سکھر بیراج سے 24 گھنٹوں میں 5افراد کی لاشیں ملیں

نمائندگان ایکسپریس  اتوار 21 جولائ 2019
ایک ماہ میں بیراج سے 15 لاشیں مل چکی ہیں، تمام پنجاب سے بہہ کر آئیں،تحقیقات کا آغاز کردیا، ایس ایس پی عرفان سموں۔ فوٹو: فائل

ایک ماہ میں بیراج سے 15 لاشیں مل چکی ہیں، تمام پنجاب سے بہہ کر آئیں،تحقیقات کا آغاز کردیا، ایس ایس پی عرفان سموں۔ فوٹو: فائل

سکھر / روہڑی: سکھر بیراج سے 24 گھنٹوں میں 5نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں جو ناقابل شناخت ہیں۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران بیراج سے 15 لاشیں برآمد ہو چکیں، چوبیس گھنٹوں کے دوران انتظامیہ کو سکھربیراج کے گیٹ نمبر 36سے تین اور گیٹ نمبر 39اور43 سے دو نعشیں ملیں۔

ایس ایس پی سکھر عرفان سموں نے ‘‘ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاشیںکئی روز تک پانی میں رہنے کی وجہ سے شناخت کے قابل نہیں رہیں، تاہم تصاویر کی مدد سے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اب تک ملنے والی تمام لاشیں پنجاب کے علاقوں سے دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث بہہ کر سکھر بیراج پہنچی ہیں۔

جمعے سے لاپتہ 6 کم عمر لڑکوں کا سراغ نہیں مل سکا

سکھر کے علاقے کوئنز روڈ سے جمعے کے روز سے لاپتہ 6 کم عمر لڑکوں کا سراغ نہیں مل سکا ہے، لڑکے جن کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان ہیں جمعہ کی شام 6 بجے گھر سے کھیلنے کیلیے نکلے اور لاپتہ ہوگئے، ان میں 3 سگے بھائی 11 سالہ حماد، 12 سالہ احسان اور 13 سالہ احتشام شامل ہیں، ان کے علاوہ بھی 2 بھائی 11 سالہ عاصم اور 16 سالہ قاسم بھی لاپتہ لڑکوں میں شامل ہیں۔

عاصم اور قاسم کے ماموں نے بتایا کہ اس کے بھانجوں سمیت 6 لڑکے مغرب سے پہلے کھیلنے کیلیے نکلے تھے، پھر ان کا کچھ پتہ نہیں چلا، ان میں سے ایک کے پاس موبائل فون تھا۔

پولیس کے مطابق دریا کے کنارے سے لاپتہ بچوں کے کپڑے اور چپلیں ملی ہیں، بچے نہاتے ہوئے پانی میں ڈوب گئے یا کوئی اور واقعہ ہوا ہے، تفتیش جاری ہے، بچوں کی تلاش کیلیے دریا میں ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔