وزیر اعظم کا دورئہ امریکا اہم.... دونوں ممالک کے تعلقات میں برف پگھلے گی !!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 22 جولائ 2019
 ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کا ’’ایکسپرس فورم‘‘ میں اظہار خیال

 ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کا ’’ایکسپرس فورم‘‘ میں اظہار خیال

وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی دعوت کے بعد اس وقت امریکا کے دورے پر ہیں ۔

ان کے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں وزیر خارجہ کے علاوہ ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ اس دورے کے پاک امریکا تعلقات اور خطے پر اثرات سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

 ڈاکٹر اعجاز بٹ
(ماہر امور خارجہ)

وزیراعظم کا دورہ، امریکا کے اصرار پر کیا جا رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود انہیں اس کی دعوت دی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پاک امریکا تعلقات اس نہج پر چلے گئے ہیں جہاں بہتری کی گنجائش کم ہے اور اس وقت یہ توقع کرنا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خود دعوت دیں گے ناممکن تھا۔ یہ تبدیلی اچانک آئی ہے جس کے بعد پاکستان کی سول و ملٹری قیادت وہاں جاکر مذاکرات کر رہی ہے۔ امریکا کو اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ افغانستان سے نکلنا اور بعدازاں وہاں اپنے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔

اس وقت سوال یہ ہے کہ افغانستان میں 18 سال کی طویل جنگ نے امریکا کو کیا دیا۔ اس کی قوم کی پوچھ رہی ہے کہ ہم نے کیا فائدہ حاصل کیا اور وہاں ہمارا کتنا جانی و مالی نقصان ہوا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں آج بھی طالبان ایک بڑی طاقت کے طور پر موجود ہیں۔ امریکا کو یہ سمجھنے میںکافی دیر لگی جو پاکستان بہت پہلے سے کہتا آرہا ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں فرق ہے۔ آپ انہیں ایک ساتھ ’بریکٹ‘ نہ کریں ۔ طالبان مٹی کے بیٹے ہیں، انہیں طاقت سے نہیں ہرایا جا سکتا لہٰذا ان کے خلاف جنگ بیکار ہے۔ امریکا یہ نہیں مانا اور وہ طالبان کو بھی دہشت گرد ہی سمجھتا رہا۔

بہت عرصے بعد امریکا کو اس کا احساس ہوا یہی وجہ ہے کہ آج طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ طالبان نے بھی یہ کہا ہے کہ ہمارا 1994ء سے 2001ء تک جو اقتدار تھا اب اس سے مختلف ہوگا، اگر ہماری حکومت بنتی ہے تو وہ فرق ہوگی اور انہوں نے کسی حد تک لبرل افغانستان کے حوالے سے اپنے خدشات کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔طالبان سمجھتے ہیں کہ امریکی انخلاء کے بعد وہاں ان کی ہی حکومت ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار نہیں اور نہ ہی امریکی افواج کی موجودگی میں ڈیل کیلئے تیار ہیں۔

اس میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلی آرہی ہے۔ امریکا کے ساتھ ساتھ روس بھی یہ سمجھتا ہے کہ یہاں طالبان کو بلا شرکت غیر اقتدار دینا خطے کی باقی ریاستوں کے حق میں نہیں ہے۔ روس گارنٹی چاہتا ہے کہ طالبان اقتدار میں شریک ضرور ہوں لیکن بلا شرکت غیر ان کا اقتدار نہیں ہونا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہماری قیادت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم طالبان کو راضی کرلیں ۔ وہ یکم ستمبر تک ڈیل چاہتے ہیں کہ طالبان سیز فائر کردیں اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوجائیں، اس میں پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

طالبان نے ایک طویل جنگ لڑی ہے۔ ان کا دباؤ دن بہ دن بڑھ رہا ہے اور ان کی طاقت میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ معاہدے سے پہلے جنگ بندی ان کے حق میں نہیں، اگر انہوں نے جنگ بندی کر لی اور مذاکرات ناکام ہوگئے تو پھر دوبارہ لوگوں کو اس سطح پر اکٹھا کرنا ان کے لیے ناممکن ہوگا اور نہ ہی جنگ کا یہ زور دوبارہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان طالبان کے تمام دھڑوں کو جنگ بندی اور افغان حکومت سے مذاکرات پر منا لے گا؟ امریکا چاہتا ہے کہ آئندہ حکومت میں طالبان کے ساتھ افغانستان کے تمام طبقات شامل ہوں اور پرو امریکا لوگ بھی ہوں تاکہ وہ بعدازاں امریکا کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتے رہیں۔ ہمارے لیے افغانستان میں بھارت کا کردار اہم مسئلہ ہے، وہ افغانستان سے یہاں تخریب کاری کر رہا ہے اور اسے روکنے کیلئے امریکا نے کبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

اس دورے میں امریکا سے یقین دہانی لی جائے کہ وہ بھارت کو اس سے روکے گا۔اگر امریکا ایسا کرتا ہے تو پاکستان افغان طالبان کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ پاک امریکا تعلقات کو دیکھا جائے تو امریکا کے لیے اس کا دائرہ محدود ہے کیونکہ امریکا کو صرف افغانستان میں اپنے مفادات کی خاطر ہماری ضرورت ہے جبکہ ہمارا دائرہ کار وسیع ہے کیونکہ ہم معاشی تعاون چاہتے ہیں، FATF کا معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں، گرے لسٹ سے نکلنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ امریکا بھارت پر دباؤ ڈالے اور کشمیر کے مسئلے کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

ہماری خارجہ پالیسی میں بھارت اہم فیکٹرہے اور ہم ہر چیز کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اگر امریکا اس خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ بھارت کے مسئلے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے ہمارے مفادات کو تحفظ دے۔ ایسا بظاہر نظر نہیں آتا کیونکہ بھارت اس کا سٹرٹیجک پارٹنر ہے۔ ہمیں امریکا سے ’ایڈ‘ نہیں ’ٹریڈ‘ چاہیے۔ دنیا کے 2 یا 3 ایسے ممالک ہیں جن کے ساتھ ہماری تجارت سرپلس ہے جبکہ باقی سب کے ساتھ خسارہ ہے۔

2017ء تک ہمارا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر امریکا تھا جس نے پاکستان کو رعایتی مارکیٹ دے رکھی تھی۔ ٹرمپ کے آنے کے بعد پابندیاں لگ گئیں جن سے برآمدات میں کمی آئی۔ اگر اس دورے کے دوران امریکا سے تجارت کا راستہ کھل گیا تو پاکستان کو معاشی طور پر بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ میرے نزدیک پاکستان کو اس وقت اپنی اہمیت سمجھتے ہوئے امریکا کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے پاکستان کے موقف کی جیت ہوئی کہ بھارت ہمارے ملک میں مداخلت کرتا ہے اور دہشتگردی کرواتا ہے جو خطے کیلئے بھی نقصاندہ ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کو طاقتورممالک خاطر میں نہیں لاتے اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں۔ اسرائیل نے ویسٹ بنک پر مقیم یہودی آبادی کو تحفظ دینے کے لیے ایک دیوار تعمیر کی جس کے نتیجے میں وہاں موجود فلسطینی آبادی کیلئے شدید مشکلات پیدا ہو گئیں۔ انہیں اپنے معاشی ذریعے دریا سے محروم ہونا پڑااور ایک طرف سے دوسری طرف جانے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ قدم کسی بھی لحاظ سے درست نہیں تھا۔ یہ کیس عالمی عدالت انصاف میں گیا جہاں 14-1 سے اسرائیل کے خلاف فیصلہ ہوا اور صرف امریکی جج نے کہا کہ یہ دیوار درست ہے کیونکہ اسرائیلی آبادی کو فلسطینیوں سے خطرہ ہے۔ 14ججوں نے فیصلہ دیا کہ یہ دیوار غیر قانونی ہے لہٰذا اسے فوری طور پر گرایا جائے۔ اسرائیل نے اس فیصلے کو نظر انداز کر دیا اور وہ دیوار آج بھی وہاں موجود ہے۔

اس طرح کے بے شمار فیصلے موجود ہیں جن پر امریکا سمیت بڑی طاقتوں نے کوئی عمل نہیں کیا۔ عالمی عدالت انصاف کے حالیہ فیصلے میں یہ ثابت ہوگیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کر رہا ہے۔اس کے جاسوس موجود ہیں، وہ ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ عالمی طاقتیں بھارت کے معاملے پر آنکھیں بند کرلیتی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد امریکا، روس، یورپی یونین و دیگر طاقتیں بھارت پر دباؤ ڈالیں گی کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری نہ کرے؟ میرے نزدیک ایسا نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کو جیت تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ہم اس سے عالمی سیاست میں کیا حاصل کریں گے، یہ بڑا سوال ہے۔

 بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی
(دفاعی تجزیہ نگار)

وزیراعظم عمران خان کا دورئہ امریکا پاکستان کی خواہش یا مفاد کیلئے نہیں بلکہ امریکا کے مفاد کی وجہ سے ہورہا ہے۔ ٹرمپ نے خود اس دورے کی دعوت دی حالانکہ پہلے وہ پاکستان مخالف سخت موقف رکھتے تھے۔ افغانستان اور امریکا میں الیکشن آرہے ہیں جن کی وجہ سے صورتحال ٹرمپ کیلئے اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

اس وقت پینٹا گون اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان بحث چل رہی ہے۔ پینٹا گون افغانستان سے فوجی انخلاء نہیں چاہتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں امریکا کی جو بیس موجود ہیں انہیں وہ اکھاڑ کر لے جا نہیں سکتا اور نہ ہی انہیں وہاں چھوڑ کر جاسکتا ہے۔ اس میں سی آئی اے کی ان پٹ بھی آتی ہے کہ ان کا کیا ہوگا اور مستقبل میں انہیں کس طرح استعمال کیا جائے گا۔ طالبان نے ابتداء میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہم امریکی افواج کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں جس کے بعد سے مذاکرات کی باتیں آگے بڑھی۔ گزشتہ میٹنگ میں طالبان اور افغان حکومت کے وفد نے شرکت کی۔

افغان حکومت کے وفد نے پاکستان کے زور دینے پر شرکت کی جو سرکاری نہیں بلکہ عام شہری کے طور پر کی گئی۔ اس میں امریکا نے یہ لائن دی کہ اگر آپ ان سے میٹنگ کرتے ہیں تو ہم فوجی انخلاء کا ٹائم فریم دے دیں گے۔ زلمے خلیل زاد نے بھی یہی بات کی جس کے بعدافغانستان میں حملے ہوئے اور معاملہ خراب ہوگیا ۔وائٹ ہاؤس میں جو سگنل جا رہے ہیں وہ پینٹا گون کی ریڈنگ کے ساتھ نہیں مل رہے۔ افغانستان کے مسئلے کے حوالے سے ایک سہ فریقی سمٹ بنا ہوا ہے، جس کا ایک اجلاس پاکستان اور ایک افغانستان میں ہوتا ہے جن میں امریکی فورسز، اتحادی افواج، افواج پاکستان اور افغانستان کے آرمی چیفس یا ان کے نمائندے شرکت کرتے ہیں اور افغانستان کی سکیورٹی حالات پر گفتگو کی جاتی ہے۔ امریکا جب ویتنام سے نکلا تو ایک نئی اصطلاح متعارف کروائی گئی جسے ’ڈیسنٹ انٹروَل‘ کہا گیا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ ویتنام سے فورسز کے نکلنے اور ویتنامیوں کے ملک سنبھالنے تک، کچھ وقت دیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے ردعمل کا اثر عوام پر نہ پڑے۔ افغانستان کے معاملے میں ’ڈیسنٹ انٹروَل‘ کا ابھی فیصلہ نہیں ہورہا۔ فروری میں آنے والی SIGAR کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ میں افغانستان کے اندر 7 لاکھ افراد دوسرے علاقوں سے طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں نقل مکانی کر گئے ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق 67 فیصد علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ہلمند میں جاتے ہیں تو ایران ، تاجکستان کی طرف جاتے ہیں تو وسط ایشیائی ممالک کا اثر نظر آتا ہے لہٰذا اگر ان حالات میں افغانستان سے فوری فوجی انخلاء ہوجائے تو بیرونی طاقتوں کی وجہ سے افغانستان میں ایک ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے کہ جو خود طالبان کے کنٹرول سے بھی باہر ہو اور اس بات کا ادراک طالبان کو بھی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ میں امریکا کا مفاد اس وقت افغانستان سے انخلاء ہے۔چین اور روس کے افغانستان میں معاشی مفادات ہیں، وہ وہاں مختلف منصوبے بھی کر رہے ہیں۔ اگر امریکا اپنی فورسز نکالتا ہے اور افغان فورسز کو دی جانے والی رقم بند ہوجاتی ہے تو ایسی صورتحال میں کیا ہوگا؟ اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے، اس حوالے سے ہم کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امریکا نے ایران کے ساتھ معاہدہ ختم کرلیا ہے جبکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔ ایران کی قیادت پاکستان آئی اور پاکستان کی قیادت ایران گئی۔

یہ چیزی میٹنگ کے حوالے سے اہم ہیں۔ آئی ایم ایف ڈیل امریکا کے بغیر نہیں مل سکتی تھی۔ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اکتوبر میں ہے، پاکستان نے FATF کو ایک لمبی اور سیر حاصل پریزنٹیشن دی جبکہ انہوں نے چند اور مطالبات کیے ہیں، پاکستان نے حافظ سعید کو بھی گرفتار کیا۔FATF کا معاملہ بھی ہمارے لیے اہم ہے۔ پاکستان اور بھارت کے حوالے سے عالمی سطح پرسب سے اہم چیز یہ ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا۔ اس سے پاکستان کو فائدہ ہوا۔ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری امریکی جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی افواج اپنے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی تھیں جس سے سب کو فائدہ ہوا۔ پاکستان افغان بارڈر پر باڑ لگا کر دہشت گردوں کی نقل و حمل روکنے کے حوالے سے بھی سہ فریقی کولیشن فورسز کی رضا مندی شامل ہے ۔

یہ سارے معاملات بھی اس دورے کے محرکات ہیں جن پر بات چیت ہوسکتی ہے لہٰذا جو چیزیں فوج سے متعلق ہیںا س کے لیے ضروری تھا کہ آرمی چیف بھی وہاں جائیں۔ بھارت کی تخریب کاری اور افغانستان کی سرزمین کس طرح پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، اس حوالے سے ڈیٹا آئی ایس آئی کے پاس موجود ہے لہٰذا خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے مذاکرات میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اپنا موقف بہترین طریقے سے پیش کرسکے گا۔ عمران خان سی پیک منصوبے کے حوالے سے بھی امریکی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک ان تمام بڑے مسائل پر بات چیت ہونا بڑی ڈویلپمنٹ ہے۔ اس دورے سے بہتر نتائج حاصل ہوں گے اور پاک امریکا بد اعتمادی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ ویانا کنونشن کے گرد گھومتا ہے اور اس میں بنیاد قونصلر رسائی ہے۔ اس میں یہ تسلیم کیا گیا کہ پاکستان نے اسے گرفتار کرکے تین ہفتے بعد بھارت کو اطلاع دی حالانکہ پاکستان کو اس بارے میں فوری اطلاع دینی چاہیے تھی۔ اگر ویانا کنونشن پڑھیں تو اس میں وقت کا تعین نہیں ہے، صرف یہ کہا گیا ہے کہ گرفتار شخص کے انسانی حقوق کے تحت اطلاع دی جائے لہٰذا پاکستان نے بھارت کو اطلاع دے کر اس کا بنیادی حق پورا کردیا تھا۔ اس سارے فیصلے میں پاکستان کے موقف کی تائید ہوئی۔ عالمی عدالت نے فیصلے میں مانا کہ کلبھوشن بھارتی نیوی کا افسر ہے جو ’’را‘‘ کیلئے کام کرتا تھا، اس سے ’’را‘‘ کے دہشت گردانہ کردار سے بھی پردہ اٹھ گیا۔ قونصلر رسائی نہ دینا بڑی خلاف ورزی نہیں ہے۔ عالمی عدالت نے کلبھوشن کی سزا معطلی اور بریت کی بھارتی درخواست کو مسترد کردیا اور کہا کہ پاکستان اپنے قانون کے مطابق اس کیس پر نظر ثانی کرے۔

ڈاکٹر امجد مگسی
(تجزیہ نگار )

وزیراعظم کا دورئہ امریکا ماضی کے دوروں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ خاص کر اگر موجودہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2017ء اور اس کے بعد سے پاکستان کو مسائل کی جڑ قرار دیتے رہے، اب یہ کیسے ہوا کہ انہوں نے پاکستان کو آن بورڈ لینے کا فیصلہ کیا۔ افغانستان کے مسئلے میں طالبان کو راضی کرنے کے حوالے سے ٹرمپ نے خود وزیراعظم پاکستان کو فون کرکے کلیدی کردار ادا کرنے کا کہا۔ یہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

امریکا عالمی سیاست کی وجہ سے پاکستان کو نظر انداز کر رہا تھا مگراب جب اسے عراق، افغانستان و دیگر ممالک میں شکست کا سامنا کرنا پڑاتو اسے افغانستان سے نکلنے کیلئے پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ پاکستان ہمیشہ سے ہی افغانستان کے مسائل حل کرنے کیلئے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ کے فون سے پاک امریکا تعلقات میں سرد مہری اور ڈومور جیسے مطالبات ختم ہوئے۔ ان تعلقات میں آہستہ آہستہ بہتری آئی اور اب حالیہ دورہ بھی اسی کا تسلسل ہے۔

وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا امریکا جانا انتہائی اہم ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے اور امریکا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں کو اعتماد میں لے کر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان کا مسئلہ حل ہو جائے۔ہمیشہ سے یہ ہوتا رہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان خلا پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پرانے اتحادی ہونے اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات بداعتمادی کی نذر ہوجاتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ صرف ایک دورے سے مسائل حل نہیں ہوں گے تاہم اگر اس کے بعد دونوں ممالک کے ورکنگ ریلیشن مستقل طور پر بہتر ہوتے ہیں تو فائدہ ہوگا۔اس وقت پاکستان اور امریکا بہت زیادہ دوری پر کھڑے ہیں۔

پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات اور سی پیک منصوبے کے حوالے سے امریکا کو تحفظات ہیں۔ ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کافی تگ و دو کے بعد یہ معاہدہ طے پایا لہٰذا اس کو بھی اس تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ امریکا اور بھارت کے تعلقات پر پاکستان کو تحفظات ہیں۔ امریکا اس خطے میں چین کے مقابلے میں اسے کھڑا کر رہا ہے لہٰذا ان تمام تحفظات کی وجہ سے پاکستان اور امریکا کے مابین دوری ہے۔ یہ دورہ اس حوالے سے بھی اہم ہوگا کہ پاکستان کس طرح چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس طرح ہی مضبوط رکھتا ہے جس طرح تاریخی طور پر رہے ہیں کیونکہ امریکا اس حوالے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک دیر پا امن معاہدے پر دستخط کرنے چاہئیں، یہ نہ ہو کہ 1988ء کے جنیوا معاہدے کی طرح افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

اگر اب بھی ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تو اس کا نقصان براہ راست پاکستان کو ہوگا۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان پر بہت دباؤ ہے، امریکا بھی اس پرپاکستان کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے کافی اقدامات اٹھائے ہیں۔ حال ہی میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا جو اسی طرف ایک قدم ہے۔ اس کے علاوہ معیشت کودستاویزی کرنے کا کام بھی اسی وجہ سے ہے۔ اگر امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹھیک ہوجاتے ہیں تو FATF میں پاکستان پر سختی کم ہوسکتی ہے۔ افغانستان سے امریکا کی افواج نکل رہی ہیں جس میں اسے پاکستان کی ضرورت ہے۔ امریکا پاکستان کو معاشی طور پر کمزور نہیں دیکھنا چاہتا۔ خدانخواستہ اگر پاکستان کمزور ہوتا ہے تو اس کا نقصان امریکا کو بھی ہوگا۔ امریکا عسکری حوالے سے بھی مضبوط پاکستان چاہتا ہے تاکہ اسے طالبان اور افغانستان کے تناظر میں فائدہ ہوسکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح خود وزیراعظم اور آرمی چیف کو دعوت دی ، اس سے لگتا ہے کہ وہ اب پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ نے شمالی کوریا کے صدر کے ساتھ خود جاکر ملاقات کی۔ چین کے ساتھ تعلقات میں بھی اب وہ گرمی نہیں جبکہ ایران کے ساتھ بھی معاملات زیادہ سخت نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے سال الیکشن ہیں لہٰذا اب ٹرمپ تمام چیزیں حل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ٹرمپ نے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ آئی ایم ایف ڈیل کا ملنا، ایف اے ٹی ایف کی تاریخ کا آگے جانا اور ٹرمپ کا خود فون کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا سنجیدہ ہے لہٰذا مجھے امید ہے کہ معاملات بہتری کی جانب بڑھیں گے۔ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوا۔ بھارت ہمیشہ سے پاکستان پر دہشت گردی جیسے الزامات لگاتا رہا ہے تاہم پہلی مرتبہ عالمی سطح پر ہمارے موقف کو تسلیم کیا گیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرواتا ہے۔

پاکستان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ عالمی عدالت انصاف یہ کیس نہیں سن سکتی جسے رد کردیا گیا جبکہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی رہائی اور پھانسی کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے نہیں مانا گیا۔ عالمی عدالت نے پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور کلبھوشن کو قونصلر رسائی بھی دی جائے۔ قونصلر رسائی کی وجہ سے زمینی حقائق میں تبدیلی آئے گی، ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی عدالت اس معاملے پر نظر ثانی کرے۔ یہ فیصلہ خوش آئند ہے، وزیر اعظم نے بھی اسے سراہا ہے اور اس سے پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت یہ معاملہ خود عالمی عدالت میں لے کر گیا مگر اس کے موقف کو تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا جو پاکستان کی اخلاقی فتح ہے ۔

 ڈاکٹر زمرد اعوان
(سیاسی تجزیہ نگار)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان مضبوط شخصیت کے مالک ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنی پالیسی یکسر بدل لیتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف بھی پہلے وہ سخت بیانات دیتے رہے اور اب خود انہوں نے دعوت دی لہٰذا دونوں شخصیات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے نمائندوں کے امریکا دوروں کی 5 مختلف اقسام ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ تیسری کیٹگری کا ہے۔ اس میں پروٹوکول کم ہوتا ہے، میڈیا بریفنگ نہیں ہوتی وغیرہ۔ امریکا افغانستان میں پھنسا ہوا ہے اور اسے وہاں سے نکلنا ہے۔ بھوربن میں افغان قیادت آئی ۔ اس کے بعد اشرف غنی پاکستان آتے ہیں۔ زلمے خلیل زاد نے بھی یہاں دورے کیے اور کہا کہ پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے۔

یہ دورہ اسی تناظر میں ہورہا ہے۔ پاکستان طالبان کے معاملے میں کچھ حد تک ہی جا سکتا ہے کیونکہ ان کے سارے دھڑے پاکستان کے ساتھ نہیں ہیںلہٰذا پاکستان کو خودکو بھی دیکھنا ہے کہ کہاں تک جائیں تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ میرے نزدیک وزیراعظم کے اس دورے میں معاشی لحاظ سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ یہ افغانستان اور طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حوالے سے ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا جانا ظاہر کرتا ہے کہ سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے اور امریکا بھی سمجھتا ہے کہ وہ سول ملٹری قیادت سے علیحدہ علیحدہ ڈیل نہیں کر سکتا۔ اب جو بھی ہوگا دونوں کے ساتھ اکٹھے ہی طے ہوگا۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکا سے بھارتی مداخلت اور امریکا کی بھارت کو سپورٹ کے نتیجے میں خطے کو ہونے والے نقصانات کے حوالے سے بات چیت کرے گا اور امریکا سے یقین دہانی لے گا کہ وہ بھارت کو ایسا کرنے سے روکے؟ بھارت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو اپنی کامیابی گردان رہا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔

اس سارے معاملے میں پاکستان کو یہ کامیابی ہوئی کہ بھارت نے خود تسلیم کیا کہ کلبھوشن اس کا شہری ہے جو نہ صرف جاسوس ہے بلکہ اس کی نیوی کا افسر بھی ہے۔ قونصلر رسائی کوئی بڑا معاملہ نہیں، مجموعی طور پر اس کیس میں پاکستان کو فائدہ ہوا اور عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی کے پاکستانی موقف کی تائید ہوئی۔جسٹس تصدق جیلانی نے اختلافی نوٹ میں 3 اہم باتیں کیں۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی و سکیورٹی حوالے سے 2008ء کے معاہدے کا ذکر کیا اور اس کے آرٹیکل 76 پر بات کی۔

اس کے علاوہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد 1373 کا ذکر کیا جس میں ممالک نے دہشت گردی کے حوالے سے کووآرڈینیشن کرنی ہے۔ پھر انہوں نے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی بات کی کہ یہ جاسوس پر لاگو نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک اس سارے معاملے میں پاکستان کو زیادہ فائدہ ہوا۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے سربجیت سنگھ، کشمیر سنگھ، رویندرا کوشک وغیرہ بھی جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ رویندرا کوشک کراچی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر رہے تھے، انہوں نے یہاں شادی بھی کر رکھی تھی اور ان کا ایک بچہ بھی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا نیٹ ورک کس حد تک موجود ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کے جس کیفے میں بیٹھ کر کلبھوشن یادیو منصوبہ بندی کر رہے تھے میں نے انہی دنوں وہ کیفے بھی دیکھا۔ ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ تعلیمی ادارے میں داخلہ یا کسی بھی ادارے میں نوکری دیتے وقت مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ اس حوالے سے اداروں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔