فاٹا میں اسٹیل پر ایکسائز ڈیوٹی 10 فیصد کم کرنے کی تجویز کی مخالفت

خصوصی رپورٹر  اتوار 21 جولائ 2019
اس اقدام سے ملکی ریونیو کو 5 ارب روپے ماہانہ کا نقصان، ملک کی اسٹیل انڈسٹری بھی بند ہوجائیگی،پی اے ایل ایس پی۔ فوٹو: فائل

اس اقدام سے ملکی ریونیو کو 5 ارب روپے ماہانہ کا نقصان، ملک کی اسٹیل انڈسٹری بھی بند ہوجائیگی،پی اے ایل ایس پی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز(پی اے ایل ایس پی)نے  خیبر پختونخواہ میں ضم ہونیوالے فاٹا کے  اضلاع میں قائم اسٹیل یونٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کرنے کی تجویز کی مخالفت کردی ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز(پی اے ایل ایس پی)کی جانب سے وزیراعظم اورچیئرمین ایف بی آر کو لیٹر ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اسٹیل انڈسٹری تاریخ کے مشکل تریک مرحلے سے گذر رہی ہے اور ٹاپ کی چند اسٹیل کمپنیاں جو ایک سال قبل بہترین فنانشل پرفارمنس کی حامل کمپنیاں ڈکلئیر ہوئی تھیں وہ امسال بھاری نقصان ظاہر کررہی ہیں اور موجودہ صورتحال ملک کی اسٹیل انڈسٹری کو آئی سی یو میں دھکیل رہی ہے جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پر اسٹیل انڈسٹریز پہلے ہی بند ہوچکی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اور ملک کو بھی ریونیو کی مد میں نقصان ہورہا ہے۔

لیٹر میں کہا گیا ہے کہ اس سنگین صورتحال میں حکومت نے فاٹا و پاٹا سے سیاسی دباؤ کے تحت وفاقی بجٹ میں فاٹا و پاٹا میںقائم اسٹیل انڈسٹریز پر عائد کردہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی واپس لینے جارہی ہے اور اسٹیل سیکٹر کیلیے مزید ایسے اقدام کرنے جارہی ہے جس سے رہی سہی کسر پوری ہوجائے گی لہٰذا پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز(پی اے ایل ایس پی) وزیراعظم اور چیئرمین ایف بی آر سے اپیل کرتی ہے کہ وفاقی بجٹ میں فاٹا و پاٹا میںقائم اسٹیل انڈسٹریز پر عائد کردہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں نہ تو کمی کی جائے اور نہ ہی اسے واپس لیا جائے۔

اگر فاٹا و پاٹا کے اسٹیل یونٹس پر عائدفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی واپس لی گئی تو اسکے ملک کی باقی اسٹیل انڈسٹری کو انتہائی برے اثرات مرتب ہوںگے اور ملک کی دیگر اسٹیل انڈسٹری کیلیے وجود برقرار رکھنا مشکل ہوجائیگا جسکے نتیجے میں ملک کی باقی ماندہ اسٹیل انڈسٹری بھی بند ہوجائیگی جسکے ملکی معیشت پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہوںگے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم آفس کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو خیبر پختونخواہ میں ضم ہونیوالے فاٹا کے کے اضلاع میں قائم گھی مینوفیکچرنگ یونٹس اور اسٹیل یونٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کرنے کی تجویز پر رولز اور پالیسی کے مطابق عملدرآمد کرنے کے حوالے سے مراسلہ بھجوایا ہے جس پر اب اسٹیل انڈسٹری کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے کامرس اینڈ ٹیکسٹائل انڈٹری مرزا محمد آفریدی کی جانب سے لکھے جانیوالے لیٹر پر وزیراعظم سیکرٹریٹ سے محمد علی کے دستخطوں سے وزیراعظم کے پرنسپل اسٹاف آفیسرکے حوالے سے ایف بی آر کو مراسلہ لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کو لکھے جانیوالے لیٹر میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چئیرمین مرزا محمد آفریدی نے وزیراعظم عمران خان سے خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین ہونیوالی ملاقات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں وزیراعظم سے کے پی میں ضم ہونیوالے فاٹا و قبائلی کے علاقوں میں۔ گھی اور اسٹیل پر عائد 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

لیٹر میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے لوگ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کے خلاف نہیں ہیں اور وہ ٹیکس ریونیو کے حوالے سے اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں مگر ایک دم17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے مسائل پیدا ہوںگے اور قبائلی علاقوں کے لوگ دہشت گردی کے باعث پہلے ہی بہت متاثر ہوچکے ہیں لہذا قبائلی علاقوں میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایک دم17فیصد کی بجائے 7 فیصد عائد کی جائے اور پھر اسے بتدریج بڑھایا جائے۔

اس لیٹر کے جواب میں وزیراعظم۔ آفس کی جانب سے چئیرمین ایف بی آر کو لیٹر لکھا گیا ہے جس میں ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونیوالے فاٹا کے کے اضلاع میں قائم گھی مینوفیکچرنگ یونٹس اور اسٹیل یونٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 17فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کرنے کی تجویز پر رولز اور پالیسی کے مطابق عملدرآمد کیا جائے اب اس کے خلاف پاکستان اسٹیل انڈسٹری نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔