاکار کا جنم ہوگا۔ اکاؤنٹینٹ، بینکر اور ایم اے معاشیات ٹائپ کے ماہرین سرکاری اثاثوں کے لٹ جانے کا ماتم کریں گے اور ان کی پوری کوشش ہوگی کہ صورت حال جوں کی توں برقرار رہے۔ ان کی سوچ بس اس حد تک دوڑتی ہے کہ گورنس کو بہتر بنایا جائے تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔

ارے بھائی! جہاں چار ہزار ملازمین کی ضرورت ہو وہاں چالیس ہزار بھرے ہوئے ہوں تو سرکار گورنس کیسے بہتر بنائے گی۔ سیدھی سی بات ہے کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام ہی نہیں۔ اس نے کیا تو نتیجہ بھی دیکھ لیا۔ کارنامے منہ پھاڑ کے ماتم کناں ہیں۔ اربوں روپے کے حساب سے ماہانہ نقصانات ہورہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب یہ کھربوں میں پہنچ جائیں گے۔ گناہ بے لذت شاید اسی کو کہتے ہیں اور سو جوتے اور سو پیاز کھانا بھی اسی کو کہتے ہیں۔ پی آئی اے کی مثال ہی لے لیجیے۔ کوئی ذی روح ایسا نہیں ملے گا جو اس کی کارکردگی کی تعریف کرے۔ جو اس کی سیڑھی سے اترتا ہے جوتا ہی مارتا ہے اور اوپر سے ہر مہینے تین ارب کے پیاز الگ سے کھانا پڑتے ہیں۔ارے بابا! جلد سے جلد اس سے نجات حاصل کرلیں۔ اس سے پہلے کہ مانگے تانگے کے پیسوں سے بھری ہوئی حکومت کی جیب نقصان بھر بھر کے خالی ہوجائے اسے کسی ڈھنگ کے بندے کے حوالے کردیں۔

کوئی اچھی شہرت کا مالک اس کی ذمے داری اٹھا رہا ہو تو منت سماجت کرکے اور ہاتھ جوڑ کے بھی اس کے حوالے کردیں۔ لوگوں کی فضول تنقید اور بے سمت اعتراضات کو خاطر میں نہ لائیں۔ نجکاری کا عمل فول پروف اور شفاف ہوگا تو تمام اعتراضات خود ہی دم توڑ جائیں گے۔یہ نیشنلائزیشن بھی عجب چیز ہے۔سابقہ حکمرانوں کی بوئی ہوئی بربادی کی یہ فصل ہم اب تک کاٹ رہے ہیں۔ اوپر سے پاکستان اسٹیل سونے پر سہاگہ ہے۔ ماہرین ہمیشہ سے یہی بتاتے رہے ہیں کہ اس کی بنیاد ہی غلط تھی اور اس قسم کا پلانٹ لگایا ہی نہیں جانا چاہیے تھا۔ یہ بات بعدازاں درست ثابت ہوئی۔ اب ہم نے اسے ایک خیراتی ادارہ بھی بنادیا ہے۔ چلیے خیراتی ادارہ نہ کہیے اسے سفید ہاتھی کہہ لیجیے۔ پی آئی اے اور ریلوے کی طرح۔ اب نجکاری کی بات ہوتی ہے تو بے روزگاری کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔ ہزارہا فالتو لوگوں کے بیروزگار ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی بربادی کا فسانہ سنایا جاتا ہے۔ اسی لیے تو میں نے انھیں خیراتی ادارے کہا تھا۔ بات اور بھی واضح کرنا ہو تو۔ یتیم خانے کہہ لیں۔

ہمارے ہاں عموماً اسی قسم کے اعتراضات اور بہانوں سے بربادی کے سلسلے جاری رکھے جاتے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز خبر آئی کہ پانی کے بل کو بجلی کے بل کے ہمراہ وصول کرنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے۔ اسی طرح جیسے ٹی وی لائسنس کی فیس لی جاتی ہے۔ یہ ایک اچھی تجویز ہے اور اس پر کسی بھی صارف کو اعتراض نہ ہوگا کیونکہ ہر ماہ ایک فالتو بل بھرنے سے اس کی جان چھوٹ جائے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اعتراضات آنا شروع ہوگئے کہ اس طرح تو واٹربورڈ کے بلنگ ڈپارٹمنٹ کے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ گویا اسے بھی ایک خیراتی ڈپارٹمنٹ ڈکلیئر کردیا گیا ہے کہ جہاں لوگ بیٹھ کے بل بناتے رہتے ہیں اور اس بلاضرورت کام کی تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ بلاضرورت اس لیے کہ اگر اسے بجلی کے بل سے منسلک کردیا جائے تو وہاں یہ کام کمپیوٹر صرف ایک سطری انٹری کے ذریعے کردے گا۔ یوں بلوں کے کاغذ، پرنٹنگ، ترسیل اور وصولی کے تمام اخراجات بچ جائیں گے۔

اگر ہم نے کسی قسم کی معقولیت پسندی پر عمل نہیں کرنا، جدیدیت کو نہیں اپنانا اور نہ ہی ترقی کرنی ہے تو پھر ہاتھ سے کتابت کرنے کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور کیلکولیٹر کا استعمال بھی بند کردیتے ہیں کہ اس سے کاتب اور منشی بے روزگار ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ فالتو ملازمین کے بوجھ تلے دبے اور کچلے ہوئے سرکاری اداروں کا اب درست علاج کر ہی دینا چاہیے۔ بے روزگاروں کی مدد کے لیے انھیں سرکار کی گود میں پالے جانا کوئی دانائی نہیں ہے۔ بے روزگاروں کی مدد کرنی ہے تو کسی اور طرح کردیں ان کے نام پر اداروں کو برباد نہ کریں۔ پی ٹی سی ایل اور کے ای ایس سی سمیت اور بھی بہت سے ادارے ایسی صورت حال سے گزر چکے ہیں۔ اب ان کی کارکردگی پہلے سے کہیں بہتر ہے اور مزید بہتری کی طرف گامزن ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ ان اداروں میں ملازمین کے گولڈن ہینڈ شیک نے بہت سوں کی قسمت سنوار دی تھی۔

میں نے یہ سطور لکھ تو دی ہیں اور حکومت نے بھی پی آئی اے کے 26 فی صد حصص کی نجکاری کا اعلان کردیا ہے۔ جو یہ حصص خریدے گا اسے پی آئی اے کی انتظامیہ بھی منتقل کردی جائے گی لیکن جیساکہ میں نے کالم کی ابتدا میں عرض کیا ہے یہ کام آسان نہیں ہے۔ آپ دیکھیے گا نجکاری کا عمل شروع ہوتے ہی کچھ لوگ کالاباغ ڈیم کے اسٹائل پر دموں کے بل کھڑے ہوجائیں گے۔ ہم شاید اسی جوگے ہیں کہ کبھی بھٹو کی بوئی ہوئی فصل کاٹیں، کبھی یحییٰ کی، کبھی ضیا کی اور کبھی مشرف کی۔ اور پھر جیالی اور متوالی فصلیں۔ چلیے اگر میری بات میں شک ہے تو آپ ہی بتائیے کہ دل کھول کے لوٹنے اور دل کھول کے بھرتیاں کرنے میںکیا کوئی فرق ہے؟ کیا صرف پستول اور پیٹ کا فرق ، کہ پستول کی جگہ پیٹ دکھاؤ اور قومی اثاثوں پر اپنے میٹر فٹ کردو!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔