یہ شہروں سے بازار........ دنیا کے 10سب سے بڑے شاپنگ مال

عتیق احمد عزمی  اتوار 15 ستمبر 2013
شہروں کی رونق کا اہم ترین حصہ اس کے وہ جگمگاتے بازار ہوتے ہیں۔   فوٹو: فائل

شہروں کی رونق کا اہم ترین حصہ اس کے وہ جگمگاتے بازار ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ شہروں کی رونق کا اہم ترین حصہ اس کے وہ جگمگاتے بازار ہوتے ہیں جہاں ہردم چہل پہل اور گہماگہمی رہتی ہے۔

درحقیقت بازاروں کی یہ رونق پورے شہر کا تعارف بن جاتی ہے، جہاں نہ صرف دنیا بھر سے لوگ خرید وفروخت کے لیے آتے ہیں بل کہ دنیا بھر کے مشہور زمانہ تجارتی اداروں کی موجودگی ملک کی ترقی اور روزگار میں اضافہ کا باعث بنتی ہے تعمیرات کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی اور آسانیوں کے باعث اب بلند وبالا عمارتیں تعمیر کرنا مشکل نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بلندوبالا عمارتوں کی تعمیر کے بعد اب سڑکوں اور تجارتی علاقوں پر پھیلے ہوئے بازاروں میں ایسی بلند اور وسیع رقبے پر پھیلی عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں جو اپنی انفرادی حیثیت میں مکمل بازار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دنیا بھر کے مال و اسباب سے سجی یہ عمارتیں ’’ شاپنگ مال‘‘ کہلاتی ہیں۔

زیر نظر تحریر میں دنیا کے دس سب سے بڑے ’’شاپنگ مالز‘‘ کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ شاپنگ مالز کی یہ درجہ بندی وہاں پر ہونے والے خرید وفروخت کے حجم کے بجائے ان کے کاروباری یا تجارتی سرگرمیوں کے لیے مختص ’’فلورز‘‘ یا دکانوں کے مجموعی رقبے کی بنیا د پر کی گئی ہے، جو مالکان کرائے پر دینے کے لیے مختص کرتے ہیں۔ ایسے رقبے کو ’’گراس لیزایبل ایریا‘‘ کہا جاتا ہے، جو کہ ایک مستند عالمی معیار ہے۔ دوسرے معنوں میں عمارت کا وہ تمام حصہ جسے کرائے پر نہ دیا جاسکے وہ گراس لیزایبل ایریا میں شامل نہیں کیا جاتا اور اس فہرست میں بھی شاپنگ مالز کے ایسے تمام رقبہ جات سے صرف نظر کی گئی ہے۔

گراس لیزایبل ایریا

(Gross Leasable Area)

کسی بھی تجارتی عمارت کا وہ رقبہ جو تجارتی سرگرمیوں کے لیے کرائے پر دینے کے لیے مختص کیا جائے اسے ’’گراس لیزایبل ایریا‘‘ کہا جاتا ہے، جو عموماً عمارت کے وسط سے بیرونی دیوار تک مربع فٹ میں ناپا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ معیار 1907سے قائم ’’بلڈنگ اونر اینڈ مینجرز ایسوسی ایشن‘‘ (BOMA)نے ’’امریکن نیشنل اسٹینڈرڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘(ANSI)کے ساتھ ملکر 1996میں وضع کیا تھا، جو اب دنیا بھر کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے تخلیق کردہ عمارتوں میں رائج ہے۔ امریکا اور کینیڈا میں پیمائش مربع فٹ اور دیگر ممالک میں مربع میٹر میں کی جاتی ہے اور مالکان اسی رقبے کی بنیاد پر تعمیراتی اخراجات کی لاگت فی مربع فٹ یا مربع میٹر میں نکال کر دیگر اخراجات کو شامل کرنے کے بعد کرائے کا تعین کرتے ہیں۔

نیوسائوتھ چائنا مال، چین

(New South China Mall)

مجموعی طور پر چھیانوے لاکھ مربع فٹ پر محیط نیو سائوتھ چائنا مال کا اکہتر لاکھ مربع فٹ رقبہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے وقف ہے اور اسی بنیاد پر ا س شاپنگ مال کو دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال قرار دیاگیا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے مختلف عالمی شہرت کی حامل کمپنیوں کی موجودگی کے باوجود نیو سائوتھ شاپنگ مال کا اٹھانوے فی صد کاروباری علاقہ یا فلورز ابھی تک کاروباری حضرات کی راہ تک رہے ہیں۔ محض دو فی صد رقبے پر آباد یہ شاپنگ مال چین کے جنوب میں واقع سمندر سے متصل صوبے ’’ گونگ ڈانگ‘‘ کے شہر ’’ڈونگ گونگ‘‘ میں واقع ہے۔

صنعتی اہمیت کے حامل اس شہر میں واقع شاپنگ مال کا افتتاح2005میں کیا گیا اپنے افتتاح کے وقت سے ہی یہ وسیع وعریض شاپنگ مال آباد ہونے کا منتظر ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2350 کاروباری جگہوں میں سے صرف47 اسٹورز یا جگہیں ابھی تک آباد ہوسکی ہیں۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے عمارتی اعدادوشمار پر نظر رکھنے والی مشہور فرم ’’ایمپورس‘‘ نے نیوسائوتھ شاپنگ مال کو ’’ ڈیڈ مال‘‘ کی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔ کھیتی باڑی کے لیے مختص زمین پر بنائے گئے اس شاپنگ مال کے مالکانہ حقوق ’’ڈونگ گونگ انویسٹمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی‘‘ کے پاس ہیں۔

محدود تجارتی سرگرمیوں کے برعکس اگر ہم شاپنگ مال کے ڈیزائن پر نظر ڈالیں تو مال کا شمار دنیا کی بہترین تجارتی تعمیرات میں کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ مال کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا جنہیں سات مختلف ثقافتوں یا علاقوں کی مناسبت سے ایمسٹرڈیم، پیرس، روم، وینس، مصر، کیریبین اور کیلی فورنیا سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مال کے درمیان میں پیرس کے مشہور زمانہ ٹاور ’’ قوس النصر‘‘ کی نقل بھی تعمیر کی گئی ہے۔ اسی طرح وینس شہر میں واقع ’’سینٹ مارک بیسلکا‘‘ کے ’’ بیل ٹاور‘‘ کی نقل بھی بنائی گئی ہے۔ مال کے اطراف پام کے درخت بھی لگائے گئے ہیں، جن کی تعداد دوسوبیس ہے، جب کہ دو کلومیٹر طویل مصنوعی نہر بھی مال میں تخلیق کی گئی ہے، جس کی کشتیوں میں بیٹھ کر خریدار سیروتفریح کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مال کی بیرونی دیوار کے ساتھ 553میٹر طویل ’’رولر کوسٹر‘‘ کی تفریح بھی فراہم کی گئی ہے۔ ان تمام سہولتوں کے باوجود ماہرین منصوبے کی ناکامی کی بنیادی وجہ ’’ڈونگ گونگ‘‘ شہر میں ہوائی اڈے کی عدم موجودگی اور کسی بڑی شاہراہ کا نیو سائوتھ چائنا مال کے اطراف میں نہ ہونا قرار دیتے ہیں۔

گولڈن ری سورس شاپنگ مال، چین

 (Golden Resources Shopping Mall)

چین کے دارالحکومت بیجنگ کی ’’فورتھ رنگ روڈ‘‘ پر واقع اس شاپنگ مال کا خریداری رقبہ ساٹھ لاکھ مربع فٹ پر محیط ہے، جس میں تقریباً ایک ہزار اسٹورز خریداروں کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود ہیں۔ 2004 میں تعمیر ہونے والے اس شاپنگ مال کی چھے منزلیں ہیں، جن میں دنیا بھر کے اہم تجارتی اداروں کے اسٹورز قائم ہیں۔ تاہم دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر میں واقع ہونے کے باوجود گولڈن ری سورس شاپنگ مال بھی ابھی تک خریداروں کی بھرپور توجہ حاصل نہیں کرسکا ہے۔

’’گریٹ مال آف چائنا‘‘ کے نام سے بھی مشہور اس مال کی ناکامی کی وجہ بتاتے ہوئے مشہور فاربس میگزین کا کہنا ہے کہ ’’غیرملکی خریداروں کے لیے انتہائی گنجان اور بے ہنگم ٹریفک والے علاقے میں واقع اس شاپنگ مال میں پہنچنا خاصا مشکل کام ہے۔‘‘

دل چسپ امر یہ ہے کہ خریداروں کے منتظر اس شاپنگ مال کی پہلی منزل پر واقع ’’اسکیٹنگ رنگ‘‘ اور بچوں کے تفریح سینٹر میں ہر وقت ہجوم رہتا ہے بیس ماہ میں مکمل ہونے والے گولڈن ری سورس شاپنگ مال کے انتظامی معاملات چین کا سرکاری ادارہ ’’نیو یانشا گروپ‘‘ دیکھتا ہے۔ اس گروپ کا تعلق چین کے ’’بیجنگ کیپٹل ٹورازم گروپ‘‘ سے ہے۔ تاہم شاپنگ مال کو عوام الناس میں پسندیدہ بنانے میں یہ گروپ ابھی تک ناکام نظر آتا ہے۔

ایس ایم سٹی نارتھ ، فلپائن

SM City North EDSA

فلپائن کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر ’’کیوزون‘‘ میں واقع ’’ایس ایم سٹی نارتھ EDSA‘‘ شاپنگ مال 1985میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کا رقبہ محض ایک لاکھ بیس ہزار مربع میٹر تھا، جو اب چھے مختلف مواقع پر تعمیر کے بعد چون لاکھ پینتیس ہزار مربع فٹ پر پھیل چکا ہے۔ کیوزن شہر جسے ’’ستاروں کا شہر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اسے اس شاپنگ مال کی تعمیر سے جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے بڑے شاپنگ مال کی موجودگی کا اعزاز حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کیوزون کے شہری اس شاپنگ مال کو شہر کے اندر ایک اور شہر قرار دیتے ہیں۔

شاپنگ مال کے مالک زمین کی خریدوفروخت کے کاروبار سے منسلک ارب پتی تاجر اٹھاسی برس کے ’’سر ہنری سے‘‘ ہیں اور ان کی ہی کمپنی ’’ایس ایم پرائم ہولڈنگ‘‘ شاپنگ مال کے تمام انتظامی معاملات کی ذمہ دار ہے تقریباً گیارہ سو اسٹورز اور چارسو کے لگ بھگ کھانے پینے کے ریسٹورنٹ پر مشتمل اس شاپنگ مال میں ایک معیاری سائز کا سوئمنگ پول بھی ہے، جب کہ فلپائن کا پہلا ’’آئی میکس تھیٹر‘‘ بھی اسی شاپنگ مال میں تعمیر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چار وسیع وعریض عمارتوں پر مشتمل ’’ایس ایم سٹی نارتھ EDSA‘‘ شاپنگ مال میں آمدورفت کے لیے عمارتوں کے مابین بیس نشستوں والی ’’رابط ٹرام‘‘ بھی رواں دواں رہتی ہے جس کی مثال دوسرے کسی شاپنگ مال میں نہیں ملتی ۔

اصفہان سٹی سینٹر، ایران

Isfahan City Center

ایران کے تاریخی شہر اصفہان میں واقع یہ شاپنگ مال اکیاون لاکھ مربع فٹ پر واقع ہے، جس میں سات سو پچاس سے زاید اسٹورز اور دکانیں ہیں2012میں تخلیق ہونے والا یہ شاپنگ مال چار مختلف مرحلوں میں مکمل ہوا ہے۔ شاپنگ مال میں فائیو اسٹار ہوٹل سمیت سات جدید تھری ڈی ٹیکنالوجی سے آراستہ سنیما کمپلیکس بھی ہیں، جب کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر، انٹرنیشنل ایگزی بیشن سینٹر اور انٹرنیشنل فنانس ایکس چینج سینٹر بھی تمام تر سہولتوں کے ساتھ موجود ہیں۔

واضح رہے کہ شاپنگ مال میں تعمیر کردہ انٹرنیشنل فنانس سینٹر اصفہان شہر کی سب سے بلند عمارت کا درجہ بھی رکھتی ہے ’’پرسٹیج لینڈ ایران کمپنی‘‘ کا تعمیر کردہ یہ شاپنگ مال اصفہان شہر کی مشہور رنگ روڈ سے متصل ’’واحد دست گردی ہائی وے‘‘ پر تخلیق کیا گیا ہے، جس کے پس منظر میں سوا دو ہزار میٹر بلند پہاڑ ’’کوہ صفہا‘‘ سیاحوں اور خریداروں کو متوجہ کرتا نظر آتا ہے۔ شاپنگ مال سے محض تین سو میٹر کی دوری پر ریلوے اسٹیشن کی موجودگی کے باعث اصفہان سٹی سینٹر ہر خاص و عام کی دسترس میں ہے۔ اصفہان سٹی سینٹر کی ایک اور خوبی یہاں پر موجود چونتیس ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا۔ امیوزمنٹ پارک بھی ہے جو بچوں اور بڑوں کے لیے تفریح کا اہم ذریعہ ہے۔ انتہائی خوش نما ڈیزائن میں تخلیق کردہ اس سینٹر میں تقریباً ساڑھے پانچ ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کی سہولت بھی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کرائے پر فراہم کی جانے والی یہ سہولت انتظامی امور چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اول اتاما شاپنگ مال، ملائیشیا

1 Utama Shopping Mall 

ملائیشیا اپنی بلندوبالا عمارتوں کے باعث دنیا بھر میں پہچان رکھتا ہے لیکن ریاست ’’سیلنگور‘‘ کے ضلع ’’پیتا لنگ‘‘ کے تجارتی علاقے ’’بندر اتاما‘‘ میں واقع ’’اول اتاما شاپنگ مال ‘‘بھی ملائیشیا کی شہرت میں اضافے کا باعث بن چکا ہے۔ پچاس لاکھ مربع فٹ پر کاروباری سرگرمیوں سے سجے اس شاپنگ مال کا پہلا حصہ 1995اور دوسرا حصہ 2003 میں تخلیق کیا گیا۔ مال میں لگ بھگ سات سو مختلف کمپنیوں کے اسٹورز ہیں۔

اتاما شاپنگ مال کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مال کا 98 فی صد حصہ کرائے پر دیا جاچکا ہے اور انتظامیہ کے مطابق یہاں روزانہ ساٹھ سے ستر ہزار خریدار آتے ہیں، جب کہ ہفتے کے اختتام پر یہ تعداد ایک لاکھ سے زاید ہوجاتی ہے۔ سال2006 میں ’’ریٹیل ورلڈ ایکسیلنس‘‘ کی جانب ’’سال کا بہترین شاپنگ کمپلیکس‘‘ کا اعزاز پانے والے اس شاپنگ مال میں سال دو ہزار چھے میں ایک تیس منزلہ آفس ٹاور اور 428کمروں پر مشتمل ہوٹل بھی شامل کیا گیا تھا، جس کے باعث شاپنگ مال کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا اور اب یہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے خریداروں کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے۔

پرشین گلف کمپلیکس، ایران

Persian Gulf Complex

ایران کے جنوب مغرب میں واقع تاریخی شہر ’’شیراز‘‘ جدید اور قدیم روایات کا امین ہے اس شہر میں تعمیر کیا گیا ’’پرشین گلف کمپلیکس‘‘ تقریباً پینتالیس لاکھ مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے 2006میں تعمیر کے لیے شروع کیا جانے والا یہ شاپنگ کمپلیکس ستمبر2011میں مکمل ہوا کمپلیکس کی تعمیر دبئی سے تعلق رکھنے والے ادارے ’’رائل اسٹار انٹرنیشنل گروپ‘‘ نے کی تھی پرشین گلف کمپلیکس میں ڈھائی ہزار سے زاید دکانیں یا اسٹورز ہیں، جس کے باعث شاپنگ کمپلیکس دکانوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر کے شاپنگ سینٹر میں سرفہرست ہے۔

فارس شاپنگ کمپلیکس کے نام سے بھی معروف اس شاپنگ مال میں 262کمروں پر مشتمل برج فارس ہوٹل، ان ڈور اور آئوٹ ڈور تیراکی کا تالاب، ٹینس کورٹ، کنونشن سینٹر، ہیلی پیڈ، دو امیوزمنٹ پارک، تین منزلہ بلیئرڈ ہال اور 240نشستوں والے چھے سنیما اسکرین اور تھیٹر کمپلیکس کا حصہ ہیں، جب کہ چار منزلیں تقریباً پچپن ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ شاپنگ کمپلیکس کے اندر فرانسیسی ہائپر مارکیٹ ’’کیری فور ‘‘ نے بھی اپنی تمام اشیا کی ورائٹی ایک مکمل شاپنگ مال کی شکل میں رکھی ہے۔ واضح رہے کہ ’’کیری فور‘‘ دنیا کی دوسری سب سے بڑی روزمرہ کی اشیاء فروخت کرنے والی کمپنی ہے۔ اس سہولت کے باعث پرشین گلف کمپلیکس کو خطے میں منفرد شاپنگ مال کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔

سینٹرل ورلڈ، تھائی لینڈ

Central World

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے علاقے ’’پتن وہام‘‘ میں واقع ’’سینٹرل ورلڈ شاپنگ پلازہ اینڈ کمپلیکس‘‘ کو سیاحوں اور خریداروں کی جنت کہا جاتا ہے تقریبا چھیالیس لاکھ مربع فٹ پر پھیلا ہوا یہ شاپنگ کمپلیکس 1990میں تعمیر کیا گیا تھا، جس کے بعد اس میں مستقل توسیع کی جاتی رہی ہے۔ واضح رہے کہ کمپلیکس کے انتظامی معاملات کمپلیکس کے مالکان کی کمپنی ’’سینٹر پاٹانا‘‘ کے ہاتھوں میں ہے جو تھائی لینڈ کا رئیل اسٹیٹ کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ 19مئی 2010 کی سیاسی ہنگامہ آرائی کے دوران آگ لگنے سے متاثر ہونے والے اس شاپنگ مال کا ابتدائی نام ’’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘‘ تھا، جسے2005 میں موجودہ نام میں تبدیل کیا گیا۔

انتہائی گنجان آباد علاقے میں واقع ہونے کے باوجود شاپنگ کمپلیکس کئی منفرد سہولتوں سے آراستہ ہے، جس میں سب سے اہم میدان کی شکل کا ’’سینٹر ل ورلڈ اسکوائر‘‘ ہے۔ آٹھ ہزار مربع میٹر پر محیط یہ کھلا میدان اہم ثقافتی سرگرمیوں کے لیے کرائے پر فراہم کیا جاتا ہے، جس میں سب سے اہم سال نو کی تقریب کا انعقاد ہے۔ اس کے علاوہ شاپنگ کمپلیکس کے چاروں جانب چھے رویہ سڑک جسے ’’سینٹر ورلڈ ایونیو‘‘ کہا جاتا ہے۔

شاپنگ کمپلیکس کو شہر کی اہم ترین سڑکوں سے ملانے کا اہم ذریعہ ہے۔ 600 سے زاید وسیع و عریض اسٹور اور دکانوں سے مزین اس شاپنگ کمپلیکس میں ہندوئوں کے دو مندر بھی تعمیر کیے گئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید انتظامیہ نے عوام کو تجارتی سرگرمیوں کے دوران مذہبی سرگرمیوں کو یاد رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مڈ ویلی میگا مال، ملائیشیا

Mid Valley Megamall

مڈ ویلی میگا مال ملائیشیا کے دارالحکومت اور کاروباری مرکز کوالالمپور میں واقع ہے، جس کا پینتالیس لاکھ مربع فٹ رقبہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے مختص ہے جہاں 430 سے زاید کمپنیوں کے اسٹورز اور دکانیں مصروف کاروبار ہیں۔ 20 نومبر 1999میں افتتاح ہونے والے اس میگا مال کے انتظامی معاملات ملائیشیا کے مشہور تجارتی گروپ ’’آئی جی بی گروپ‘‘ کے ہاتھوں میں ہے۔ مڈ ویلی میگا مال میں اڑتالیس ہزار مربع فٹ پر محیط کنونشن سینٹر اور 646 کمروں پر مشتمل ’’سٹی ٹیل مڈ ویلی‘‘ بزنس ہوٹل بھی تعمیر کیا گیا ہے، جہاں سال بھر بین الااقوامی تجارتی کمپنیوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ میگا مال کے اندر دو سپر مارکیٹ بھی ہیں جہاں ضرورت کی ہر شے دست یاب ہے۔

میگا مال کے ایک حصے میں بچوں کے لیے ونڈر ورلڈ بھی تخلیق کیا گیا ہے، جہاں خریداروں کے بچے آسان نرخ پر تفریح کرسکتے ہیں۔ مڈویلی میگامال کی ایک خوبی اس کا بذریعہ پل دوسرے شاپنگ مال ’’دی گارڈن‘‘ سے منسلک ہونا ہے۔ مڈویلی میگا مال کی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے یہ سہولت جو ’’بلیو وارڈسڑک‘‘ کے اوپر سے دوسرے شاپنگ مال میں جاتے ہوئے خریداروں کو میسر ہے۔ میگا مال کی مقبولیت کا اہم وجہ قرار دی جاتی ہے۔

استنبول کیواہر شاپنگ اینڈ انٹرٹینمنٹ سینٹر، ترکی

Istanbul Cevahir

براعظم یورپ اور ایشیا میں اپنی سرحدیں پھیلائے رکھنے والا برادر ملک ترکی کا یہ شاپنگ سینٹر بھی رقبے میں ملائیشیا کے مڈویلی میگا مال کے بالکل برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دس بڑے شاپنگ مال کی فہرست میں ان دونوں کی درجہ بندی آٹھ پر کی گئی ہے۔ تاہم افتتاح کی تاریخ کے لحاظ سے اسے نواں درجہ دیا جاتا ہے۔ ترکی کے عظیم اور تاریخی شہر استنبول کے ضلع ’’ شیشلی‘‘ میں واقع اس شاپنگ سینٹر کا افتتاح 15 اکتوبر 2005 میں ہوا۔ پینتالیس لاکھ مربع فٹ پر محیط یہ شاپنگ اینڈ انٹرٹینمنٹ سینٹر دنیا بھر سے آئے ہوئے خریداروں کی پسندیدہ جگہ ہے، جہاں ان کا سال بھر رش لگا رہتا ہے۔

بیس منزلوں پر مشتمل اس شاپنگ مال میں 343 اسٹورز ہیں، جب کہ بارہ سنیما، تھیٹر، رولر کوسٹر اور بچوں کے تفریح مقام بھی ہیں۔ واضح رہے کہ شاپنگ مال کے مالکانہ حقوق برطانیہ کے ’’سینٹ مارٹن پراپرٹی گروپ‘‘ کے پاس ہیں، جب کہ انتظامی معاملات مشہور یورپی ادارے ’’جونز لینگ لا سیلا‘‘ کے ہاتھوں میں ہیں ’’استنبول کیواہر شاپنگ مال اینڈ انٹرٹینمنٹ سینٹر‘‘ کا ایک امتیازی وصف یہ بھی ہے کہ اس کی چھت پر دنیا کی دوسری سب سے بڑی گھڑی آویزاں ہے۔ 36 میٹر کے قطر پر محیط اس گھڑی کی سوئیاں تین میٹر طویل ہیں۔

سن وے پیرامڈشاپنگ مال، ملائیشیا

Sunway Pyramid

مصر کا تعارف اہرام مصر ہیں۔ اس تعارف کا ایک اظہار ملائیشیا میں اس طرح کیا گیا ہے کہ ریاست ’’سیلنگور‘‘ کے تجارتی علاقے ’’سبنگ جایا‘‘ میں اہرام مصر کے انداز میں تراشا ہوا وسیع و عریض شاپنگ مال تخلیق کیا گیا ہے۔ 1997میں پہلے مرحلے اور پھر2007 میں دوسرے مرحلے میں تخلیق کیا گیا۔ یہ شاپنگ مال بیالیس لاکھ مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے۔

ماضی میں لے جانے والی قدیم مصری تحریروں سے مزین شاپنگ مال کی اندرونی دیواریں کے درمیان تقریبا آٹھ سو سے زائد وسیع و عریض اسٹورز اور دکانیں موجود ہیں، جہاں دنیا بھر کی اشیاء دست یاب ہیں۔ شاپنگ مال کا سب سے خوب صورت حصہ اس کا داخلی راستہ ہے، جہاں شیر کا ایک بہت بڑا اور اونچا چہرہ تراشا گیا ہے جسے نہ صرف سیاح دیکھنے جوق درجوق آتے ہیں بل کہ شاپنگ مال میں آنے والے خریدار بھی اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔