سندھ میں لوگ مررہے ہیں آرمی چیف خدارا اپنا کردار ادا کریں، مصطفی کمال

اسٹاف رپورٹر  پير 22 جولائ 2019
پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ کراچی باغ جناح میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے (فوٹو: ایکسپریس)

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ کراچی باغ جناح میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے (فوٹو: ایکسپریس)

 کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے صوبے کا بیڑہ غرق کردیا، میں اب اٹھارہویں ترمیم کے خلاف ہوں، سندھ میں لوگ مررہے ہیں آرمی چیف اپنا کردار ادا کریں۔

کراچی باغ جناح گراؤنڈ میں پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ میں اٹھارویں ترمیم کا حمایتی تھا لیکن سندھ حکومت نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جس سے عوام کو ریلیف میسر آسکے میں ایسی ترمیم کو مسترد کرتا ہوں، سندھ کی صوبائی حکومت اٹھارویں ترمیم کے خلاف خود سازش کررہی ہے۔

انہوں ںے کہا کہ  اٹھارویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، بلاول صاحب، آپ اس اٹھارویں ترمیم کو بچانے کی بات کررہے ہیں جس کے تحت کچرا اٹھانے کے اختیارات بھی وزیر اعلیٰ کے پاس ہیں،  صوبائی حکومت نے 10 سال میں ایک ہزار ارب تعلیم پر خرچ کیے لیکن تعلیم کہیں نہیں، اگر صوبائی حکومتیں وفاق سے ملنے والے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرتیں تو آج وہ اٹھارویں ترمیم کو بچانے کے لیے تنہا نہیں ہوتیں بلکہ عوام ان کے ساتھ ہوتی۔

مصطفی کمال نے کہا کہ پی ایس پی مطالبہ کرتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے، پاک سرزمین پارٹی اقتدار میں آکر وزارت بلدیات ختم کردے گی، میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گزارش کرتا ہوں کہ جب زلزلہ سیلاب یا کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں، سندھ کے لوگ بھی مر رہے ہیں خدارا اپنا کردار ادا کریں۔

سربراہ پی ایس پی نے کہا کہ یہ نظام اب نہیں چلے گا، اب فیصلہ ہوگیا، چند دن بعد ہم سڑکوں پر ہوں گے، اگر مرنا ہی ہے تو ایک ایک کرکے نہیں مریں گے سب ساتھ مریں گے، ہم ڈٹ گئے تو حکمران بہہ جائیں گے ورنہ ہمیں ہمارے حقوق دینے ہوں گے، احتجاج میں سب سے آگے میں خود ہوں گا، ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پی ایس پی ہی لوگوں کے لیے نجات دہندہ ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام صوبوں کے ووٹ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے برابر ہونے چاہئیں تاکہ وزیراعظم تمام صوبوں پر برابر توجہ دے، وزیراعظم بننے کے لیے تمام صوبوں سے ووٹوں لینا لازمی ہونا چاہیے، چاروں صوبوں کی سیٹیں جب برابر ہوگی تبھی وزیراعظم تمام صوبے کے لوگوں کی خیریت دریافت کرے گا ورنہ وہ خود کو پنجاب تک محدود کر کے رکھے گا۔

مصطفی کمال نے کہا کہ ہم پنجاب کے خلاف نہیں لیکن دیگر صوبوں میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو سمجھنے کی ضرورت ہے، حکمران عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، عوام کے مسائل نہ وفاقی حکومت سن رہی ہے نہ صوبائی اور نہ شہری حکومت تو وہ ایسے میں کہا جائے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ایک نظام ہو اور سندھ اور بلوچستان کو پوچھنے والا کوئی نہ ہو جو بلدیاتی نظام وہاں نافذ کیا گیا ہے اس کو ہر پاکستانی کا حق ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی نے کہا کہ حیدرآباد والوں نے سیمی فائنل جیتا تھا کراچی والوں نے فائنل جیت لیا، کراچی والوں نے بتایا دیا کہ وہ مصطفی کمال کے ساتھ ہیں وہ ترقی کے ساتھ ہیں، یہ شہر صرف مصطفی کمال کا ہے آج کراچی والوں نے مصطفی کمال کے حق میں فیصلہ دے دیا جب کہ تبدیلی اور لسانیت فیل ہوگئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔