گال پر تل والا کوچ

سلیم خالق  اتوار 21 جولائ 2019
ایم ڈی غیرملکی کوچ ہی چاہتے ہیں انھیں لگتا ہے کہ پاکستانی کوچز سیاست کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ایم ڈی غیرملکی کوچ ہی چاہتے ہیں انھیں لگتا ہے کہ پاکستانی کوچز سیاست کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

’’فلاں پوسٹ  پر فلاں کو رکھنا ہے مگر رسمی کارروائی پوری کرنے کیلیے اشتہار تو دینا ہوگا، خیر اس کی قابلیت کو دیکھ کر اشتہار بناؤ اور یاد رکھنا کوئی پوائنٹ رہ نہ جائے‘‘ سر ان کے گال پر تل ہے کیا  یہ بھی لکھ دوں کہ ایسا ہونا لازمی ہے، ’’نہیں بے وقوف‘‘، صاحب نے جواب دیا۔

گوکہ یہ مذاق کی بات ہے لیکن پی سی بی میں ایسا ہی ہوتا ہے، نئے کرکٹ بورڈ میں بھی جو بڑی تقرریاں ہوئیں سب کے اشتہار دیکھ کر واضح تھا کہ یہ مخصوص لوگوں کیلیے جاری ہوا اور ہم جیسے لوگ امیدواروں کے انٹرویوز سے پہلے ہی جان گئے تھے کہ  کس کا تقرر ہوگا، یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے،لگتا تھا کہ شاید اب یہ سلسلہ رک جائے گا لیکن ہم غلط تھے،آپ کو ہر شعبے میں بہترین لوگوں کی تلاش ہوتی ہے اسی لیے جب کوئی پوسٹ مشتہرہو تو اس میں زیادہ قابلیت مانگی جاتی ہے مگر حال ہی میں انڈر 19ٹیم کی کوچنگ کیلیے جو اشتہار سامنے آیا اس میں ایسا نہیں تھا۔

پاکستان میں لیول فور کوچز بھی موجود ہیں مگر ٹو ہونے کو ہی کافی خیال کیا گیا، اسے دیکھ کر صاف ظاہر تھاکہ کسی کو ذہن میں رکھ کر اشتہار بنا اور وہ کون ہے کہیں تو آپ کو بتا دوں، خیرابھی رہنے دیں،  نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اتنے سارے  کوالیفائیڈ کوچز موجود ہیں ان کی خدمات سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا،وہ صرف ریجنز کی حد تک کیوں محدود رہتے ہیں،  یا تو آپ کو کوچنگ کورسز پر اعتماد نہیں یا بڑے ناموں سے مرعوب ہوتے ہیں، مگر دنیا میں کہاں لکھا ہے کہ بڑا کھلاڑی بڑا کوچ بھی بن سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا تو جاوید میانداد کے دور کوچنگ میں پاکستانی ٹیم ریکارڈز قائم کر دیتی۔

کوچنگ ایک آرٹ ہے جس میں  تعلیم اور تجربے سے ہی مہارت آتی ہے،نجانے کیوں بورڈ یہ اہم نکتہ فراموش کر دیتا ہے، حال ہی میں مجھے ایک سابق کرکٹر کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا جس میں انھوں نے اپنے حوالے سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھیجا، اس میں انھیں کوچنگ کی دوڑ میں شامل بتایا گیا تھا، وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا واقعی ایسا ہے، میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ تو آپ کو ہی پتا ہوگا، اشتہار آئے گا درخواست دیں پھر بورڈ کچھ بتائے گا، اس پر وہ کہنے لگے  ’’ماضی میں بھی کئی بار ایسا کر چکا، پی سی بی درخواست ملنے پر شکریہ کی ای میل بھی نہیں بھیجتا‘‘۔

واقعی یہ بات حقیقت ہے، وقار یونس جب کوچ بنے  ہر کسی کو پتا تھا کہ انہی کو ذمہ داری سونپی جائے گی اور اشتہار کافی بعد میں آیا، اب بھی شاید پی سی بی اس حوالے سے پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہو، ان دنوں بورڈ پر ’’وسیمز‘‘ کا راج ہے، ایم ڈی وسیم خان سابق کپتان وسیم اکرم سے بہت زیادہ متاثر اور ان کی ہر رائے کو بیحداہمیت دیتے ہیں، شاید انھوں نے جسٹس قیوم کی رپورٹ نہیں پڑھی یا پھر چیئرمین احسان مانی نے محسن خان کی طرح ان کو بھی اس حوالے سے کچھ سمجھا دیا ہوگا، وسیم کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ مکی آرتھر کو کچھ عرصے کیلیے برقرار رکھیں، اب پھر اشتہار دیا جائے گا۔

ایم ڈی غیرملکی کوچ ہی چاہتے ہیں انھیں لگتا ہے کہ پاکستانی کوچز سیاست کرتے ہیں، بورڈ میں بھی ان کا یہی خیال ہے اس لیے کسی کو لفٹ نہیں کراتے،اب اگر اشتہار دینے پر کوئی مناسب غیر ملکی نہیں ملا تو پھر آرتھر کو پاکستان سے مزید ڈالرز اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرانے کا موقع دیا جائے گا، پی ایس ایل لابی کی بعض بااثر شخصیات انھیں مکمل سپورٹ کر رہی ہیں، ویسے میرے خیال میں اب تبدیلی آنی چاہیے، سوائے ٹی ٹوئنٹی کے آرتھر کے دور میں ٹیم کی خاص کارکردگی نہیں رہی، ایک چیمپئنز ٹرافی کی فتح پر کب تک انھیں برداشت کیا جائے گا، اب کوئی نیا کوچ لانا چاہیے۔

انضمام الحق کو نجانے بورڈ نے کون سے سبز باغ دکھائے کہ وہ از خود چلے گئے، وہ تو ریٹائرمنٹ کیلیے بھی ایک کروڑ روپے لے کر گئے تھے، انھوں نے تین سال بطور چیف سلیکٹر کام کیا اور کئی کرکٹرز کے کیریئر برباد کیے البتہ اپنے بھتیجے امام الحق کا کیریئر بنا دیا اور ٹیم میں سیٹ کرا گئے، ہو سکتا ہے اتنے مواقع فواد عالم، خرم منظور، عابد علی، سعد علی یا کسی اور کھلاڑی کو ملتے تو وہ بھی اچھا پرفارم کرجاتے،  بورڈ سے 6 کروڑ تو لے لیے اب انضمام کو پاکستان کرکٹ پر رحم کھانا چاہیے کوچنگ وغیرہ کا خواب چھوڑیں، وہ کرکٹ کو اپنی بریڈ اینڈ بٹر قرار دیتے ہیں حالانکہ ان کی پاس اتنی دولت ہے کہ بریڈ اینڈ بٹر کی کئی فیکٹریز لگا لیں، روزی روٹی کی فکر تو عام آدمی کو ہوتی ہے، پی سی بی کے خرچ پر انھوں نے کئی ممالک میں ’’پیڈ ہالی ڈیز‘‘ منائیں، الاؤنسز لیے۔

چیف سلیکٹر ہوتے ہوئے پی ایس ایل فرنچائز سے بطور مشیرکروڑوں روپے لیے، چیمپئنز ٹرافی ٹیم نے جیتی حکومت سے ایک کروڑ روپے کا انعام انضمام نے بھی لیا،ٹیم کو اب بھی اوپنرز، اسپنرز، آل راؤنڈرز اور پاور ہٹرز کی تلاش ہے، اسی سے سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، میں سمجھ رہا تھا کہ الوداعی پریس کانفرنس میں وہ ورلڈکپ کی ناقص کارکردگی پر قوم سے معافی مانگیں گے، سلیکشن میں غلطیوں کا اعتراف کریں گے، متواتر  غیرملکی دوروں پر اظہار افسوس کریں گے، کئی باصلاحیت کرکٹرز کا کیریئر تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کریں گے، مگر افسوس ایسا کچھ نہیں ہوا۔

پاکستان میں ایسا ہوتا بھی نہیں ہے، بس سر بہت کر لی ’’ملک کی خدمت‘‘ اب آرام کریں، دیکھتے ہیں اب کون نیا چیف سلیکٹر آتا ہے، محسن خان کو  سہانے خواب دکھا کر کرکٹ کمیٹی چیف کی پوسٹ سے استعفیٰ لیا گیا مگر شاید ہی انھیں کوچ یا چیف سلیکٹر بنایا جائے، جس کی جتنی لابی مضبوط وہی آئے گا،بس ہماری یہی دعا ہے کہ کچھ اچھا ہی ہو،ایسے چیف سلیکٹر آئیں جو اقربا پروری سے پرہیز کریں، پیسے کے پیچھے نہ بھاگیں، کوچ بھی ٹیم کے ساتھ مخلص ہو، اسی صورت میں آئندہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بہتر کارکردگی کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔