لفافے…

شیریں حیدر  اتوار 21 جولائ 2019
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’ بیٹا کم سے کم لفافوں میں میرا سامان پیک کریں ‘‘ میں نے اسے ایک ایک چیز ایک ایک مومی لفانے میں ڈالتے ہوئے دیکھ کر کہا۔

’’ پہلی دفعہ ایسا سن رہا ہوں میڈم کہ کسی نے کہا ہو کہ کم لفافوں میں سامان ڈالیں ، ہم تو اسی طرح ایک ایک چیز کے لیے ایک لفافہ دیتے ہیں کہ گاہک خوش رہے! ‘‘

’’ مجھے زیادہ لفافے نہیں چاہئیں ، اس لیے کہ مفت مل رہے ہیں، آپ میرے سامان کوکم لفافوں میں ڈالیں پلیز! ‘‘

’’ کوئی بات نہیں میڈم، لفافوں کی کوئی کمی نہیں ہے!!‘‘ اس نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے کہا۔

’’ کمی ہی تو نہیں ہے لفافوں کی، ان کی زیادتی کے باعث ہی تو ایسا کہہ رہی ہوں ! ‘‘ میں نے اس سے کہا۔

’’ کس بات کی زیادتی میڈم؟ ‘‘ اس نے حیرت سے سوال کیا ۔ جہاں اسے علم تھا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ لفافوں میں سودا بھر کر لے جانے کے عادی ہوں، وہاں کوئی دیوانہ ہی ہو گا نا جو زیادہ لفافوں پر نا خوش ہو گا ۔

’’ زیادتی ان لفافوں کے بعد استعمال کی ہے بیٹا، جنھیں ہم یہاں سے لے جا کر اپنے گھر میں سامان نکالنے کے بعد کوڑے دانوں کی نذر کر دیتے ہیں ، وہیں سے اس گندگی کا آغاز ہوتا ہے جس نے ملک کے چپے چپے کو بد نما بنا رکھا ہے ! ‘‘

اسے بتاتے ہوئے میری نظروں کے سامنے وہ سارے مناظر کسی فلم کی طرح چل رہے تھے جس میں نیلے ، پیلے ، سفید اور سیاہ مومی لفافے، ندیوں ، نالوں اور دریاؤں میں اس طرح لگتے ہیں جیسے ماحول کی خوبصورتی کی پھولی ہوئی لاشیں ۔ ان سے نہ صرف دیہات اور شہر کے ذرائع نکاس اکثر بند ہوئے ہوتے ہیں بلکہ ان کی بندش کی وجہ سے بدبو پیدا ہوتی ہے جو ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ چھوٹی نالیوں میں سے چند منٹ میں ہی ان لفافوں سے بندش ہونے کے باعث، ساری غلاظت اور کوڑا ابل ابل کر نالیوں سے باہر نکلتا اور گلی میں پھیل جاتا ہے ۔

کسی تفریحی یا سیاحتی مقام پر چلے جائیں تو آپ کو ہر طرف ان لفافوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں ، جو نہ صرف اس ماحول کو بد صورت بناتے ہیں ، بلکہ ہماری جہالت کا عملی نمونہ بن کر ان سیاحوں کو بھی متوجہ کرتے ہیں جو دوسرے ممالک سے ہمارے ملک کا حسن دیکھنے آتے ہیں، وہ حسن جو ہم نے اپنی ان گندی عادات اور لاپروا حرکتوں کے باعث ماند کر دیا ہے۔ ان لفافوں نے ملک کا کلچر ہی بدل دیا ہے، بہت کم عرصے میں انھوں نے کاغذی لفافوں ، کپڑے کے تھیلوں ، چھال ، بید اور پلاسٹک کی ٹوکریوں کی جگہ لے لی ہے ۔ انھوں نے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کر دیا ہے ۔

’’ ان چند لفافوں سے کتنی زیادتی ہو جائے گی! ‘‘ اس نے میرا سامان سمیٹ کر ٹرالی میں رکھا۔

’’ آپ نے سنا ہے نا کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے، یہ ایک نہیں، لفافوں کا ایک ڈھیر ہے جو میرے گھر جا رہا ہے!‘‘

’’ ابھی تو آپ لے جائیں میڈم، آیندہ سے آپ کے لیے خیال رکھیں گے! ‘‘ اس نے کہا۔

’’بیٹا، آپ میرے لفافے ابھی کم کردیں، فقط اتنے لفافے رکھیں ، جتنے ضروری ہیں ! ‘‘ ان کی مینجمنٹ سے ایک اسمارٹ سی خاتون مداخلت کے لیے پہنچ گئیں ۔

’’ میڈم لفافوں کی کوئی کمی نہیں ہے، آپ فکر نہ کریں ! ‘‘

’’ جانتی ہوں کہ کوئی کمی نہیں ہے ، پھر بھی کہہ رہی ہوں کہ ان لفافوں کو کم از کم نصف تک کیا جا سکتا ہے ‘‘

’’ ابھی آپ لے جائیں میڈم، آیندہ پہلے سے بتا دیں ، کیونکہ یہ لفافے اگر ہم واپس کر بھی لیں گے تو انھیں کوڑے دان میں ہی جانا ہے، دوبارہ استعمال نہیں ہو سکیںگے! ‘‘ اس کی اس وضاحت پر میں پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔

’’ آپ کو چاہیے کہ سامان کے ساتھ لفافے مفت میں نہ دیں، اگر آپ قیمتاً لفافے دیں گے تو لوگ احتیاط سے استعمال کریں گے ، انھی لفافوں کو کوڑے دانوں کی نذر کرنے کی بجائے دوبارہ استعمال کریں گے۔ ایسا کئی دکانوں والے کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہم لوگ بھی احتیاط سے ان لفافوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان لفافوں نے ہمارے ماحول کو کس طرح آلودہ کر رکھا ہے اسے جاننے، سمجھنے اور اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مومی لفافے ، جنھیں decompose ہونے میں کئی کئی سو سال لگتے ہیں، وہ ہوا کے ذریعے اڑ اڑ کر بھی ہمارے آبی وسائل کو آلودہ کرتے ہیں اور جن میں ہم کوڑا کرکٹ باندھ کر پھینکتے ہیں وہ بھی بالآخر پانی کے ذریعے سفر کرتے ہوئے سمندر میں پہنچ کر آبی حیات کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ صرف یہی نہیں، کوڑے کے ڈھیروں پر سجے ہوئے یہ مومی لفافے کتنے بد نما لگتے ہیں ۔

ہمارے گھر کے قریب ہی ایک بڑے اسٹور میں لفافے مفت میں نہیں ملتے، ایک مومی لفافہ پندرہ روپے کا ملتا ہے، اور انھی کا کپڑے کا بنا ہوا تھیلا سو روپے کا ملتا ہے۔ کپڑے اور کینوس یاایسے ہی کسی مواد کے بنے ہوئے reusable تھیلے کی وہ عمر بھر کے لیے گارنٹی دیتے ہیں کہ اگر وہ پھٹ جائے تو وہ اس کے بدلے آپ کو مفت میں نیا تھیلا دے دیں گے۔ مومی لفافے اگر آپ اپنے گھر سے ساتھ لائیں اور انھیں دوبارہ استعمال کریں تو وہ ہر لفافے کے عوض آپ کے بل میں دو روپے کی تخفیف کرتے ہیں ۔ کیا ان اقدامات کو ملک میں ہر جگہ لاگو نہیں کیا جا سکتا ؟؟

بہت سے برانڈز نے گزشتہ چند برسوں میں مومی لفافوں کا استعمال ترک کر کے، کاغذ کے بنے ہوئے مضبوط اور خوبصورت تھیلے متعارف کروائے ہیں، انھیں بھی دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا کے ذریعے لوگوں میں آگاہی مہم چلانا بہت اہم ہے، ہمارا ٹیلی وژن غالباً اس کام سے مستثنی ہو چکا ہے مگر ریڈیو اور سوشل میڈیا کی طاقت کو ملک سے ان عفریتوں کے خاتمے کی مہم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہر فرد اس میں حصہ لے سکتا ہے اور اپنی حیثیت میں اس کے استعمال کو کم کر کے ملک کی بہتری کے لیے ایک چھوٹا سا اقدام کر سکتا ہے ۔ کچھ نہ کچھ ایسا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جس کا تعلق اپنی ضرورت اور غرض سے نہ ہو، سوچا جائے تو گھوم پھر کر ہماری غرض ہی نکل آئے گی کہ ملک تو اپنا ہی ہے نا ۔ نہ صرف ملک بلکہ آپ جہاں بھی جائیں اسی سوچ کے ساتھ جائیں ، تا کہ اس کا دائرہ کارملک سے وسیع ہو کر دنیا تک چلا جائے ۔

میں خود ہر وقت گاڑی میں کئی تھیلے رکھتی ہوں ، کپڑے کے تھیلوں کے علاوہ نفاست سے تہہ کیے ہوئے مومی لفانے بھی۔ جہاں مجھے خریداری کرنا ہوتی ہے وہاں میں اپنے پاس موجود تھیلے نکال کر دوبارہ استعمال کرتی ہوں ، گھر جا کر سودے نکال کر ان لفافوں کو دوبارہ تہہ کر کے گاڑی میں رکھ لیتی ہوں ۔ کئی بار مجھے سننا پڑتا ہے کہ کیوں ان لفافوں کو سنبھالنے میں اپنا وقت ضایع کرتی ہو جب کہ ایسے لفافے مفت میں بھی اور کم قیمت پر بھی مل جاتے ہیں ۔ میں اس کے جواب میں جہاں وجہ بتا سکوں، وہاں وضاحت کر دیتی ہوں اور جہاں مجھے لگ رہا ہو کہ بات کرنے والے کے لہجے میں طنز ہے اور وہ میرے اس اقدام کو کنجوسی پر محمول کر رہا ہے، وہاں میں انھیں ایسا سوچنے کے لیے آزاد چھوڑ دیتی ہوں ۔ اپنے اقدام اگر قابل تقلید نہیں بنا سکتے تو کسی کی تنقید سے خود اچھا کرنا نہ چھوڑ دیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی آپ کے اس اقدام کے پیچھے آپ کی اچھی نیت کو سمجھ جائیں گے کہ بات صرف دو روپے بچانے یا ایک لفافے پر پندرہ روپے خرچ کرنے کی نہیں ہے۔

اپنے ماحول اور ملک کی بہتری کے لیے ہم سب کو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کو سوچنا اور ایسے معاملات میں دانائی دکھانے کی ضرورت ہے۔ہماری چھوٹی سی انفرادی کوشش ایک دن اجتماعی سوچ بن جائے گی، اپنی کوشش کو کبھی حقیر مت سمجھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔