موٹرسائیکل ضرورت کے ساتھ ساتھ خطرناک سواری بن گئی

نعمان شیخ  جمعـء 19 جولائ 2019
رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 21 ہزار ٹریفک حادثات میں 111 افراد لقمہ اجل بن گئے

رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 21 ہزار ٹریفک حادثات میں 111 افراد لقمہ اجل بن گئے

 لاہور: موٹرسائیکل ہر گھر کی ضرورت لیکن سب سے خطرناک سواری بن گئی۔

رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 21 ہزار ٹریفک حادثات میں 111 افراد لقمہ اجل بن گئے ، ٹریفک پولیس کی جانب سے موٹرسائیکل سواروں کی سمت درست کرنے کے لیے 9 لاکھ کے قریب چالان بھی کیے گئے لیکن نوجوانوں میں ٹریفک قوانین کی پابندی کا شعور اجاگر نا ہوسکا ۔

محکمہ ایکسائز کے اعدادوشمار کے مطابق لاہور میں رجسٹرڈ موٹرسائیکل کی تعداد 30 لاکھ ہے جبکہ اس کے علاوہ 5 لاکھ کے قریب موٹرسائیکل دوسرے شہروں میں رجسٹرڈ ہیں لیکن شہر کی سڑکوں پر رواں دواں ہیں ۔ ریسکیوایمرجنسی سروسز کے ریکارڈکے مطابق رواں سال یکم جنوری سے اب تک صرف موٹرسائیکل حادثات کی تعداد 38ہزار 2 سو ہے جن میں 23 ہزار 565 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی جب کہ 15 ہزار 895 کو اسپتال منتقل کیا گیا جن میں 111 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ٹریفک حادثات میں متاثر ہونے والے افراد میں سے 9105 موٹرسایئکلسٹ  17 سال سے کم عمر ہیں جب کہ 2441 افراد 60 سال سے زائد عمر کے ہیں ۔ مردوں کے ساتھ 10 ہزار19 خواتین بھی حادثات میں زخمی ہوئیں۔

چیف ٹریفک آفیسر لاہور ملک لیاقت نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ یکم جنوری سے اب تک ہیلمٹ کی پابندی ، ون ویلنگ ، ریش ڈرائیونگ ، ون وے سمیت ٹریفک قوانین کی دیگر خلاف ورزیوں پر 8 لاکھ 94 ہزار 76 چالان جاری کیے جاچکے ہیں جن میں جنوری میں 161577فروری میں 138096,مارچ میں 145629 , اپریل میں   148548،مئی سے 150050 جون میں 150176 چالان کیے گئے جن میں موٹرسائیکل پر ٹرپل سواری کے 20904 چالان شامل ہیں ۔ لیاقت ملک کاکہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کے مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موٹرسائیکل حادثات میں زخمیوں میں سے زیادہ تعداد طالب علموں کی ہے اس لیے قریب 5 لاکھ طالب علموں کو اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ٹریفک پولیس نے ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی لیکچر دئیے اور سیف سٹیز کے کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیجز دکھائیں۔

لیاقت ملک نے مزید بتایا کہ موٹرسائیکل سواروں کے ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی یا تیز رفتاری پر وارڈنز کو اس کا پیچھا کرکے روکنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ نوجوان ٹریفک وارڈن سے بچنے کے لیے سڑک کے ڈیوائیڈر سے موٹرسائکل گزارنے کی کوشش کرتےہیں یا تیز رفتاری کو اپناتے ہیں جس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ لیاقت ملک نے ایکسپریس ٹریبیون کے پلیٹ فارم سے  والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو ہرگز موٹرسائیکل نا دیں اور 18 سال سے زائد عمر کے بچوں کو ہیلمٹ پہننے اورموٹرسائیکل آہستہ اور سڑک کے بائیں جانب  چلانے کی خود تلقین  کریں۔

سینئر ڈاکٹر صابر ملک نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ اسپتال کی ایمرجنسی میں 50 فیصد کیسز ایسے آتے ہیں جو ہیڈ انجری کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ ہیلمٹ نا پہننا ہے۔ ہیڈ انجری کا شکار 30 سے 50 فیصد زخمیوں کا موت کا خطرہ بھی لاحق جاتا ہے ۔ ہیڈانجری کے علاوہ موٹرسائیکل سوار افراد کی ٹانگیں حادثات میں زخمی ہوجاتی ہیں جس کی بڑی وجہ موٹرسائیکل کے ہینڈل پر پیچھے دیکھنے والے شیشوں کا استعمال نا کرتے ہوئے اچانک موڑ کاٹ لینا ہے ۔ ڈاکٹرصابر ملک کا کہنا ہے کہ بطور شہری ہمیں بھی دوران سفر احتیاط کرنی چاہیئے کہ سڑک پر کوئی شاپنگ بیگ یا پھلوں کے چھلکے ناپھینکیں جس سے پھسل کر کسی موٹرسائیکل سوار حادثہ کا شکار ہوجائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔